افضلیتِ ابوبکر صدیق رضی اللہ عنہ

[۱] انبیاء ورسل بشر و مرسلین ملائکہ علیہم الصلوۃ والسلام کے بعد تمام انسانوں ، جنات اور فرشتوں سے افضل سیدنا ابوبکر صدیق

 رضی اﷲ  تعالٰی عنہ ہیں، پھر عمر فاروق اعظم رضی اﷲ  تعالٰی عنہ ، پھر عثمان غنی رضی اﷲ  تعالٰی عنہ ، پھر مولا علی کرم اللہ تعالٰی وجہ الکریم ہیں [۲]شیخین کریمین یعنی حضرت ابو بکر صدیق رضی اﷲ  تعالٰی عنہ  اور حضرت عمر فاروق رضی اﷲ  تعالٰی عنہ کو بالترتیب تمام صحابہ سے افضل ماننا اہلسنت کا اجماعی عقیدہ ہے۔

[۳] اس لیے جو شخص حضرت علی کرم اللہ تعالٰی وجہ الکریم یا کسی دوسرے صحابی کو یا اہل بیت اطہار میں سے کسی کو خواہ جگر گوشہ رسول فاطمہ بتول رضی اﷲ  تعالٰی عنہایا جنت کے نوجوانوں کے سردار حضرات حسنین کریمین رضی اللہ عنہما کو ابو بکر صدیق یا عمر فاروق رضی اللہ عنہما سے افضل مانے یا اس میں توقف کرے، وہ گمراہ ، بد مذہب اور اہلسنت و جماعت سے خارج ہے، اس کے پیچھے نماز مکروہ تحریمی واجب الاعادہ ہے اور اس کی بیعت بھی جائز نہیں ہے۔

[۴] اگر کوئی پیر اس عقیدے کے خلاف عقیدہ رکھے تو اُس سے بیعت توڑ نا واجب ہے۔

[۵]افضلیت مطلقہ کا معنی یہ ہے کہ کثرت ثواب اور اللہ تعالیٰ کے قرب میں سب سے بڑھ کر انبیاء ورسل بشر اور مرسلین ملائکہ کے بعد ابو بکر صدیق رضی اﷲ  تعالٰی عنہ ہیں، یہ افضلیت دوسرے صحابہ کرام اور اہل بیت اطہار رضی اﷲ  تعالٰی عنہم کے جزئی فضائل ، خصائص اور امتیازات کے منافی نہیں ہے۔ مختلف صحابہ کرام اور اہل بیت اطہار رضی اﷲ  تعالٰی عنہم کو اللہ تعالی نے ایسی فضیلتیں عطا کیں جو ان کے ساتھ ہی خاص ہیں ، کسی دوسرے کو عطا نہیں ہوئیں۔

[۶]امام اہلسنت اعلیٰ حضرت احمد رضا خان قادری رحمتہ اللہ علیہ کی تحریر کا خلاصہ یہ ہے: صحابہ کرام میں افضلیت مطلقہ بالترتیب حضرت ابوبکر و عمر رضی اللہ عنہما کو حاصل ہے، البتہ مختلف شعبوں اور زاویوں سے اللہ تعالیٰ نے مختلف صحابہ کرام کو اختصاص و فضیلت سے نوازا ہے اور ان خصائص و امتیازات میں امیر المؤمنین حضرت علی المرتضیٰ کرم اللہ تعالٰی وجہ الکریم کی شان سب سے ممتاز ہے اور اس کا کسی منصف مزاج صاحب علم اور صاحب نظر کو انکار نہیں ہونا چاہیے۔ افضلیت مطلقہ سے مراد یہ ہے کہ اگر کسی صاحب ایمان سے سوال کیا جائے : تمام صحابہ کرام میں افضل کون ہے؟ ، تو اس کا جواب ہوگا: حضرت ابو بکر صدیق رضی اللہ تعالٰی عنہ لیکن اس کو مثبت معنی میں لیا جائے منفی معنی میں نہ لیا جائے۔

افضلیت صدیق اکبر رضی اﷲ  تعالٰی عنہ پر اہلسنت و جماعت کا اجماع و اتفاق ہے، جسے تسلیم کیے بغیر کوئی شخص ہرگز ہرگز اہلسنت و جماعت سے نہیں ہو سکتا، اگر چہ وہ اپنے آپ کو سنّی کہتا پھرے، اس کے کہنے سے کچھ نہیں ہوگا۔ اس عقیدے کا منکر رافضی ، بددین، مستحق عذاب نار ہے، یہی وجہ ہے کہ حضور ﷺ کے بعد سیاسی اور روحانی خلافت عظمٰی و امامت کبرٰی بلا فصل حضرت ابوبکر رضی اﷲ  تعالٰی عنہ کے حصے میں آئیں ، ان کے بعد حضرت عمر فاروق رضی اﷲ  تعالٰی عنہ اس پر فائز ہوئے۔ حضرت علی کرم اللہ تعالٰی وجہ الکریم کا ان حضرات کے مبارک ہاتھوں پر بیعت کرنا اور ان کی زیر حکومت ہمہ تن فرمانبرداری کرنا بھی موافق ترتیب خلافت ان کے افضل ہونے کی بڑی دلیل ہے، سیدنا ابو بکر صدیق رضی اﷲ  تعالٰی عنہ کی افضلیت مطلقہ قرآن وحدیث اور اجماع اہلسنت جیسے نا قابل تردید دلائل سے محقق اور ثابت شدہ ہے۔

[۷]حضرت مجدد الف ثانی شیخ احمد سرہندی رحمتہ اللہ علیہ لکھتے ہیں: جو شخص حضرت علی کرم اللہ تعالٰی وجہ الکریم کو صدیق اکبر سے افضل کہے، وہ اہلسنت کے گروہ سے نکل جاتا ہے۔

[۸]شاہ ولی اللہ محدث دہلوی رحمتہ اللہ علیہ لکھتے ہیں :ملت اسلامیہ میں افضلیت شیخین کا مسئلہ قطعی ہے۔

[۹]امام اہلسنت اعلیٰ حضرت احمد رضا خان قادری رحمتہ اللہ علیہ ٰ لکھتے ہیں:آج کل کے جاہل حضرات شیخین رضی اللہ تعالی عنہما پر حضرت مولا علی کرم اللہ تعالٰی وجہ الکریم کو فضیلت دیتے ہیں، یہ تصریح شریعت سے ٹکراؤ  اور سنت کی مخالفت ہے والہذا ائمہ دین نے تفضیلیہ کو روافض میں سے شمار کیا ہے۔

[۱۰]صحیح بخاری شریف میں امام محمد بن حنفیہ صاحبزادہ مولی علی کرم اللہ تعالٰی وجہ الکریم سے مروی : میں نے اپنے والد ماجد کرم اللہ تعالیٰ وجہہ سے عرض کی رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کے بعد سب آدمیون میں بہتر کون ہے ؟ فرمایا ابو بکر میں نے عرض کی پھر کون ؟ فرمایا عمر رضی اللہ تعالیٰ عنہم اجمعین۔

[۱۱] حضرت علقمہ رضی اللہ تعالیٰ عنہ فرماتے ہیں امیر المومنین کرم اللہ تعالیٰ وجہہ کو خبر پہنچی کہ کچھ لوگ انہیں حضرات صدیق و فاروق رضی اللہ تعالیٰ عنہما سے افضل بتاتے ہیں، یہ سن کر منبر پر جلوہ فرما ہوئے حمد و ثناء الہی بجالائے ، پھر فرمایا : اے لوگو ! مجھے خبر پہنچی کہ کچھ لوگ مجھے ابو بکر و عمر سے افضل کہتے ہیں اس بارہ میں اگر مین نے پہلے سے حکم سنا دیا ہو تا تو بے شک سزا دیتا آج سے جسے ایسا کہتے سنوں گا وہ مفتری ہے اس پر مفتری کی حد یعنی اسی کوڑے لازم ہیں۔ پھر فرمایا : بے شک نبی صلی اللہ علیہ وسلم کے بعد افضل امت ابو بکر ہیں پھر عمر، پھر خدا خوب جانتا ہے کہ ان کے بعد کون سب سے بہتر ہے۔ علقمہ فرماتے ہیں مجلس میں سید نا امام حسن مجتبی رضی اللہ تعالیٰ عنہ بھی تشریف فرماتھے انہوں نے فرمایا خدا کی قسم اگر تیسرے کا نام لیتے تو عثمان کا نام لیتے رضی اللہ تعالیٰ عنہم اجمعین۔

[۱۲] ایک شخص نے حضرت امام زین العابدین رضی اللہ تعالی عنہ کی خدمت انور میں حاضر ہو کر عرض کی حضور سید عالم صلی اللہ علیہ وسلم کی بارگاہ میں ابو بکر و عمر کا مرتبہ کیا تھا فرمایا جو مرتبہ ان کا اب ہے کہ حضور کے پہلو میں آرام کر رہے ہیں۔

23of23