حیات انبیا علیہم السلام
[۱]انبیا علیہم السلام اپنی اپنی قبروں میں اُسی طرح بہ حیات (زندہ) ہیں جیسے دنیا میں تھے۔ کھاتے پیتے ہیں، جہاں چاہیں آتے جاتے ہیں۔ ایک پل کے لیے اُن پر موت طاری ہوتی ہے کیوں کہ یہ اللہ تعالیٰ کا فیصلہ تمام مخلوق کے لیے ہے مگر اس کے فوراً بعد زندہ ہو جاتے ہیں۔ اُن کی حیات شہدا کی حیات سے بہت اعلیٰ و ارفع ہوتی ہے۔
[۲]شہید کا ترکہ (مال وراثت) تقسیم ہوگا اور اُس کی بیوی عدت گزارنے کے بعد نکاح کر سکتی ہے مگر انبیائے کرام کے معاملے میں ایسا جائز نہیں۔
[۳]انبیائے کرام اپنی قبروں میں اپنی امتوں کے احوال و اعمال کا مشاہدہ فرماتے ہیں اور زمین و آسمان کی سلطنت میں اللہ تعالیٰ کی عطا سے تصرف فرماتے ہیں۔
[۴]حیات انبیا پر کچھ دلائل :
'ا'-اللہ تعالیٰ نے قرآن مجید میں ارشاد فرمایا:’اور جو اللہ کی راہ میں مارے گئے ہرگز انہیں مردہ نہ خیال کرنا بلکہ وہ اپنے رب کے پاس زندہ ہیں روزی پاتے ہیں۔ ‘
جب امت کا شہید زندہ ہے تو اُمت کا نبی تو بدرجۂ اولیٰ زندہ ہے۔
'ب'-حضرت ابودرداء رضی اللہ عنہ سے روایت ہے، رسول اللہ ﷺ نے ارشاد فرمایا: ’بےشک اللہ تعالیٰ نے زمین پر انبیا علیہم السلام کے اجسام کھانے کو حرام کر دیاہے، پس اللہ کا نبی زندہ ہے ،رزق دیا جاتا ہے۔‘
'پ'-حضرت انس رضی اللہ عنہ سےروایت ہے ،رسول اللہ ﷺ نے ارشاد فرمایا:’معراج کی رات میں موسیٰ علیہ السلام کے پاس سے گزرا وہ اپنی قبر میں نماز پڑھ رہے تھے۔۔پھر میں بیت المقدس میں داخل ہوا ،پس میرے لیے انبیا علیہم السلام کو جمع کیا گیا تو مجھے جبریل علیہ السلام نے آگے کیایہاں تک کہ میں نے سب کی امامت فرمائی۔‘
'ت'-حضرت ابن عباس رضی اللہ تعالیٰ عنہا سے روایت ہے، فرماتے ہیں: ترجمہ: رسول الله ﷺ وادی ارزق سے گزرے تو فرمایا: یہ کون سی وادی ہے، لوگوں نے عرض کیا : یہ وادی ارزق ہے، فرمایا: گویا کہ میں موسیٰ علیہ السلام کو دیکھ رہا ہوں کہ وہ گھاٹی میں اتر رہے ہیں ، آپ کو اللہ سے قرب ہے ، تلبیہ میں مشغول ہیں ، پھر حضور صلی اللہ تعالیٰ علیہ وسلم ہرشی کی گھاٹی پر تشریف لائے ،فرمایا: یہ کون سے گھاٹی ہے ، لوگوں نے عرض کیا کہ یہ ہرشی کی پہاڑی ہے ، فرمایا کہ گویا میں یونس علیہ السلام کو دیکھ رہا ہوں جو سرخ اونٹنی پر ہیں آپ پر اونی جبہ ہے آپ کے ناقہ کی مہار کھجور کی کھال کی ہے، تلبیہ کہہ رہے ہیں۔
'ث' ابونعیم نے دلائل النبوۃ میں سعید بن مسیب سے روایت کیا ہے وہ فرماتے ہیں کہ میں نے واقعہ حرہ کی راتوں میں اپنے آپ کو دیکھا حال یہ ہوتا تھا کہ میرے سوا مسجد میں کوئی نہیں ہوتا تھا ، جب بھی نماز کا وقت آتا میں نبی اکرم ﷺ کی قبر انور سے اذان کی
آواز سنتا-
'ج'حضرت ابو بکر صدیق رضی اللہ تعالیٰ عنہ نے وصیت کی کہ جب میرا انتقال ہو جائے تو میری میت کو اس حجرۂ اقدس کے دروازے کے سامنے رکھ دینا جس میں حضور نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم کا مزار پر انوار ہے، پھر دروازے پر دستک دینا ، اگر اجازت ملے تو مجھے حضور صلی اللہ علیہ وسلم کے پہلو میں دفن کر دینا اور نہ نہیں ،جب صدیق اکبر رضی اللہ تعالی عنہ کے جنازہ کو مزار انور کے پاس رکھ دیا گیا اور ( قربان جاؤں صحابہ کے عقیدہ پر ) عرض کی گئی : السلام علیک یا رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم! یہ ابو بکر صدیق (حاضر) ہیں، تو دروزہ کھلا اور قبر انور سے کسی پکارنے والا نے پکارا: حبیب کو حبیب کے پاس پہنچا دو۔
'ح' حضرت علی رضی اللہ تعالی عنہ سے روایت ہے، رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کے دفن کرنے کے تین دن بعد ایک اعرابی ہمارے پاس آیا، اور روضہ شریفہ کی خاک پاک اپنے سر پر ڈالی اور عرض کرنے لگا: یا رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم جو آپ نے فرمایا ہم نے سنا اور جو آپ صلی اللہ علیہ وسلم اللہ تعالی کی طرف سے یاد کیا اور ہم نے آپ سے یاد کیا ، اور جو آپ پر نازل ہوا اس میں یہ آیت بھی ہے "ترجمہ :جب وہ اپنی جانوں پر ظلم کر بیٹھیں ۔۔"میں نے بے شک اپنی جان پر ظلم کیا اور آپ کے حضور میں اللہ سے اپنےگناہوں کی بخشش چاہنے حاضر ہوا تو میرے رب سے میرے گناہ کی بخشش کرائیے ، اس پر قبر شریف سے ندا آئی کہ تیری بخشش کی گئی۔
'خ'امام جلال الدین سیوطی رحمہ اللہ علیہ نقل کرتے ہیں: جب میرے سردار احمد رفاعی حجرہ شریفہ کے سامنے کھڑے ہوئے تو یوں کہا: جب میں دور ہوتا تو اپنی روح کو بھیجتا تھا جو میری نائب ہو کر میری طرف سے زمین بوسی کرتی تھی ، یہ زیارت کا وقت ہے میں خود حاضر ہوا ہوں اپنا دست اقدس بڑھا ئیں تا کہ میرے ہونٹ دست بوسی کی سعادت پائیں ۔ چنانچہ حضور انور ﷺ کا ہاتھ مبارک آپ کی طرف نکلا جس کو آپ نے چوما۔
'د'امام غزالی رحمہ اللہ علیہ التحیات میں حضور صلی اللہ تعالیٰ علیہ وسلم کی بارگاہ میں سلام عرض کرنے کا طریقہ بتاتے ہوئے فرماتے ہیں: اپنے دل میں نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم کو حاضر جان کر یوں عرض کرو: السلام عليك ايها النبی و رحمۃ الله و بركاته ، اور یقین جانو کہ میرا یہ سلام حضور صلی اللہ علیہ وسلم کی بارگاہ میں پہنچتا اور حضور اس سے بہتر جواب عطا فرماتے ہیں۔
'ذ'امام قسطلانی رحمہ اللہ علیہ فرماتے ہیں: حضور صلی اللہ تعالی علیہ وسلم کے فضائل و خصائص میں سے یہ بھی ہے کہ آپ صلی اللہ تعالی علیہ وسلم اپنی قبر میں زندہ ہیں اور اس میں اذان واقامت کے ساتھ نماز پڑھتے ہیں اور ایسے ہی (دیگر ) انبیاء علیہم السلام ہیں۔مزید فرماتے ہیں تحقيق یہ بات ثابت شدہ ہے کہ انبیاء علیہم السلام حج کرتے ہیں اور تلبیہ پڑھتے ہیں۔
'ر'علامہ ابن حجر مکی رحمہ اللہ علیہ فرماتے ہیں: نبی کریم صلی اللہ تعالی علیہ وسلم اپنی قبر میں زندہ ہیں ، اپنی زیارت کرنے والوں کو جانتے ہیں ۔ایک اور مقام پر فرماتے ہیں: تحقیق انبیاء کرام علیہم السلام کی حیات ثابت ہے اور اس بات میں کوئی شک نہیں کہ ان کی حیات شہداء کی حیات سے زیادہ کامل ہے۔