اختیاراتِ مصطفٰی ﷺ
[۱] عقیدہ اہل سنت - اختیارات کی دو قسمیں ہیں
'۱'- تشریعیہ - یعنی کسی فعل کو فرض یا حرام یا واجب یا مکروہ یا مستحب یا مباح کر دینا یا۔
'۲'- تکوینیہ ۔ جیسا کہ زندہ کرنا ، مارنا ، کسی کی حاجت پوری کرنا ، کسی سے مصیبت دور کر دینا وغیرہ
[۲]اہل سنت و جماعت کا عقیدہ یہ ہے کہ اللہ تعالٰی نے دونوں قسم کے اختیارات اپنے محبوب کریم صلی اللہ علیہ وسلم کو عطا فرمائے ہیں
[۳]تشریعی اختیارات پر دلائل:
تشریعی اختیارات کی دو صورتیں ہیں۔
(الف) حکم عام میں سے سے کسی کی تخصیص کر دیا ۔ اس کے ثبوت پر درج ذیل دلائل ہیں :
'۱'-اللہ تعالیٰ نے فرمایا : " نہیں پہنچتا کسی مرد نہ کسی مسلمان عورت کو کہ جب حکم کریں اللہ و رسول کسی بات کا کہ انہیں کچھ اختیار رہے اپنی جانوں کا اور جو حکم نہ مانے اللہ و رسول کا وہ صریح گمراہی میں بہکا –"
اس آیت کا شان نزول یہ ہے کہ نبی پاک صلی اللہ علیہ وسلم نے اپنے آزاد کردہ غلام حضرت زید بن حارثہ رضی اللہ عنہ کے نکاح کا پیغام اپنی پھوپھی کی بیٹی حضرت زینب بنت جحش رضی اللہ عنہا کو دیا ، جس سے انہوں نے انکار کر دیا ، یہ آیت کریمہ اُتری اسے سن کر وہ تائب ہوئیں اور نکاح ہو گیا ۔ معلوم ہوا کہ آپ صلی اللہ علیہ وسلم کےحکم دینے سے ایک مباح و جائز کام فرض بن گیا ۔
'۲'-ایک شخص نے حاضر ہو کر عرض کی: یا رسول اللہ ! میں ہلاک ہو گیا ۔ فرمایا : کیا ہے ؟ عرض کی : میں نے رمضان میں اپنی عورت سے نزدیکی کی ۔ فرمایا : غلام آزاد کر سکتا ہے؟ عرض کی نہیں، فرمایا : لگاتار دو مہینے کے روزے رکھ سکتا ہے؟ عرض کی: نہیں، فرمایا : ساٹھ مسکینوں کو کھانا کھلا سکتا ہے؟ عرض کی نہیں ، اتنے میں کھجوریں خدمت اقدس میں لائی گئیں ، حضور نے فرمایا: انہیں خیرات کر دے، عرض کی : اپنے سے زیادہ کسی محتاج پر ؟ مدینہ بھر میں کوئی گھر ہمارے برابر محتاج نہیں، رحمت عالم صلی اللہ علیہ وسلم یہ سن کر ہنسے یہاں تک کہ دندان مبارک ظاہر ہوئے اور فرمایا : جا اپنے گھر والوں کو کھلا دے"۔
)ب (کسی چیز کے حلال و حرام ہونے کی نسبت اپنی طرف کرنا ۔ اس کے ثبوت پر درج ذیل دلائل ہیں :
'۱'-اللہ تعالیٰ نے قرآن مجید میں ارشاد فرمایا : " لڑو ان سے جو ایمان نہیں لاتے اور نہ پچھلے دن پر اور حرام نہیں مانتے اس چیز کو جیسے حرام کر دیا ہے اللہ اور اس کے رسول نے"۔
'۲'-امیر المومنین علی رضی اللہ عنہ سے روایت ہے کہ جب یہ آیت کریمہ نازل ہو ئی، ترجمہ :" اور اللہ کے لئے لوگوں پر اس گھر کا حج کرنا ہے جو اس تک چل سکے"۔ تو صحابہ کرام نے عرض کیا :یا رسول الله ! کیا ہر سال حج فرض ہے ؟ رسول اللہ نے سکوت فرمایا، صحابہ کرام نے پھر عرض کیا : یا رسول الله ! کیا ہر سال حج فرض ہے ؟ رسول اللہ نے فرمایا : حج ہر سال فرض نہیں اور میں ہاں کہہ دوں تو ہر سال فرض ہو جائے"۔
[۴]تکوینی اختیارات کا ثبوت - تکوینی اختیارات بھی اللہ تعالٰی نے اپنے محبوب صلی الله علیہ وسلم کو عطا فرمائے ہیں۔ اس پر درج ذیل دلائل ہیں۔
'۱'-اللہ تعالیٰ ارشاد فرماتا ہے : " منافقوں کو یہی برا لگا کہ اللہ اور اس کے رسول نے انہیں اپنے فضل سے غنی کر دیا "۔
'۲' حضرت ابوہریرہ رضی اللہ عنہ نے فرمایا کہ میں نے حضور صلی اللہ علیہ وسلم سے عرض کیا : یا رسول اللہ ! میں نے آپ سے بہت سی حدیثیں سنیں لیکن وہ سب بھول گئیں،حضور نے فرمایا اپنی چادر پھیلاو، میں نے پھیلا دی تو آپ نے لپ بھر کر اس میں ڈال دیا پھر فرمایا اسے سینے سے لگالو، میں نے لگالی ، پس میں اس کے بعد کسی حدیث کو نہیں بھولا۔
'۳'- سیدنا ربیعہ بن کعب اسلمی رضی اللہ عنہ سے روایت ہے ، فرماتے ہیں : میں رسول اللہ صلی الله علیہ وسلم کے پاس رات کو حاضر رہتا ایک شب حضور کے لیے آب وضو وغیرہ ضروریات لایا،) رحمت عالم صلی اللہ علیہ وسلم کا بحر رحمت جوش میں آیا ) ارشاد فرمایا : مانگ کیا مانگتا ہے کہ ہم تجھے عطا فرمائیں ۔ میں نے ۔ عرض کی : میں حضور سے سوال کرتا ہوں کہ جنت میں اپنی رفاقت عطا فرمائیں۔ فرمایا: کچھ اور ؟ میں نے عرض کی : میری مراد تو صرف یہی۔ فرمایا: تو میری اعانت کر اپنے نفس پر کثرت سجود سے"۔ شیخ عبدالحق محدث دہلوی رحمتہ اللہ علیہ اس حدیث کے تحت فرماتے ہیں : مطلق سوال سے کہ آپ نے فرمایا : مانگ اور کسی خاص شےکو مانگنے کی تخصیص نہیں فرمائی ۔ معلوم ہوتا ہے کہ تمام معاملہ آپ کے کے دست اقدس میں ہے ، جو چاہیں جسے چاہیں اللہ تعالٰی کے اذن سے عطا فرمادیں ۔