محبوبانِ خدا کا وسیلہ

[۱]انبیاءِ کرام و اولیائے عظّام سے توسّل کا مطلب یہ ہے کہ حاجتوں کو پورا کرنے اور مطالب کے حاصل ہونے کے لیے ان محبوب ہستیوں کو اللہ تعالیٰ کی بارگاہ میں وسیلہ اور واسطہ بنایاجائے کیوں کہ انہیں اللہ تعالیٰ کی بارگاہ میں ہماری نسبت زیادہ قُرب حاصل ہے، اللہ تعالیٰ ان کی دعا پوری فرماتا ہے اور ان کی شفاعت قبول فرماتاہے۔ ایسا کرنا شرعاً جائز ہے چاہے وہ دنیاوی زندگی میں ہوں یا وصال فرماگئے ہوں۔

[۲]قرآن مجید سے دلائل :

'ا'-اللہ تعالیٰ فرماتا ہے ’اے ایمان والو! اللہ سے ڈرو اور اس کی طرف وسیلہ ڈھونڈو‘۔اس آیت کی تفسیر میں ہے ’جان لو کہ اس آیت میں وسیلہ ڈھونڈنے کی صراحت ہے اس کے بغیر چارہ نہیں ہے۔ بغیر وسیلہ کے اللہ تعالیٰ تک پہنچناحاصل نہیں ہوتا ہے اور وسیلہ علمائے حقیقت اور مشائخ طریقت ہیں۔‘‘ (تفسیرروح البیان) 

'ب'-اللہ تعالیٰ فرماتا ہے ’اگر وہ اپنی جانوں پر ظلم کر بیٹھیں تو اے محبوب آپ کی بارگاہ میں آجائیں اور اللہ تعالیٰ سے معافی چاہیں اور رسول بھی ان کے لیے استغفار کریں تو اللہ تعالیٰ کو بخشنے والا مہربان پائیں گے۔

'پ'-قرآن پاک میں ہے ،ترجمہ: پھر سیکھ لیے آدم نے اپنے رب سے کچھ کلمے تو اللہ نے اس کی توبہ قبول کی بیشک وہی ہے بہت تو بہ قبول کرنے والا مہربان۔

اس آیت کی تفسیر میں  علامہ اسما عیل حقی رحمة الله عليه روح البیان میں فرماتے ہیں  ، ترجمه:حضور صلی اللہ علیہ وسلم سے مروی ہے حضرت آدم علیہ السلام نے اللہ عزوجل کی بارگاہ میں عرض کی: میری محمد صلی اللہ علیہ وسلم کے صدقے مغفرت فرما ۔ اللہ عزوجل نے فرمایا : تو نے محمد صلی اللہ علیہ وسلم کو کیسے جانا ؟ عرض کی جب تو نے مجھے پیدا کیا اور مجھ میں روح پھونکی ۔ جب میری آنکھیں کھلیں تو میں نے دیکھا عرش پر لکھا تھا "لا الہ الا الله محمد رسول الله ، تو میں جان گیا کہ محمد صلی اللہ علیہ وسلم مخلوق میں تیرے محبوب بندے ہیں اس لئے تو نے ان کا نام اپنے نام کے ساتھ ملایا ہے۔ اللہ عزو جل نے فرمایا:ہاں اور محمد ﷺ کے صدقے ان کی بخشش کر دی گئی۔

[۳]احادیث سے دلائل :

'ا'-سرکار ﷺ نے خود ایک نابینا شخص کو ایک دعا کے ذریعے وسیلہ کی تعلیم ارشاد فرمائی۔ چنانچہ ترمذی شریف میں حضرت عثمان بن حُنیف رضی اللہ  عنہ سے روایت ہے : ایک نابینا بارگاہِ رسالت میں حاضرِ خدمت ہوا اور عرض کی کہ آپ ﷺ اللہ تعالیٰ سے دعا کریں کہ وہ مجھے آنکھ والا کردے۔ حضور ﷺ نے فرمایا: اگر تو چاہے تو میں تیرے لیے دعا کروں اور اگر تو چاہے تو صبرکر کہ وہ تیرے لیے بہتر ہے۔ عرض کی کہ دعا فرمائیں۔ حضور ﷺ نے اسے حکم دیا کہ اچھا وضو کرو، دو رکعت نماز پڑھو اور یہ دعا کرو:’اے اللہ میں تجھ سے مانگتا ہوں اور تیری طرف محمد ﷺ کے وسیلہ سے توجہ کرتا ہوں جو نبی رحمت ہیں۔ یا رسول اللہ ! میں آپ کے وسیلے سے اپنے رب کی طرف اپنی اس حاجت میں توجہ کرتا ہوں تو اسے پوری فرمادے۔ اے اللہ  ﷻ ! میرے بارے میں حضور ﷺ کی شفاعت قبول فرما۔ راوی بیان فرماتے ہیں کہ وہ شخص جب آپ کے فرمانے کے مطابق دعا کرکے کھڑا ہوا وہ آنکھ والا ہوگیا۔ حدیث کی مستند کتابوں میں ہے کہ صحابۂ کرام نبی پاک کے پردہ فرمانے کے بعد بھی لوگوں کو اس پر عمل کی تعلیم دیا کرتے تھے۔ 

'ب'-حضرت انس بن مالک رضی اللہ عنہ سے مروی ہے کہ جب حضرت علی رضی اللہ عنہ کی والدہ محترمہ حضرت فاطمہ بن اسد رضی اللہ عنہا فوت ہوئیں تو حضور ﷺ نے اُن کے غسل ،کفن اور قبر کھودنے کا حکم دیا۔ جب دفن سے فارغ ہوئے تو یوں دعا کی:’اللہ عز وجل جو زندگی اور موت دیتا ہے، وہ زندہ ہے اسے موت نہیں ،اے اللہ! میری ماں فاطمہ بنت اسد کی مغفرت فرما۔ اس کی حجت اسے سکھا دے، اس  کی قبر وسیع فرما اپنے نبی کے توسل سے اور مجھ سے پہلے جو انبیاء علیہم السلام آئے ہیں ان کے توسل سے ، بے شک تو ارحم الراحمین ہے۔

'پ'- حضرت علی رضی اللہ تعالیٰ عنہ سے روایت ہے، رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا،ترجمہ: ابدال شام میں ہوں گے اور وہ چالیس ہیں، جب بھی ان میں سے ایک فوت ہو جاتا ہے تو اللہ تعالیٰ اس کی جگہ دوسرے شخص کو ابدال بنا دیتا ہے، ان کے وسیلہ سے بارش دی جاتی ہے، ان کی وجہ سے مدد کی جاتی ہے اور ان کے سبب اہل شام سے عذاب دور کیا جاتا ہے۔

'ت'- جب امام مالک رحمہ اللہ علیہ سے ابو جعفر منصور عباسی نے سوال کیا کہ اے ابو عبداللہ ! میں روضہ مبارک کی طرف منہ کر کے اور قبلہ کی طرف پیٹھ کر کے دعا کروں یا قبلہ کی طرف منہ کر کے؟ امام مالک رضی اللہ تعالیٰ عنہ نے فرمایا کہ تو حضور نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم سے منہ کیوں کر پھیرے گا کہ وہ تیرے اور تیرے باپ حضرت آدم علیہ السلام کے لئے قیامت والے دن رب تعالیٰ کی بارگاہ میں وسیلہ ہیں، بلکہ تو نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم کی طرف منہ کر کے دعا کر اور ان کی شفاعت طلب کر اللہ ان کی سفارش قبول فرمائے گا۔ اللہ تعالیٰ ارشاد فرماتا ہے: اگر وہ اپنی جانوں پر ظلم کر بیٹھیں تو اے محبوب آپ کی بارگاہ میں آجائیں اور اللہ تعالیٰ سے معافی چاہیں اور رسول بھی ان کے لیے استغفار کریں تو اللہ تعالیٰ کو بخشنے والا مہربان پائیں گے۔

'ث'- حضور غوث اعظم رضی اللہ تعالی عنہ نے ارشاد فرمایا ،ترجمہ: جب تم اللہ تعالیٰ سے کسی حاجت کا سوال کرو تو میرے وسیلےسے طلب کرو۔