بحث زیارت قبور کے لیے سفر کرنا
[۱]بزرگان دین کے عرس اور قبور کی زیارت کے لیے سفر کرنا جائز ہے اور باعث ثواب ہے۔
[۲]سفر کا حکم اس کے مقصد کی طرح ہے۔ یعنی حرام کام کے لیے سفر کرناحرام ہے ،جائز کے لیے جائز اور سنت کے لیے سنت ہے۔ فرض کے لیے فرض ہے۔ فرض حج کے لیے سفر فرض ہے۔ روضۂ مصطفیٰﷺ کی زیارت کے لیے سفر واجب ہے۔ جہاد و تجارت کے لیے سفر سنت ہے کیوں کہ یہ کام خود سنت ہیں۔ دوستوں سے ملاقات ،شادی کی تقریبات اور علاج کرانے کے لیے سفر کرنا جائز کیوں کہ یہ چیزیں خود جائز ہیں۔ چوری ڈکیتی کے لیے سفر حرام کیوں کہ یہ کام خود حرام ہیں۔ غرض یہ کہ سفر کاحکم معلوم کرنا ہو تو اس کے مقصد کا حکم دیکھ لو۔ زیارت قبر سنت ہے لہٰذا اس کے لیے سفر بھی سنت ہی میں شمار ہوگا۔
[۳] اولیاء اللہ روحانی طبیب ہیں۔ ان کے قرب میں بے شمار فیوض و برکات کا حصول ہوتا ہے۔ اِن کے مزارات پر دعا جلد قبول ہوتی ہے۔ عبادات میں ذوق پیدا ہوتا ہے۔
[۴] امام شافعی رضی اللہ عنہ فرماتے ہیں :’ میں امام اعظم ابوحنیفہ رضی اللہ عنہ سے برکت حاص کرتا ہوں اوران کی قبر پر آتا ہوں اگر مجھے کوئی حاجب درپیش ہوتی ہے تو دورکعتیں پڑھتا ہوں اور ان کی قبر کے پاس جا کر اللہ تعالیٰ سے دعا کرتا ہوں تو جلد حاجت پوری ہوتی ہے۔‘
[۵]اس سے چند امور ثابت ہوئے:
۱۔زیارت قبور کے لئےسفر کرنا۔ کیوں کہ امام شافعی رحمۃ اللہ علیہ اپنے وطن فلسطین سے بغداد آتے تھے۔
۲۔امام ابوحنیفہ رضی اللہ عنہ کی قبر کی زیاررت کے لیے صاحب قبر سے برکت حاصل کرنا۔
۳۔ ان کی قبر کے پاس جا کر دعا کرنا۔
۴۔ صاحب قبر کو حاجت کے پورا کرنے کا ذریعہ جاننا۔
[۶]سفر عرس و زیارت پر اعتراضات و جوابات
۱-اعتراض :مشکوٰۃ شریف کی حدیث ہے: فرمان مصطفیٰﷺ ہے ’تین مسجدوں کے سوا اور کسی طرف کا سفر نہ کیاجائے۔ مسجد بیت اللہ ،مسجد بیت المقدس اور میری یہ مسجد (یعنی مسجد نبوی)۔ اس حدیث سے معلوم ہوا ان تین مسجدوں کے علاوہ کسی طرف سفر جائز نہیں اور زیارت قبور بھی ان تینوں کے سواہے۔
جواب: اس حدیث کا یہ مطلب ہے کہ ان تین مسجدوں میں نماز کا ثواب زیادہ ملتا ہے چنانچہ مسجد بیت الحرام میں ایک نیکی کا ثواب ایک لاکھ کے برابر ، مسجد بیت المقدس اور مدینہ پاک کی مسجد میں ایک نیکی کا ثواب پچاس ہزار کے برابر ہے۔ لہٰذا ان مساجد میں
بہ نیت دور سے آنا چوں کہ فائدہ مند ہے جائز ہے لیکن کسی اور مسجد کی طرف سفر کرنا یہ سمجھ کر کہ وہاں ثواب زیاد ملتا ہے محض لغو اور ناجائز کیوں کہ ہر جگہ کی مسجد میں ثواب یکساں ہے جیسے بعض لوگ دہلی کی جامع مسجد میں جمعۃ الوداع پڑھنے کے لیےسفر کرکے جاتے ہیں یہ سجھ کر کہ وہاں ثواب زیادہ ہوتا ہے یہ ناجائز ہے تو سفرکرنا کسی مسجد کی طرف اور پھر زیادتی ثواب کی نیت سے منع ہے۔