پیرِکامل کی بیعت
[۱] بیعت کا لغوی معنی بِک جانا اور اِصطلاح شرع و تصوف میں اس کی متعدد صورتیں ہیں جن میں ایک یہ ہے کہ کسی کا ارادہ پیر کامل کے ہاتھوں میں ہاتھ دے کر گزشتہ گناہوں سے توبہ کرنے، آئندہ گناہوں سے بچتے ہوئے نیک اعمال کا کرنے اور اسے اللہ کریم کی معرفت کا ذریعہ بنانے کا نام بیعت ہے۔ یہ سنت ہے ، آج کل کے عرفِ عام میں اسے ” پیری مریدی“ کہا جاتا ہے۔
[۲] بیعت کا ثبوت قرآن کریم میں موجود ہے چنانچہ پارہ 15 سورہ بنی اسرائیل کی آیت نمبر 71 میں
خدائے پاک کا فرمانِ عالیشان ہے":جس دن ہم ہر جماعت کو اس کے امام کے ساتھ بلائیں گے"۔
اس آیت مبارکہ کے تحت مشہور مفسر حکیم الامت مفتی احمد یار خان رحمتہ الله علیہ فرماتے ہیں: اس سے معلوم ہوا کہ دنیا میں کسی صالح (نیک) کو اپنا امام بنا لینا چاہئے ،شریعت میں' تقلید' کر کے اور طریقت میں ' بیعت 'کر کے تا کہ حشر اچھوں کے ساتھ ہو۔ اگر صالح (نیک) امام نہ ہو گا تو اس کا امام شیطان ہو گا۔ اس آیت میں تقلید ، بیعت اور مریدی سب کا ثبوت ہے۔
[۳] خدائے پاک کا فرمانِ عالیشان ہے":وہ جو تمہاری بیعت کرتے ہیں وہ تو اللہ ہی سے بیعت کرتے ہیں ان کے ہاتھوں پر اللہ کا ہاتھ ہے۔اور فرمایا:" بیشک اللہ راضی ہوا ایمان والوں سے جب وہ اس پیڑ کے نیچے تمہاری بیعت کرتے تھے"۔
[۴] احادیث مبارکہ میں بھی بیعت کا ذکر آیا ہے اور یہ بیعت مختلف چیزوں مثلاً کبھی تقوی و اطاعت پر، کبھی لوگوں کی خیر خواہی
اور کبھی غیر معصیت (یعنی گناہ کے علاوہ) والے کاموں میں امیر کی اطاعت وغیرہ پر ہوا کرتی تھی۔ اس کے علاوہ دیگر کاموں پر بھی صحابہ کرام عَلَيْهِمُ الرِّضْوَان کا حضور سید عالم ﷺ سے بیعت ہونا ثابت ہے چنانچہ حضرت سید نا عبادہ بن صامت رضی اللہ عنہ فرماتے ہیں: ہم نے رسول الله ﷺ سے مشکل اور آسانی میں، خوشی اور نا خوشی میں خود پر ترجیح دیئے جانے کی صورت میں ، سننے اور اطاعت کرنے پر بیعت کی اور اس پر بیعت کی کہ ہم کسی سے اس کے اقتدار کے خلاف جنگ نہیں کریں گے اور ہم جہاں بھی ہوں حق کے سوا کچھ نہ کہیں گے اور اللہ کریم کے بارے میں ملامت کرنے والے کی ملامت سے نہیں ڈریں گے ۔
[۵]بیعت کے فوائد-
'۱'-کسی پیر کامل کے ہاتھ میں ہاتھ دے کر بیعت ہونے سے پیر کامل سے نسبت حاصل ہو جاتی ہے جس کی بدولت باطن کی اصلاح کے ساتھ ساتھ نیکیوں سے محبت اور گناہوں سے نفرت کا جذبہ بیدار ہوتا ہے۔ پیر کامل کی صحبت اور اس کے فوائد بیان کرتے ہوئے حضرت سید نا فقیہ عبد الواحد بن عاشر رحمتہ اللہ علیہ فرماتے ہیں: عارف کامل کی صحبت اختیار کرو۔ وہ تمہیں ہلاکت کے راستے سے بچائے گا۔ اس کا دیکھنا تمہیں اللہ پاک کی یاد دلائے گا اور وہ بڑے نفیس طریقے سے نفس کا محاسبہ کراتے ہوئے اور خطرات قلب (یعنی دل میں پیدا ہونے والے شیطانی وساوس) سے محفوظ فرماتے ہوئے تمہیں اللہ پاک سے ملا دے گا۔ اس کی صحبت کے سبب تمہارے فرائض و نوافل محفوظ ہو جائیں گے۔ تصفیہ قلب (یعنی دل کی صفائی) کے ساتھ ذکر کثیر کی دولت میسر آئے گی اور وہ اللہ پاک سے متعلقہ سارے امور میں تمہاری مدد فرمائے گا۔
'۲'بیعت ہونے کے فوائد میں سے یہ بھی ہے کہ یہ پیران عظام یا ان سلسلوں کے اکابرین و بانیان اپنے مریدین و متعلقین سے کسی بھی وقت غافل نہیں رہتے اور مشکل مقام پر ان کی مدد فرماتے ہیں چنانچہ حضرت سیدنا امام عبد الوہاب شعر انی رَحْمَةُ اللهِ عَلَيْہ فرماتے ہیں :
بے شک سب آئمہ و اولیا و عُلمائے ربانیین و مشائخ کرام اپنے پیروکاروں اور مریدوں کی شفاعت کرتے ہیں، جب ان کے مرید کی روح نکلتی ہے ، جب منکر نکیر اس سے قبر میں سوال کرتے ہیں، جب حشر میں اس کا نامہ اعمال کھلتا ہے ، جب اس سے حساب لیا جاتا ہے ، جب اس کے اعمال تو لے جاتے ہیں اور جب وہ پل صراط پر چلتا ہے تو ان تمام مراحل میں وہ اس کی نگہبانی کرتے ہیں اور کسی بھی جگہ اس سے غافل نہیں ہوتے۔
[۶] مرید ہونے کا اصل مقصد یہ ہے کہ انسان مرشد کامل کی رہنمائی اور باطنی توجہ کی برکت سے سیدھے راستے پر چل کر اپنی زندگی شریعت وسنت کے مطابق گزار سکے اور اگر راہ باطن و معرفت پر چلنا ہو تو پھر بیعت ہونا ضروری ہے کیونکہ یہ راستہ انتہائی کٹھن اور باریک ہے جسے بغیر کسی رہبر کے طے کرنا اپنے آپ کو ہلاکت پر پیش کرنا ہے لہذا اس راستے کو کامیابی و کامرانی کے ساتھ طے کرنے کے لیے انسان کو مرشد کامل کی ضرورت ہوتی ہے۔
[۷] کُفر بکنے سے جس طرح پچھلے تمام نیک اعمال مثلاً نماز ، روزہ اور حج وغیرہ ضائع ہو جاتے ہیں ایسے ہی بیعت بھی ختم ہو جاتی ہے، تو بہ کرنے کے بعد سابقہ مرشد یا کسی بھی جامع شرائط پیر کا مرید ہوا جا سکتا ہے، سابقہ مرشد سے ہی بیعت کرنا ضروری نہیں۔
[۸] پیر امور آخرت کے لیے بنایا جاتا ہے تاکہ اس کی رہنمائی اور باطنی توجہ کی برکت سے مرید اللہ اور اس کے پیارے رسُول ﷺکی ناراضی والے کاموں سے بچتے ہوئے اپنی زندگی کے شب و روز گزار سکے۔ یہ بات یقینا نیکی ہے تو اس کی ترغیب دلانے والا نیکی کی دعوت دینے والا ہوا اور اس کا یہ فعل حکم قرآنی : ” اور نیکی اور پر ہیز گاری پر ایک دوسرے کی مدد کرو" میں داخل ہے لہذا اگرکسی کے ترغیب دلانے پر کوئی مرید ہو کر نیکی کے راستے پر گامزن ہو گیا تو ان شاء اللہ اس کے لیے ثواب جاریہ کا سامان ہو گا۔
[۹] ایک پیر کے مرید ہوتے ہوئے کسی دوسرے پیر سے مرید نہیں ہو سکتے چنانچہ حضرت سیدنا علی بن وفاء رحمة الله علیہ فرماتے ہیں: جس طرح جہان کے دو معبود نہیں ، ایک شخص کے دو دل نہیں، عورت کے بیک وقت دو شوہر نہیں اس طرح مرید کے دو شیخ نہیں ۔ البتہ دوسرے جامع شرائط پیر سے بیعت برکت کرتے ہوئے طالب ہونے میں حرج نہیں ہے۔
[۱۰] فیض کی تعریف: فیض، برکات اور نورانیت کا دوسرے پر القاء فرمانا ہے۔ فیض حاصل کرنے کا طریقہ یہ ہے کہ مرید اپنے پیر و مرشد سے کامل محبت کرے۔ اُس کے احکام بجا لائے اور ہر وہ جائز کام کرے جس سے وہ خوش و راضی ہو۔ اُس کی کامل تعظیم و توقیر کرے اور اپنے اقوال و افعال و حرکات و سکنات میں اُس کی ہدایات کے مطابق ( جو شریعت کے خلاف نہ ہوں) پابند رہے تا کہ اس سے فیوض و برکات حاصل کرنے میں کامیاب ہو سکے۔
پیرومرشد سے فیض حاصل کرنے کے لیے ضروری ہے کہ مرید ہمیشہ اپنے آپ کو کمالات سے خالی سمجھے اگر چہ کتنا ہی علم و فضل والا کیوں نہ ہو کہ کچھ ہونے کی سمجھ انسان کو کہیں کا نہیں رہنے دیتی۔