ندائے یا رسول اللہ ﷺ
[۱]ہمارے نبی پاک ﷺ کو دوریا نزدیک سے پکارنا جائز ہے۔ آپ کی ظاہری زندگی پاک میں بھی اور بعد وفات شریف بھی۔ چاہے ایک ہی شخص یوں عرض کرے ’یارسول اللہ، یا نبی اللہ ‘ یا ایک جماعت مل کر یوں نعرۂ رسالت لگائے ’یا رسول اللہ ‘ہر طرح جائز ہے۔ دلائل
[۲]قرآن مجید سے ثبوت:قرآن کریم میں بہت سے مقامات پر اللہ تعالیٰ نے حضور ﷺ کو نداء فرمائی ’یٰایُّھا النَّبی ‘،’یٰاایُّھَاالرَّسولُ‘و غیرہ۔ ان تمام آیات میں حرفِ نداء ’یا‘ کے ساتھ حضور ﷺ کو خطاب فرمایا ہے۔
[۳]حدیث مبارک : صحیح مسلم شریف میں ہے کہ جب حضور ﷺ ہجرت فرما کر مدینہ پاک میں داخل ہوئے تو ’عورتیں اور مرد چھتوں پر چڑھ گئے اور بچے اور غلام گلی کوچوں میں متفرق ہوگئے۔ نعرہ لگاتے پھرتے تھے ’یا محمد یا رسول اللہ ‘
[۴]ہر نمازی نماز کی دو رکعت پر ’التحیات‘ پڑھتا ہے۔ جس کا پڑھنا واجب ہے۔ التحیات میں نمازی اپنے نبی کریم ﷺ سے عرض کرتا ہے: السلام علیک ایّھا النبی و رحمۃ اللہ و برکاتہ‘ ترجمہ ’سلام آپ پر اے نبی اور اللہ کی رحمت اور اس کی برکتیں۔
[۵]جب کوئی شخص روضہ اقدس مدینہ منورہ میں حاضر ہو تو وہاں کیے جانے والے سلام کے الفاظ جو معتبر پرانی کتابوں میں درج ہیں، اُن کا ترجمہ یہ ہے ’اے نبی آ پ پر سلام ہو‘ اس میں حرف ندا ’یا‘ کے ساتھ نبی پاک کو خطاب کیا گیا ہے۔
[۶]حضرت امام اعظم ابوحنیفہ رحمۃ اللہ علیہ اپنے قصیدہ نعمان میں فرماتے ہیں ’یا سیدَ السّاداتِ ۔۔۔‘ ترجمہ ’اے پیشواؤ ں کے پیشوا۔۔۔‘‘ان اشعار میں حضورکو ’یا‘ سے ندا بھی کی گئی اور آپ سے امداد بھی طلب کی گئی ہے اور یہ ندا دور سے بعد وفات شریف کی گئی ہے۔
[۷]حضرت ابو بکر صدیق رضی اللہ عنہ کے زمانے میں نبوت کے جھوٹے دعویدار مسیلمہ کذاب کے خلاف مسلمانوں اور مرتدین کے درمیان جنگ یمامہ ہوئی جس میں مسلمانوں کا نعرہ ’یامحمداہ‘ تھا۔
[۸]حضرت عبداللہ بن عمر رضی اللہ عنہ کا پاؤں سوگیا، کسی نے کہا: انہیں یاد کیجیے جو آپ کو سب سے زیادہ محبوب ہیں۔ حضرت نے بلند آواز سے کہا ’یامحمداہ‘ فوراً پاؤں کھل گیا۔
[۹]عقیدہ :اہل سنت و جماعت کا یہ عقیدہ ہے کہ انبیائے کرام اپنے مزارات طیبہ میں زندہ ہیں انہیں روزی دی جاتی ہے۔ اس لحاظ سے ہمارے نبی پاک سید الانبیاء کو ’یا رسول اللہ‘ کہہ کر پکارا جاسکتاہے کہ اللہ تعالیٰ کی عطا سے آپ زندہ بھی ہیں اور فریاد کرنے والی یا والے کی فریاد سنتے بھی ہیں اور اللہ تعالیٰ کی عطا سے مدد کرنے پرقادر بھی ہیں۔
[۱۰]ندائے ’یا رسول اللہ ‘ پر کچھ لوگ اعتراض کرتے ہیں۔ اس پکارنے کو شرک قرار دیتے ہیں۔ ایسے لوگ بطور دلیل کلام پاک کی وہ آیات پیش کرتے ہیں جن میں کفار کااُن کے باطل معبودوں یعنی بتوں کو پکارنا ذکر کیا گیا ہے۔ حالاں کہ ان آیات کی تفسیر میں ہے کہ یہاں پکارنے سے عبادت کرنا مراد ہے۔ تو معلوم ہوا کہ غیر خدا کو معبود سمجھ کر پکارناشرک ہے اور کوئی جاہل سنّی بھی نبی پاک ﷺ کو معبود سمجھ کر نہیں پکارتا ہے۔ اور اگر اس کے یہ معنی لیےجائیں کہ کسی بھی غیر خدا کو پکارنا شرک ہے تو پھر اس شرک سے کوئی بھی نہیں بچے گا کیوں کہ ہم اپنی روز مرہ کی زندگی میں ایک دوسرے کو پکارتے ہیں۔