حاضر و ناظر

[۱]حاضر کے لغوی معنی ہیں’موجود ، جو سامنے ہو‘ اور ناظر کے معنی ہیں ’دیکھنے والا‘ چنانچہ جہاں تک ہماری نظر کام کرے وہاں تک ہم ناظر ہیں اور جو جگہ ہماری پہنچ میں ہو کہ ہم وہاں تصّرف کرسکیں وہاں تک ہم حاضرہیں مثلاً  آسمان تک نظر کام  کرتی ہے، وہاں تک ہم ناظر ہیں مگر حاضر نہیں کیوں کہ وہاں تک ہماری پہنچ نہیں اور جس کمرے یا گھر میں ہم موجود ہیں وہاں حاضر ہیں کہ اس جگہ ہماری پہنچ ہے۔

[۲]عقیدہ: اہل سنت و جماعت کا عقیدہ ہےکہ  حضور اقدس ﷺ حاضر و ناظر ہیں۔ اس کے شرعی معنی یہ ہیں کہ اللہ ﷻ کی عطا سے سرکار مدینہ ﷺ اپنی قبرِ انور میں رہتے ہوئے نورِ نبوت سے اپنے ہر اُمتی کے ہر ہر عمل کا مشاہدہ فرما رہے ہیں۔ تمام عالم کو ایسے دیکھتے ہیں جیسے اپنے ہاتھ کی ہتھیلی کو دیکھتے ہیں۔ دور و نزدیک کی آوازیں سنتے ہیں، جہاں چائیں، جتنے مقامات پر چاہیں اللہ ﷻ کی عطا کردہ طاقت سے جلوہ گر ہوسکتے ہیں۔ ایک پل میں تمام عالم کی سیر کرسکتے ہیں۔ ہزاروں میل دور کسی  حاجت مند کی حاجت کو پورا کرسکتے ہیں۔ آپ کا یہ جہاں چاہیں اور جب چاہیں تشریف لے جانا روحانی بھی ہوسکتا ہے، قبر میں مدفون جسم کے ساتھ بھی ہوسکتا ہے۔ جسم اقدس کی مثل کسی دوسرے جسم کے ساتھ بھی ہوسکتا ہےاور کسی دوسری جگہ موجود جسم کے ساتھ بھی ہوسکتا ہے۔

[۳]سرکار مدینہ ﷺ اپنے جسم اقدس کے ساتھ ہر جگہ تشریف فرما نہیں ہیں بلکہ آپ ﷺ اپنی نورانیت، روحانیت اور علمیت کے اعتبار سے ہر جگہ اسی طرح موجود ہیں جس طرح سورج آسمان پر ہوتا ہے لیکن اپنی روشنی اور نورانیت کے ساتھ روئے زمین پر موجود ہوتا ہے۔ البتہ !اگر آپ ﷺ چاہیں تو جسم اقدس کے ساتھ جہاں چاہیں حاضر ہوسکتے ہیں۔

[۴]حاضر و ناظر پر کچھ دلائل:

'ا'-اللہ تعالیٰ قرآن مجید میں ارشاد فرماتاہے:’اے نبی! ہم نے تمھیں بھیجا گواہ اور خوشخبری دینے والا اور ڈر سنانے والا' ۔اس آیت کے تحت تفسیر روح المعانی میں ہے:یعنی ہم نے آپ کو اُن سب پر گواہ بنا کر بھیجا جن کی طرف آپ ﷺ رسول بنا کر بھیجے گئے۔ آپ ﷺ اِن کے اَحوال کےکو دیکھتے اور ان کے اعمال کا مشاہدہ فرماتے ہیں۔ جو کچھ بھی تصدیق و تکذیب ان سے صادر ہورہی ہے اس پر گواہ بن رہے ہیں، ہدایت و گمراہی میں سے جس پر بھی لوگ ہیں اس پر بھی آپ ﷺ گواہ ہیں اور یہ گواہی آپ ﷺ قیامت کے دن ادا فرمائیں گے جو اُمت کے حق میں بھی قبول ہوگی اور مخالفت میں بھی۔ اور یہ سب اسی وقت ہو سکتا ہے جب آپ ﷺ اعمال اُمت پر حاضر و ناظرہوں۔

'ب'-حضرت ابن عمر رضی اللہ عنہ سے روایت ہے، سرورِ کائنات ﷺ نے ارشاد فرمایا:’بے شک اللہ تعالیٰ نے میرے لیے زمین کو اُٹھا دیا، تو میں اس کو اور اس میں موجود ہر چیز کو قیامت تک دیکھ رہا ہوں، جیسا کہ اپنی اس ہتھیلی کو دیکھ رہا ہوں۔‘‘

'پ'-حضرت ابوہریرہ رضی اللہ عنہ سے روایت ہے ،نبی پاک ﷺ نے ارشاد فرمایا: ’تم کیایہی دیکھتے ہو کہ میرا منہ ادھر ہے؟ اللہ کی قسم نہ مجھ پر تمھارا خشوع پوشیدہ ہے اور نہ تمھارا رکوع۔ میں تمھیں پیٹھ کے پیچھے سے بھی دیکھتا ہوں۔‘‘

'ت' مدینہ منورہ سے بہت دور مقام موتہ میں جنگ ہو رہی تھی ، نبی کریم ﷺجنگ کی باتیں مدینہ منورہ میں اپنے صحابہ کو بتارہے ہیں ، حدیث کے راوی حضرت انس رضی اللہ تعالی عنہ فرماتے ہیں: نبی کریم صلی الله علیہ وسلم نے اس جنگ کرنے والے لشکر کے سپہ سالاروں حضرت زید ، حضرت جعفر ، حضرت ابن رواحہ کی شہادت کی خبر آنے سے پہلے ہی ان کی شہادت کی خبر اپنے صحابہ كرام عليهم الرضوان کو) مدینہ منوہ ہی میں ) دے دی ، فرمایا: اب زید نے جھنڈا پکڑا اور وہ شہید ہو گئے ، پھر جھنڈا جعفر نے پکڑ لیا اور وہ شہید ہو گئے ، پھر جھنڈا ابن رواحہ نے پکڑ لیا اور وہ شہید ہو گئے، حضور صلی اللہ علیہ وسلم یہ بتا بھی رہے ہیں اور آنکھوں سے آنسو بھی جاری ہیں ، ( پھر فرمایا: ) یہاں تک کہ جھنڈا اللہ کی تلوار خالد ابن ولید نے پکڑ لیا اور اللہ تعالیٰ نے ان کو فتح عطا فرمادی ۔

'ث'حضرت عقبہ بن عامر رضی اللہ تعالیٰ عنہ سے روایت ہے، نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے ارشادفرمایا: ترجمہ: اللہ کی قسم میں اپنے حوض کو اس وقت دیکھ رہا ہوں۔صحیح بخاری کی ایک اور حدیث کے الفاظ اس طرح ہیں  ترجمہ: میرے تمہارے وعدے ( ملاقات ) کی جگہ حوض کوثر ہے اور میں اسی جگہ سے اسے دیکھ رہا ہوں ، اور مجھے تم پر یہ خوف نہیں کہ تم شرک کرو گے لیکن مجھے تم پر یہ خوف ہے کہ تم دنیا کے مال کوایک دوسرے سے حاصل کرنے کی لالچ کرو گے۔

'ج' صحیح بخاری میں حضرت عبداللہ ابن عباس رضی اللہ تعالیٰ عنہا سے روایت ہے، فرماتے ہیں ترجمہ: رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کے دور میں سورج گرہن ہوا تو آپ ﷺنے نماز ادا فرمائی ، صحابہ کرام علیہم الرضون نے عرض کی: یا رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم ہم نے آپ کو دیکھا کہ آپ اپنے مقام پر کھڑے کھڑے کوئی چیز توڑ رہے ہیں، فرمایا: بے شک میں نے جنت کو ملاحظہ فرمایا اور اس میں سے ایک خوشہ پکڑا ، اگر میں یہ خوشہ لے آتا تو تم رہتی دنیا تک اسے کھاتے رہتے ۔

'ح'حضرت عمر رضی اللہ تعالی عنہ نے ایک لشکر (ایک مہینہ کی مسافت پر نہاوند ) بھیجا، اس پر حضرت ساریہ کو امیر بنایا، حضرت عمر رضی اللہ تعالیٰ عنہ نے دورانِ خطبہ منبر پر حضرت ساریہ کو پکارا : اے ساریہ پہاڑ کولو ، اے ساریہ پہاڑ کو لو۔ پھر جب اس لشکر سے قاصد آیا ، اس سے سوال کیا تو اس نے جواب دیا: اے امیر المؤمنین ! دشمن کی ہم سے لڑائی ہوئی ، وہ ہمیں شکست دینے لگا کہ اچانک ہم نے آواز سنی : اے ساریہ پہاڑ کولو، ہم نے اپنی پشتوں کو پہاڑ کی طرف کر لیا تو اللہ تعالیٰ نے انہیں شکست دے دی ۔

'خ' شیخ عبدالحق محدث دہلوی علیہ الرحمہ فرماتے ہیں: اس اختلاف و مذاہب کے باوجود جو علمائے امت میں ہے اس میں کسی کا اختلاف نہیں کہ حضور علیہ السلام حقیقی زندگی کے ساتھ بغیر تاویل و مجاز کے احتمال کے باقی و دائم ہیں اور امت کے اعمال پر حاضر و ناظر ہیں اور حقیقت کے طلب گاروں اور حاضرین بارگاہ کو فیض پہنچاتے اور ان کی تربیت فرماتے ہیں ۔