اولیاء اللہ و انبیاء سے مدد مانگنا

[۱]انبیائے کرام علیہم الصلوٰۃ والسلام اور اولیاء اللہ سے مدد مانگنا بلا شبہ جائز ہے جب کہ عقیدہ یہ ہو کہ حقیقی امداد تو رب تعالیٰ ہی کی ہے اور یہ سب حضرات اس کی دی ہوئی قدرت سے مدد کرتے ہیں کیوں کہ ہر شے کا حقیقی مالک و مختار صرف اللہ تعالیٰ ہی ہے اور اللہ تعالیٰ کی عطا کے بغیر کوئی مخلوق کسی ذرہ کی بھی مالک و مختار نہیں ہوتی۔ اللہ تعالیٰ نے اپنی خاص عطا اور فضلِ عظیم سے اپنے پیارے حبیب ﷺ کو کونین کا حاکم و مختار بنایا ہے اور حضور ﷺ اور دیگرانبیائے کرام و اولیائے عظام اللہ تعالیٰ کی عطا سے (یعنی اس کی دی ہوئی قدرت سے) مدد فرما سکتے ہیں۔

[۲]قرآن مجید سےدلائل :

'ا'-اللہ تعالیٰ فرماتا ہے ’اے مسلمانو! تمہارا مددگار نہیں مگر اللہ اور اس کا رسول اور وہ ایما ن والے جو نماز قائم رکھتے اور زکوٰۃ دیتے اور وہ رکوع کرنے والے ہیں۔‘ 

'ب'-قرآن مجید میں ہے ’حضرت عیسیٰ علیہ السلام بولے کون میرے مددگار ہوتے ہیں اللہ کی طرف، حواریوں نے کہا ہم دینِ خدا کے مددگار ہیں ۔ 

اس میں فرمایا گیا کہ حضرت عیسیٰ علیہ السلام نے اپنے حواریوں سے خطاب کرکےفرمایا کہ میرا مددگار کون ہے؟ 

حضرت عیسیٰ علیہ السلام نے غیر اللہ سے مدد طلب کی۔

'پ'-قرآن مجید میں  ہے،ترجمہ : حضرت جبریل علیہ السلام نے حضرت مریم سے کہا: اے مریم،میں تمہارے رب کا قاصد ہوں 

آیا ہوں تا کہ تمہیں پاکیزہ فرزند دوں ۔

'ت'-قرآن مجید میں حضرت عیسی علیہ السلام کا یہ قول موجود ہے : ترجمہ: میں تمہارے لیے مٹی سے پرندے کی شکل بنا کر اس میں پھونکتا ہوں تو وہ خدا کے حکم سے پرندہ بن جاتی ہے۔ میں مادر زاد اندھوں اور کوڑھ کے مریضوں کو شفا دیتا ہوں اور مردوں کو زندہ

کرتا ہوں اللہ کے حکم سے۔

معلوم ہوا کہ حضرت عیسی علیہ السلام ,اللہ تعالیٰ کی عطا سے بے جان کو جان بخشنے والے، اندھوں کو آنکھیں عطا فرمانے والے اور کوڑھی کے مریضوں کو شفا دینے والے ہیں۔

'ث'-قرآن مجید میں ہے ترجمہ: ان کو اللہ اور اس کے رسول نے اپنے فضل سے غنی کر دیا۔

[۳]احادیث سے دلائل:

'ا'-حضرت ابن عباس رضی اللہ تعالی عنہ سے روایت ہے کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا ،ترجمہ: بھلائی اور اپنی حاجتیں ان لوگوں سے مانگو جن کے چہرے عبادت الہی سے روشن ہیں۔

'ب'-حضرت ابن عمر رضی اللہ تعالی عنہ سے روایت ہے کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم فرماتے ہیں ترجمہ: اللہ تعالی کے کچھ بندے ہیں کہ اللہ تعالی نے انہیں حاجت روائی خلق کے لئے خاص فرمایا ہے ، لوگ گھبرائے ہوئے اپنی حاجتیں ان کے پاس لاتے ہیں ، یہ بندے عذاب الہی سے امان میں ہیں ۔

'پ'-سیدنا ربیعہ بن کعب اسلمی رضی اللہ عنہ سے روایت ہے ’ میں حضور اقدس ﷺ کے پاس رات کو حاضر رہتا۔ ایک شب حضور کے لیے آبِ وضو وغیرہ ضروریات لایا۔ آپ ﷺ کا بحر رحمت جوش میں آیا۔ ارشاد فرمایا ’مانگ کیا مانگتا ہے کہ ہم تجھے عطا فرمائیں'۔ میں نے عرض کی :میں حضور سے سوال کرتا ہوں کہ جنت میں اپنی رفاقت عطا فرمائیں۔ فرمایا: کچھ اور؟ میں نے عرض کی: میری مراد تو صرف یہی ہے۔ فرمایا: تو میری اعانت کر اپنے نفس پر کثرت سجود سے۔ ‘

شیخ عبدالحق محدث دہلوی رحمۃ اللہ علیہ اس حدیث کے تحت فرماتے ہیں کہ ’مطلق سوال سے کہ آپ نے فرمایا:مانگ اور کسی خاص شے کو مانگنے کی تخصیص نہیں فرمائی۔ معلوم ہوتا ہے کہ تمام معاملہ آپ کے دست اقدس میں ہے جو چاہیں جسے چاہیں اللہ تعالیٰ کے اذن سے عطا فرما دیں۔‘

'ت'-حضرت عتبہ بن غزوان رضی اللہ عنہ سے روایت ہے، نبی اکرم ﷺ نے ارشاد فرمایا ’جب تم میں سے کوئی شخص  کسی چیز کو گم 

کردے یا اسے مدد کی حاجت ہواوروہ ایسی جگہ ہو جہاں کوئی ہمدم نہیں تو  اسے چاہیے یوں پکارے :اے اللہ کے بندو میری مدد کرو، اے اللہ کے بندو میری مدد کرو کہ اللہ کے کچھ بندے ہیں جنھیں یہ نہیں دیکھتا وہ اس کی مدد کریں گے۔ ‘

[۴] انبیائے کرام اور اولیاء اللہ سے جس طرح زندگی میں توسل کرنا اور مدد مانگنا جائز ہے اسی طرح ان کے وصال کے بعد بھی جائز ہے۔ چند دلائل ملاحظہ فرمائیں۔

'ا'-حضرت مالک الدار سے روایت ہے ،فرماتے ہیں ’حضرت عمر بن خطاب رضی اللہ عنہ کے دور میں لوگوں پر قحط پڑ گیا۔ ایک آدمی 

نبی پاک ﷺ کی قبر مبارک پر آیا اور کہا یا رسول اللہ! اللہ ﷻ سے اپنی اُمت کے لیے بارش طلب کریں کہ یہ ہلاک ہو رہے ہیں۔ رسول اللہ ﷺ اس آدمی کے خواب میں تشریف لائے اور فرمایا: عمر کو میرا سلام کہنا ور اسے خبر دینا کہ بارش ہوگی۔ ‘

'ب'-حضرت امام شافعی رحمۃ اللہ علیہ فرماتے ہیں جب مجھے کوئی حاجت پیش آتی ہے تو امام اعظم ابوحنیفہ رحمۃ اللہ علیہ کے مزار پر آتا ہوں اور ان کی برکت سے کام ہو جاتا ہے۔

'پ'- امام اعظم ابو حنیفہ رضی اللہ تعالی عنہ(قصیده نعمان میں)  سرور کائنات صلی اللہ علیہ وسلم کی بارگاہ میں فریاد کرتے ہیں،ترجمہ: اے تمام جن وانس سے زیادہ عزت والے ! اے مخلوق کے خزانے ! مجھے بھی اپنی بارگاہ سے عطا فرمائیے ، جیسے اللہ تعالیٰ نے آپ کو راضی کیا ہے، مجھے بھی راضی کیجئے ، میں آپ کی جود وسخاوت کا طلب گار ہوں مخلوق  میں آپ صلی اللہ علیہ وسلم سوا ابو حنیفہ کا کوئی نہیں۔

'ت'-حضرت ابی بکر بن ابوعلی فرماتے ہیں کہ میں طبرانی اور ابو شیخ رحمہم اللہ مدینہ میں رہا کرتے تھے، ہمارا خرچ ختم ہو گیا اور ہم تنگدستی کا شکار ہو گئے ، ایک دن عشاء کے وقت نبی کریم ﷺ کے روضہ پاک پر حاضر ہوئے اور عرض کی یا رسول اللہ ﷺ ہم بھوک سے نڈھال ہیں۔ امام طبرانی کہنے لگے بیٹھ جاؤ یا ہمیں کھانامل جائے گا یا موت آجائے گی۔ میں اور ابو شیخ اٹھ کر دروازے کے پاس آئے اور دروازہ کھولا تو دیکھا کہ ایک علوی اپنے دو غلاموں کے ساتھ تھا، وہ ٹوکرے میں بہت سی چیزیں لئے کھڑے تھے۔ علوی بولا تم نے رسول اللہ صلی اللہ علیہ والہ وسلم کے پاس شکایت کی ہے اور مجھے رسول اللہ صلی اللہ علیہ والہ وسلم نے خواب میں آکر تمہیں کچھ دینے کا حکم دیا ہے۔