تقلید

[۱] تقلید کے لغوی معنی - گلے میں ہار یا پٹّہ ڈالنا ۔

[۲]تقلید کے شرعی معنی- کسی کے قول و فعل کو ، یہ مان کر کہ یہ شرعی مُحِقّق (تحقیق کرنے والا) ہے اپنے اوپر شریعت کی جانب سے لازم جاننا اور یہ سمجھنا کہ اس کا کلام  اور اس کا کام ہمارے لئے حجّت (دلیل ، ثبوت) ہے، تقلید کہلاتا ہے ۔ مثلا ہم شریعت کے وہ مسائل جن کا تعلق عمل سے ہے (یعنی فقہ) میں امام اعظم ابو حنیفہ رحمتہ اللہ علیہ کا قول و فعل اپنے لئے دلیل سمجھتے ہیں اور شریعت کے دلائل میں نظر نہیں کرتے ہیں۔

[۳] احکامِ شرعیہ عملیہ (یعنی شریعت کے وہ احکام جن کا تعلق عمل سے ہے یا فقہ)  میں چار دلائل جن سے احکام ثابت کئے جاتے ہیں یا نکالے جاتے ہیں یہ ہیں (۱) قرآن (۲) حدیث (۳)  اِجماع (۴) قیاس - پوری اُمت چار اماموں کی تقلید کرتی ہے یعنی(۱)  امام اعظم 

ابو حنیفہ رحمتہ اللہ علیہ (۲) امام مالک رحمتہ اللہ علیہ (۳) امام شافعی رحمتہ اللہ علیہ (۴) امام احمد بن حنبل رحمتہ اللہ علیہ ۔ یہ چاروں 

بر حق امام ہیں ۔ اُمت میں جو شخص ان چاروں میں سے کسی بھی ایک کی تقلید کرے حق پر ہے۔

[۴]ہمارے نبی پاک صلی اللہ علیہ وسلم کا ہر قول و فعل ہمارے لئے شرعی دلیل ہے اس لئے آپ کی اطاعت جو صحابہ کرام و آئمہ دین اور ہم دیگر اُمت کرتی ہے   اسے تقلید نہیں کہا  جاسکتا ہے۔ موجودہ کسی عالم دین کی اطاعت کو بھی تقلید نہیں کہا جاسکتا ہے کیونکہ کوئی بھی ان عالموں کی بات یا ان کے کام کو اپنے لئے حجّت نہیں بناتا ، بلکہ یہ سمجھ کر ان کی بات مانتا ہے کہ مولوی آدمی ہیں کتاب سے دیکھ کر کہہ رہے ہوں گے ، اگر ثابت ہو جائے کہ ان کا یہ فتوٰی غلط تھا ۔ مسائل کی کتابوں کے خلاف تھا تو کوئی بھی نہ مانے۔

[۵] ہم احناف امام اعظم ابو حنیفہ رحمت اللہ تعالٰی علیہ کے مقلّد ہیں ، ہمارے لئے ہمارے امام کا قول و فعل شرعی حجّت ہے اس لئے آپ  کسی شرعی مسئلہ میں قرآن یا حدیث یا اجماع امّت کو دیکھ کر مسئلہ فرما دیں تو بھی قبول ہے اور اگر اپنے قیاس سے حکم دیں تو بھی قبول  ہے۔


[۶]کن مسائل میں تقلید کی جاتی ہے کن میں نہیں کی جاتی ہے:

 شرعی مسائل تین طرح کے ہیں :

'۱'-عقائد - عقائد میں کسی کی تقلید جائز نہیں ہے ۔

'۲'-وہ احکام جو قرآن پاک یا حدیث شریف سے بالکل واضح یا صریح طور ثابت ہیں ۔ صریح احکام میں بھی کسی کی تقلید جائز نہیں ، مثلاً پانچ نمازیں ، نماز کی رکعتیں ، تیس روزے ،روزے میں کھانا پینا حرام ہونا ، یہ وہ . مسائل ہیں جن کا ثبوت قرآن و حدیث سے صریح

ہے ، اس لئے یہ نہ کہا جائے گا کہ نمازیں پانچ ہیں یا روزے ایک ماہ کے اس لئے ہیں کہ ہمارے امام حضرت ابو حنیفہ رحمتہ اللہ علیہ نے فرمایا ہے بلکہ اس لئے کہ قرآن و حدیث میں ان کے لئے صریح دلائل موجود ہیں۔

'۳'-وہ احکام جو قرآن و حدیث میں واضح یا صریح طور پر موجود نہ ہوں بلکہ قرآن و حدیث سے استنباط )چھانٹنا ، چننا ، نکالنا ) 

و اجتہاد)  قرآن و حدیث اور اجماع امت پر قیاس کر کے شرعی مسائل کو نکالنا) کر کے نکالے جائیں ۔ ایسے مسائل میں ہر غیر مجتہد

کو کسی مجتہد کی تقلید کرنا واجب ہے ۔

[۷]مجتہد اور غیر مجتہد - مکلّف مسلمان (یعنی وہ مرد و عورت عاقل و بالغ جن کی طرف شرعی احکام متوجہ ہوتے ہیں) دو طرح کے ہیں '۱'- مجتہد '۲'- غیر مجتہد

[۸]مجتہد وہ ہے جس میں اس قدر علمی قابلیت یا لیاقت ہو کہ

'۱'-قرآنی اشارات) اشاره کی جمع ، نکتہ، راز (و رموز (رمز کی جمع ، مراد ، مفہوم (سمجھ سکے اور کلام کے مقصد کو پہچان سکے ، اس سے مسائل نکال سکے ۔

'۲'- ناسخ و منسوخ کا پورا علم رکھتا ہو ۔

'۳'- علم صرف و نحو و بلاغت وغیرہ میں اس کو پوری مہارت حاصل ہو ۔

'۴'- احادیث کا کثیر علم رکھتا ہو۔

'۵'- احکام کی تمام آیتوں اور احادیث پر اس کی نظر ہو۔

'۶'- ذکی (ذہین) اور خوش فہم ہو ۔(11) 

[۹]غیر مجتہد - جو مجتہد کے درجہ تک نہ پہنچا ہو وہ غیر مجتہد ہے ۔

[۱۰] کسی پر تقلید کرنا واجب ہے اور کسی پر نہیں : غیر مجتہد پر کسی مجتہد کی تقلید کرنا واجب ہے۔ مجتہد کے لئے تقلید کرنا منع ہے۔

[۱۱]حضرت امام غزالی، حضور غوث پاک ،خواجہ صاحب ، با یزید بسطامی ، اعلیٰ حضرت فاضل بریلوی رضی اللہ عنہم اسلام میں بڑی علمی ہستیاں ہیں، مگر ان میں سے کوئی بھی مجتہد نہ ہوئے بلکہ سب مقلد ہی ہوئے ہیں۔

[۱۲] تقلید واجب ہونے کی دلیل :

 اللہ تعالیٰ کا فرمان ہے : " ہمیں سیدھے راستے پر چلا ان لوگوں کا راستہ جن پر تو نے احسان کیا "[ سورۂ فاتحہ ] اس سے معلوم ہوا کہ صراط

مستقیم وہی ہے ۔ جس پر اللہ تعالیٰ کے نیک بندے چلے اور تمام مفسرین ، محدثین،فقہاء ، اولیاء ، غوث، قطب، ابدال ، اللہ تعالیٰ کے نیک بندے ہیں وہ سب مقلد گزرے ہیں ، لہذا تقلید ہی سیدھا راستہ ہوا ، کوئی مُحدث، مفسر ، ولی غیر مقلد نہ ہوا ۔

[۱۳]تقلید پر اعتراضات اور ان کے جوابات:

اعتراض نمبر ۱ - سوال : اگر تقلید ضروری تھی تو صحابہ کرام کسی کے مقلد کیوں نہ ہوئے ؟ 

جواب : صحابہ کرام کو کسی کی تقلید کی ضرورت نہ تھی۔ اُن کے سامنے نبی پاک صلی اللہ علیہ وسلم کی حیات طیبہ موجود تھی ، وہ تو حضور صلی اللہ علیہ وسلم کی محبت کی برکت سے تمام مسلمانوں کے امام اور پیشوا ہیں کہ ائمہ دین امام ابو حنیفہ و شافعی وغیرہ رضی اللہ عنہم ان کی پیروی کرتے ہیں۔ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کا فرمان ہے: "میرے صحابہ ستاروں کی مانند ہیں تم جن کی پیروی کرو گے ہدایت پا لو گے۔

اعتراض نمبر ۲ - سوال : رہبری کے لئے قرآن و حدیث کافی ہیں ، قرآن میں سب ہے اور قرآن سب کے لئے آسان بھی ہے پھر کس لئے مجتہد کے پاس جائیں؟

جواب : قرآن و حدیث بیشک رہبری کے لئے کافی ہیں ۔ اور ان میں سب کچھ ہے، مگر ان سے مسائل نکالنے کی قابلیت ہونی چاہیے۔ سمندر میں موتی ہیں ، مگر ان کو نکالنے کے لئے غوطہ خور کی ضرورت ہے ۔ ائمہ دین اس سمندر کے غوطہ زن ہیں۔ - طب کی کتابوں میں سب کچھ لکھا ہے مگر ہم کو حکیم کے پاس نسخہ تجویز کرانا ضروری ہے۔

[۱۴]تقلید کی اہمیت  :

'۱'-حضور صلی اللہ علیہ وسلم کی صحبت شریف کی برکت سے صحابہ کرام کے دل روشن اور سینے نورانی تھے ، وہ حضرات زمین پر قدسی صفات کے حامل تھے ، نہ ان میں دینی جھگڑے تھے نہ بہت سے فرقے ، نہ مذہبی اختلاف نہ فتنہ و فساد ، لہذا اس بہترین زمانہ کو باقاعدہ تقلید کی ضرورت نہ تھی۔ وہ تمام جہان کے امام تھے وہ کس کی تقلید کرتے ۔بعد میں مسلمانوں میں مذہبی اختلافات پیدا ہوئے ، نئے نئے مسائل سامنے آئے ، رائے میں اختلاف پیدا ہوئے ، فلسفہ و منطق دینی علوم میں داخل ہوئے ، ان پھیلے ہوئے مختلف اختلافات کو ختم کرنے اور ان کے حل کے لئے اور عوام کو ایک راہ عمل فراہم کرنے کے لیے علماء کرام نے قرآن وحدیث سے مسائل استنباط (چننا، چھانٹنا) فرمائے ، دین محمدی صلی اللہ علیہ وسلم کے ایک ایک حصّے کو آئینہ کی طرح صاف فرما دیا ۔ اُمت نے محسوس کیا کہ اب تقلید ائمہ کے بغیر چارہ نہیں غرضکہ بعد کے مسلمان تین قسم کے ہو گئے ، عوام ، علماء ، مجتہدین ۔ عوام نے علماء کی پیروی کی اور علماء نے ائمہ مجتہدین کی تقلید کو ضروری سمجھا ، معلوم ہوا کہ یہ تقلید زمانہ کی ضرورت کی وجہ سے لازم ہوئی ۔

'۲'-اس کی مثال یوں سمجھو کہ شروع میں جب تک ضروری نہ ہوا صحابہ کرام نے قرآن کریم بھی ایک قراءت پر کتابی شکل میں جمع نہ فرمایا ، عہد عثمانی میں جب ضرورت پڑی تو قرآن کتابی شکل میں لغت قریش پر ایک قراءت پر جمع ہوا، پھر بہت عرصہ کے بعد قرآن میں اعراب ( زیر زیر وغیرہ (لگائے گئے ، پھر بہت عرصہ کے بعد اس میں رکوع سپارے مرتب کئے گئے ۔ کسی صحابی نے جمع حدیث اور حدیث کے اقسام و احکام بنانے کی ضرورت نہ فرمائی ، بخاری مسلم وغیرہ عہد صحابہ کے بہت بعد  کی کتابیں ہیں ۔ غرضیکہ جیسے جیسے دینی ضرورتیں بڑھتی گئیں ، یہ چیزیں وجود میں آتی گئیں ، یہی حال آئمہ کی تقلید کا ہے ۔ جیسے آج یہ نہیں کہا سکتا، کہ قرآن کا جمع ، اعراب سپارے بنانا ، علم حدیث اور حدیث کی کتابیں بدعت ہیں کہ عہد نبوی یا صحابہ کے زمانہ میں نہ تھے ایسے ہی یہ بھی کہنا حماقت ہے کہ آئمہ کی تقلید اور علم فقہ بدعت ہے عہد صحابہ میں اس کا رواج نہ تھا ۔ آج اگر جمع شدہ قرآن اور مسلم و بخاری ضروری ہیں تو اماموں کی تقلید بھی  لازم ہے۔

[۱۵]تقلید شخصی (یعنی کسی ایک امام کی تقلید کرنا) کا واجب ہونا :

'۱'-سوال: چاروں ائمہ میں سے کسی ایک کی تقلید کیوں واجب ہے ، جب چاروں حق پر ہیں تو چاروں کی تقلید کی اجازت ہونی چاہیے، جب چاہیں جس امام کی تقلید کریں ؟

جواب : بلاشبہ چاروں امام (امام ابو حنیفہ، امام مالک، امام شافعی اور امام احمد بن حنبل رضی اللہ عنہم) حق پر ہیں لیکن ان میں سے کسی ایک امام کی پیروی اس لئے ضروری ہے کہ اگر ایسا نہ ہو تو ہر شخص اپنے نفس کی پیروی کرے گا اور جب دل چاہے گا جس امام کا مسئلہ آسان اور نفس کی خواہش کے مطابق اسے محسوس ہوگا اس پر عمل کرے گا۔ اور یہ شریعت مطہرہ کا مذاق اُڑانا ہے کیونکہ بہت سے مسائل ایسے ہیں کہ ، بعض ائمہ کے نزدیک حلال اور وہی مسائل بعض ائمہ کے نزدیک ا حرام ہیں اور یہ نفس کا پیرو کار صبح ایک امام کی پیروی کرتے ہوئے ایک مسئلہ کو حرام سمجھ کر اسلئے عمل نہ کرے گا کہ اس میں اس کے نفس کا فائدہ نہیں ہے اور جب شام کو بلکہ اسی لمحے اس

میں اپنا فائدہ نظر آئے گا تو دوسرے امام کا مذہب اختیار کرتے ہوئے اسی مسئلہ کو اپنے لئے حلال کرلے گا اور اس طرح فقط خواہش نفس کی بنیاد پر احکامِ شرعیہ کو کھیل بنا کر پامال کرتا پھرے گا اس لئے انسان کو خواہش نفس پر عمل کرنے کے بجائے دین و شریعت پر عمل کرنے کے لئے کسی ایک امام مجتہد کا مقلد ہونا ضروری ہے ورنہ وہ فلاح و ہدایت ہرگز نہ پاسکے گا ۔