قبر پر اذان

[۱]مسلمان میت کو قبر میں دفن کر کے اذان دینا بالکل جائز ہے۔ اس کے بہت دلائل ہیں۔ شریعت سے اس کے منع ہونے کی کوئی دلیل نہیں ہے اور جس امر سے شریعت منع نہ فرمائے وہ اصلاً ممنوع نہیں ہو سکتا ہے۔ جو منع کرے اُسے چاہیے کہ شریعت سے دلائل پیش کر کے اپنا  دعوٰی ثابت کرے ۔

چند دلائل:

[۲] جب بندہ قبر میں رکھا جاتا جاتا اور منکر نکیر سوال کرتے ہیں تو شیطان رجیم وہاں بھی خلل انداز ہوتا ہے اور جواب میں بہکاتا ہے۔

 امام ترمذی روایت کرتے ہیں: " جب مُردے سے سوال ہوتا ہے کہ تیرا رب کون ہے ؟ شیطان اُس پر ظاہر اور اپنی طرف اشارہ کرتا ہے یعنی میں تیرا رب ہوں ، یہ ایک عظیم فتنہ ہے" اور صحیح حدیثوں سے ثابت ہے کہ اذان شیطان کو دفع کرتی ہے ۔ صحیح مسلم شریف میں حضرت ابو ہریرہ رضی اللہ عنہ سے مروی ہے حضور صلی اللہ علیہ وسلم فرماتے ہیں : " جب مؤذن اذان کہتا ہے شیطان پیٹھ پھیر کر گوز مارتا ہوا . بھاگتا ہے" اور خود حدیث میں حکم آیا جب شیطان کا کھٹکا ہوفوراً اذان کہو کہ وہ دفع ہو جائے گا ۔ تو جب ثابت ہو گیا کہ وہ وقت شیطان کے دخل دینے کا ہے اور ارشاد ہوا کہ شیطان اذان سے بھاگتا ہے اور اس میں حکم آیا کہ اُس کے دفع کو اذان کہو تو یہ قبر کے پاس اذان اپنے مسلمان  بھائی کی عمددہ مدد ہوئی جو ایک خوبیوں والا کام ہے۔

[۳] امام احمد و طبرانی و بیہقی حضرت جابر بن عبد اللہ رضی اللہ عنہ سے روایت کرتے ہیں :" جب سعد بن معاذ رضی اللہ عنہ دفن ہو چکے اور قبر درست کر دی گئی نبی صلی اللہ علیہ وسلم دیر تک سبحان اللہ فرماتے رہے اور صحابہ بھی حضور کے ساتھ کہتے رہے پھر حضور اللہ اکبر اللہ اکبر فرماتے رہے اور صحابہ بھی حضور کے ساتھ کہتے رہے، پھر صحابہ نے عرض کی یا رسول الله ! حضور اول تسبیح پھر تکبیر کیوں  فرماتے رہے ؟ ارشاد فرمایا : اس نیک مرد پر اُس کی قبر تنگ ہوئی تھی یہاں تک کہ اللہ تعالیٰ نے وہ تکلیف اُس سے دور کی اور قبر کشادہ فرمادی"۔ اس حدیث سے ثابت ہوا کہ خود حضور اقدس صلی اللہ علیہ وسلم نے میت پر آسانی کے لئے بعد دفن کے قبر پر اللہ اکبر اللہ اکبر بار بار فرمایا ہے اور یہی کلمہ مبارکہ اذان میں چھ بار ہے تو عین سنت ہوا ۔ اذان میں اس کے ساتھ اور کلمات طیبات زائد ہیں اور یہ زیادتی نہ نقصان دہ ہے اورنہ اس سنت طریقہ کے خلاف ہے ، کیونکہ اس کا مقصد رحمت الہی اتارنے کے لئے ذکر خدا کرنا ہے ۔

[۴] ابو داؤد و حاکم و بیہقی امیر المومنین عثمان غنی رضی اللہ عنہ سے روایت کرتے ہیں، فرماتے ہیں : " حضور اقدس صلی اللہ علیہ وسلم جب دفن میت سے فارغ ہوتے قبر پر وقوف فرماتے اور ارشاد فرماتے اپنے بھائی کے لئے استغفار کرو اور اس کے لئے جواب نکیرین میں ثابت قدم رہنے کی دعا مانگو کہ اب اس سے سوال ہوگا۔ اس قسم کی دیگر ا احادیث سے ثابت ہے کہ دفن کے بعد دعا سنت ہے اور ہر ذکر الہی دُعا ہے اور اذان چوں کہ ذکر الہی ہے تو یہ بہترین دعا ہے ۔

[۵]یہ تو واضح ہو گیا کہ دفن کے بعد میت کے لئے دُعا سُنت ہے اور علماء فرماتے ہیں آداب دعا سے ہے کہ اس سے پہلے کوئی عمل صالح کرے اور شک نہیں کہ اذان بھی عمل  صالح ہے تو دعا سے پہلے اذان ایک مبارک عمل قرار پایا۔ اس کے علاوہ اِس دُعا کی مقبولیت میں اضافہ ہوا کیونکہ حدیث میں ہے کہ رسول الله صلی اللہ علیہ وسلم فرماتے ہیں: " دو دُعائیں رد نہیں ہوتیں ایک اذان کے وقت اور ایک جہاد میں جب کفار سے لڑائی شروع ہو"۔