نورانیت و بَشَریّتِ مُصطفےٰ

[۱]نور و بشر ہونے کے اعتبار سے سرکار مدینہﷺ کے متعلق ہمارا عقیدہ یہ ہے کہ ہمارے مدنی آقا ﷺ نور بھی ہیں اور بشر بھی۔ یعنی حقیقت کے اعتبار سے نور اور صورت کے اعتبار سے بے مثل بشر ہیں۔

[۲]ایسا ہونا کہ کوئی نور بھی ہو ارو بشر بھی بالکل ممکن ہے۔ حضرت سیدنا جبرائیل علیہ السلام نوری مخلوق ہونے کے باوجود 

حضرت سیدتنا مریم رضی اللہ عنہا کے سامنے انسانی شکل میں جلوہ گر ہوئے تھے۔ جس کا ذکرکلام پاک میں درج ہے۔ 

[۳]سرکار مدینہﷺ کی بشریت کامطلقاً انکار کفر ہے۔ بلکہ اس میں شک کرنا بھی کفر ہے کیوں کہ آپ ﷺ کی بشریت قرآنِ مجید کی نصِ قطعی سے ثابت ہے۔ فرمانِ باری تعالیٰ ہے(ترجمہ) اور ہم نے تم سے پہلے جتنے رسول بھیجے سب مرد ہی تھے۔‘‘

[۴]سرکارِ مدینہﷺ کو اپنے جیسا بشرنہ کہے بلکہ خیر البشر یا افضل البشر یا سید بشر کہے۔ کیوں اپنے جیسا بشر کہنااہل ایمان کا طریقہ نہیں بلکہ کفار کا طریقہ ہے۔ یقیناً  آپ ﷺ بشر بھی ہیں لیکن آپ کی بشریت عام انسانوں کی طرح نہیں ہے۔

[۵]سرکار مدینہﷺ کو اپنے جیسا بشر کہناتحقیر کے ناپاک ارادے سے ہو تو یہ بلا شبہ کفرہے۔

[۶]سرکار مدینہﷺ کا نور ہونا قرآن پاک سے ثابت ہے۔ فرمانِ ربانی ہے:(ترجمہ) ’بے شک تمہارے پاس اللہ کی طرف سے ایک نور آیا اور روشن کتاب ‘اس آیت کی تفسیر میں عُلما ءفرماتے ہیں ’یہان نور سے مراد محمد ﷺ ہیں'۔

[۷]سرکارِ مدینہﷺ نے اپنے نور ہونے کا ذکر خود بھی فرمایا ہے۔ چنانچہ حضرت جابر بن عبد اللہ رضی اللہ عنہ فرماتے ہیں کہ میں نے عرض کی’یا رسول اللہ! میرے ماں باپ آپ پر قربان ! مجھے بتائیے کہ سب سے پہلے اللہ تعالیٰ نے کیا چیز بنائی؟ تو آپ ﷺ نے ارشاد فرمایا:اے جابر! بے شک بالیقین ،اللہ عزوجل نے تمام مخلوقات سے پہلے تیرے نبی کا نور اپنے نور سے پیدا فرمایا۔‘

[۸]آپﷺ کو بشر یا انسان یا ’یا محمد‘ یا ’اے ابراہیم کے باپ‘ یا اے بھائی وغیرہ برابری کے الفاظ سے یاد کرنا حرام ہے۔ کلام پاک میں ہے :(ترجمہ) رسول کے پکارنے کو ایسا نہ ٹھہرا لو جیسا کہ تم ایک دوسرے کو پکارتے ہو۔‘

[۹]ایک بشر اور سید البشر ﷺ کے درمیان کتنے درجے کا فرق ہے ملاحظہ فرمائیے:

(۱) بشر پھر (۲) شہید (۳)متقی (۴) ولی (۵) ابدال (۶) اوتاد (۷)قطب (۸) غوث (۹) غوث الاعظم (۱۰) تابعی (۱۱) صحابی

 (۱۲) مہاجر (۱۳) صدیق (۱۴) نبی (۱۵) نبی پاک سید المرسلینﷺ

[۱۰]سرکار مدینہﷺ ایمان، عبادات، معاملات غرض یہ کہ کسی شے میں ہم جیسے نہیں ہیں۔ہر بات میں فرق عظیم ہے۔

'ا'- حضور علیہ السلام کا کلمہ ہے ’انا رسول اللہ ‘ ترجمہ :میں اللہ کا رسول ہوں۔ اگر ہم یہ کہیں تو کافر ہو جائیں گے۔

'ب'-حضور کا ایمان دیکھی ہوئی چیزوں پر ہے کہ آپ نے اللہ تعالیٰ کا دیدار کیا، جنت و دوزخ کو ملاحظہ فرمایا، ہمارا ایمان سُنا ہوا ہے۔ 

'پ'-ہمارے لیے ارکان اسلام پانچ ہیں جبکہ حضور علیہ السلام کے لیے چار ہیں۔ یعنی آپ پر زکوٰۃ فرض نہیں۔

'ت'-ہم پر پانچ نمازیں فرض ہیں جبکہ حضور پر چھ یعنی تہجد بھی فرض۔

'ث'-ایک مرد کو چار بیویوں کی اجازت ہے جبکہ حضور کے لیے کوئی پابندی نہیں۔

'ج'-شوہر کے مرنے کے بعد بیویاں دوسرا نکاح کر سکتی ہیں مگر حضور علیہ السلام کی ازواج پاک سب مسلمانوں کی مائیں ہیں کسی کے نکاح میں نہیں آسکتی ہیں۔ 

'چ'-ہمارے مرنے کے بعد ہماری میراث تقسیم ہوگی جبکہ حضور کی میراث نہیں تقسیم ہوگی۔

'ح'-ہمارا پیشاب پائخانہ ناپاک ہے جبکہ حضور کے فضلات شریفہ اُمت کے لیے پاک۔

'خ'-ہمارے ظاہری اعضاء کو حضور علیہ السلام کے اعضائے مبارکہ سے کوئی نسبت نہیں۔ آپ ﷺ کے منہ کا لعاب شریف کھاری کنویں میں پڑے تو پانی کو میٹھا کردے۔ حضرت جابر رضی اللہ عنہ کی ہانڈی میں پڑ کر کھانے میں برکت پیدا کردے۔ 

حضرت صدیق اکبر رضی اللہ عنہ کے پاؤں میں پہنچ کر سانپ کے زہر کو دفع کردے۔

'د'-ہمارے ہر عضو کا سایہ حضور علیہ السلام کے کسی عضو کاسایہ نہیں۔ پسینہ پاک مُشک و عنبر سے بہتر خوشبو۔

[۱۱]نورِ مصطفےٰ کی عمر مبارک:

'ا'-حضرت ابوہریرہ رضی اللہ عنہ سے روایت ہے، حضور ﷺ نے حضرت جبرائیل علیہ السلام سے دریافت فرمایا:

آپ کی عمر کتنے سال ہے؟ عرض کیا: یا رسول اللہ اس کے سوا کچھ نہیں جانتا کہ چوتھے حجاب عظمت میں ہر سترہزار برس کے بعد ایک ستارہ طلوع ہوتاہے جسے میں نے اپنی عمر میں بہترہزار مرتبہ دیکھا ہے، حضور ﷺ نے فرمایا: اے جبرائیل !میرے رب کی عزت کی قسم وہ س تارہ میں ہوں۔‘‘

'ب'-حضرت علی رضی اللہ عنہ سے روایت ہے، نبی پاک ﷺ نے ارشاد فرمایا: میں پیدائش آدم علیہ السلام سے چودہ ہزار برس پہلے اپنے رب کے حضور میں ایک نورتھا۔