بزرگان دین کا عرس

[۱]کسی بزرگ کی یاد مَنانے کے لیے اور ان کو ایصال ثواب کرنے کے لیے ان سے محبت کرنے والوں اور مریدین وغیرہ کا ان کی یوم وفات پر سالانہ اجتماع ’عرس‘ کہلاتا ہے۔ ایسا کرنا شرعاً جائز و مستحسن اور اجرو ثواب کا ذریعہ ہے۔

[۲]بزرگانِ دین کے اعراس میں ذکرُ اللہ ،نعت خوانی اور قرآنِ پاک کی تلاوت اور اس کے علاوہ دیگر نیک کام کرکے ان کو ایصال ثواب کیا جاتا ہےاور ایصال ثواب کرنا شرعاً جائز و مستحسن ہے۔ 

[۳]مزارات پر حاضری دینا زمانۂ قدیم سے مسلمانوں میں رائج ہے بلکہ خود رسول اللہ ﷺ ہر سال شہدائے اُحد کے مزارات پر تشریف لاتے تھے۔ علامہ ابنِ عابدین شامی رحمۃ اللہ تعالیٰ علیہ لکھتے ہیں کہ ابن ابی شیبہ نے روایت کیا ہے کہ حضور سید عالم ﷺ شہدائےاُحد کے مزارات پر ہر سال کے شروع میں تشریف لے جایا کرتے تھے اور چاروں خلفا بھی ایسا ہی کرتے تھے۔

[۴]اولیاء اللہ رَحمھم اللہ تعالیٰ کے مزارات پر جانا باعثِ برکت اور رفعِ حاجات کا ذریعہ ہے۔ اس لیے بزرگانِ دین کا یہ طریقہ رہا ہے کہ وہ اولیائے کرام کی قبور پر جاتے اور اللہ عزو جل کی بارگاہ میں اپنی حاجات کے لیے دعا کرتے جیسا کہ علامہ ابن عابدین شامی رحمۃ اللہ علیہ اس بارے میں امام شافعی رضی اللہ تعالیٰ عنہ سے نقل فرماتے ہیں:’ میں امام اعظم ابو حنیفہ رضی اللہ عنہ سے برکت حاصل کرتا ہوں اور ان کی قبر پر آتا ہوں اگر مجھے کوئی حاجت درپیش ہوتی ہے تو دو رکعت پڑھتا ہوں اور ان کی قبر کے پاس جا کر اللہ تعالیٰ سے دعا کرتا ہوں تو جلد حاجت پوری ہو جاتی ہے۔‘

[۵]تاریخ یا دن مقرر کرکے عرس کا انعقاد کرنے کے مندرجہ ذیل فوائد حاصل ہوتے ہیں

۱۔لوگوں کے جمع ہونے میں آسانی ہوتی ہے۔

۲۔ لوگ اجتماعی طور پر قرآن خوانی، ذکر اذکار کرتے ہیں۔ جتنا بڑا مجمع ہوگا اُس کی اُتنی ہی بڑی فضیلت ہے۔

۳۔ ایک پیر کے مریدین اس تاریخ میں اپنے پیر بھائیوں سے آسانی سے مل لیتے ہیں، جس سے ایک دوسرے کے حالات سے واقفیت ہوتی ہے اور آپس میں محبت بڑھتی ہے۔

۴۔ لوگوں کو پیر و مرشد تلاش کرنے میں آسانی ہوتی ہے اور کسی عرس میں جائیں تو وہاں مختلف جگہ کے بزرگانِ دین کی زیارت ہوتی ہے۔ ان میں سے جس سے عقیدت ہو تو اُن سے بیعت کی جا سکتی ہے۔

[۶]عرس کے موقع پر کچھ جگہ ہونے والے غیر شرعی کاموں پر ہونے والے اعتراضات اور ان کا جواب :

۱۔ عورتوں اور مردوں کااختلاط۔ غیر شرعی اُمور ہرجگہ ناجائز ہے۔ یہ اگر عرس کے علاوہ بھی ہوں تو بھی ناجائز ہیں۔ ان خرافات سے دور رہنا چاہیے اور جہاں تک ممکن ہو،دوسرے مسلمانوں کو بھی اس سے بچانا چاہیے۔ لیکن کسی مسنون یا جائز کام میں حرام چیزوں کے ملنے سے اصل حلال کام حرام نہیں ہو جاتا ہے۔ اس بابت علامہ شامی رحمۃ اللہ علیہ اپنی کتاب شامی میں لکھتے ہیں:’زیارت قبور اس لیے نہ چھوڑ دے کہ وہاں ناجائز کام ہوتے ہیں جیسے کہ عورت مرد کا اختلاط۔ کیوں کہ ان جیسی ناجائز باتوں سے مستحبات نہیں چھوڑے جاتے بلکہ انسان پر ضروری ہے کہ زیارات قبور کرے اور بدعت کو روکے۔ اس کی تائید اس مسئلےسے ہوتی ہے کہ جنازے کے ساتھ جانا نہ چھوڑے اگرچہ اس کے ساتھ نوحہ کرنے والیاں ہوں۔‘ فتح مکہ سے پہلے خانہ کعبہ میں بت تھے اور کوہ صفا ومروہ پر بھی بت تھے مگر بتوں کی وجہ سے مسلمانوں نے نہ تو طواف چھوڑا اور نہ عمرہ۔

۲۔ قوالی اور ناچ رنگ ۔قوالی جو آج کل عام طور پر رائج ہے جس میں گندے مضامین کے اشعار گائے جاتے ہیں اور فاسق اور نو عمر لڑکوں کا اجتماع ہوتا ہے اور محض آواز پر رقص ہوتا ہے یہ واقعی حرام ہے۔ لیکن اگر کسی جگہ تمام شرائط سے قوالی ہو، گانے والے اور سننے والے اہل ہوں تو اس کو حرام نہیں کہہ سکتے کہ بڑے بڑے صوفیائے کرام نے خاص قوالی کو اہل کے لیے جائز فرمایااور نااہل کو حرام ۔