مزارات پر پھول ڈالنا، چادر چڑھانا، چراغاں کرنا
[۱]پھول ڈالنا:علمائے اہل سنت کا فرمان ہے کہ پھول ڈالنا تو ہر مومن کی قبر پر جائز ہے خواہ ولی اللہ ہو یا گنہ گار ۔ وجہ اس کی یہ ہے کہ تَر پھول میں چوں کہ زندگی ہوتی ہے اس لیے وہ تسبیح و ذکر خدا کرتا ہے ،جس سے میت کو فیض حاصل ہوتا ہے یاس کے عذاب میں کمی ہوتی ہے۔ زائرین کو خوشبو حاصل ہوتی ہے۔ اس کی اصل وہ حدیث ہے کہ ایک بار حضور اقدسﷺ کا گزر دو قبروں پر ہوا۔ آپ نے فرمایا کہ دونوں میتوں کو عذاب ہورہا ہے۔ ان میں ایک تو پیشاب کی چھینٹوں سے نہیں بچتا تھا اور دوسرا چغلی کرتا تھا۔ پھر آپ ﷺ نے ایک تَر شاخ لی اس کے دو حصے کیے اور پھر ایک قبر پر ایک حصہ گاڑ دیا۔ لوگوں نے عرض کیا کہ آپ نے ایسا کیوں کیا؟ فرمایا: 'جب تک یہ خشک نہ ہوں تب تک ان کے عذاب میں کمی رہے گی'۔ کہا گیا ہے کہ اس لیے عذاب کم ہوگا کہ جب تک تَر رہیں گے تسبیح پڑھیں گے۔
[۲]اس حدیث سے ایک جماعت دلیل پکڑتی ہے کہ قبروں پر سبزہ اور پھول ڈالنا جائز ہے۔ بعض متاخرین اصحاب نے اس حدیث کی وجہ سے فتویٰ دیا کہ پھول اور کھجور کی ٹہنی چڑھانے کی جو عادت ہے وہ سنت ہے۔
[۳] چادریں ڈالنا :اولیاء اللہ ،علما و صلحا ءکی قبور پر چادر چڑھانا جائز ہے کیوں کہ اس سے صاحب مزار کی تعظیم و عظمت کا اظہار ہوتا ہے جب کہ عوام کی قبور پر چادریں ڈالنا ناجائز ہے کیوں کہ یہ بے فائدہ ہے۔
[۴]قبر پر چراغ جلانا :اس میں تفصیل یہ ہے کہ عام مسلمانوں کی قبر پرتو بلا ضرورت ناجائز ہے اور ضرورت ہے تو جائز۔ مثلاً
۱-رات میں مردے کو دفن کرنا ہے ،روشنی کی ضرورت ہے تو جائز ہے۔
۲-قبر راستے کے کنارے پر ہے تو اس لیے چراغ جلا دینا کہ کسی کو ٹھوکر نہ لگے۔
۳-اس لیے چراغ جلایا کہ لوگ انتقال کی خبر پا کر آئیں گے اور فاتحہ و ایصال ثواب کے لیے آئیں گے، جائز ہے۔
۴-کوئی شخص رات میں کسی مسلمان کی قبر پر جا کر کچھ قرآن وغیرہ دیکھ کر پڑھنا چاہتا ہے اس کے لیے وہ روشنی وغیرہ کرلے تو یہ جائز ہے۔
اوپر ذکر کی گئی کوئی بھی ضرورت نہیں ہے تو چراغ جلانا فضول خرچی اور اسراف ہے۔
[۵]اولیاء اللہ کے مزارات پر اوپر ذکر کی گئی کوئی بھی ضرورت نہ ہو تب بھی ایک چراغ یا ایک سے زیادہ جلانا سب جائز ہیں کیوں کہ اس سے صاحب مزار کی عظمت و شان کا اظہار ہوتا ہے۔
[۶]اولیاء اللہ اور ان کے مزارات شعائر اللہ یعنی اللہ تعالیٰ کے دین کی نشانیاں ہیں اور اللہ تعالیٰ نے قرآن مجید میں اس کے دین کی نشانیوں کی تعظیم کا حکم دیا ہے لیکن اس تعظیم کے لیے کیا طریقہ اپنایا جائے ،اِس میں کوئی قید نہیں لگائی ہے لہٰذا جس ملک میں اورجس زمانہ میں جو بھی جائز طریقۂ تعظیم کے لیے رائج ہے وہ کرنا جائز ہے۔ ان کی قبروں پرپھول ڈالنا، چادریں چڑھانا اور چراغاں کرنا سب میں ان کی تعظیم ہے لہٰذا جائز ہے۔