فاتحِہ و ایصالِ ثواب
[۱]ایصال ثواب :ایصال کا مطلب ہے ’بھیجنا‘ اور ثواب کا مطلب ہے: ’اعمال کا بدلہ‘اپنے کسی نیک عمل کا ثواب کسی دوسرے مسلمان کو پہنچانا ’ایصالِ ثواب‘ کہلاتا ہے۔ ایسا کرنا جائز اور حضور اقدس ﷺ اور صحابہ کرام کی سنت مبارکہ ہے۔
[۲]اپنے ہر نیک عمل اور ہر قسم کی عبادات چاہے وہ مالی عبادت ہوں جیسے صدقات، چاہے وہ بدنی عبادات ہوں جیسے نماز، روز، وغیر۔ چاہے وہ ہم پر فرض ہوں جیسے فرض نمازیں ،روزہ وغیرہ اور چاہے وہ نفلی عبادات ہوں۔ اِن سب کا ثواب کسی دوسرے مسلمان کو چاہے وہ زندہ ہوں یا مردہ(مرحوم) ہو ایصال کیا جاسکتا ہے۔
[۳]زندوں کو ایصال ثواب کرنے سے اُن کے نامۂ اعمال میں نیکیوں میں اضافہ ہوتا ہے، جس کابدلہ وہ آخرہ میں پائیں گے۔
[۴]مرحومین یعنی جو اس دنیا سے جا چکےہیں ان کو ایصال ثواب کرنے سے مندرجہ ذیل فائدے ہوتے ہیں۔
'ا'-مرحوم اگرنیک ہے تو اس کے درجات بلند ہوتے ہیں۔ نیکیوں میں اضافہ ہوتا ہے۔
'ب'-مرحوم اگر گناہ گار ہے تو اُس کے گناہ معاف ہوتے ہیں۔
'پ'-مرحوم اگر قبر میں عذاب یا سختی میں مبتلا ہے تو اس کے عذاب میں کمی ہوتی ہے یا عذاب اُٹھالیا جاتا ہے۔
'ت'-قبر میں مردہ شِدت سے انتظار کرتا ہے کہ کوئی اس کے لیے دعا کرے اور ایصال ثواب کرے۔ جب کوئی اُسے ایصال ثواب کرتا ہے تو وہ خوش ہوتا ہے اور قبرستان میں اس کے پڑوسی اپنی محرومی پر غمگین ہوتے ہیں۔
'ث'-میت کی روح جمعہ کی رات اپنے گھر آتی ہے اور دیکھتی ہے کہ اس کی طرف سے گھر والے ایصال ثواب کرتے ہیں یا نہیں۔ یعنی ایصال ثواب کا مطالبہ کرتی ہے۔
[۵]اعمال صرف اور صرف اللہ تعالیٰ کی رضااور خوشنودی کے لیے کیے جائیں گے اور اس کے بعد بندہ اپنے رب سے دعا کرتا ہے کہ الٰہی میں نے جو یہ عمل کیا اس پر مجھے ملنے والے ثواب میں میرے فلاں بھائی کو بھی حصہ عطا فرما، یہی ایصال ثواب کہلاتا ہے۔
[۶]مخلوق کے لیے کیے جانے والے عمل پر کوئی ثواب نہیں اور نہ ہی یہ ثواب ایصال کیا جاسکتا ہے۔ کسی نبی، ولی یا بزرگ کی رضا اور خوشنودی کے لیے کوئی نیک عمل مثلاً کلام پاک کی تلاوت ،کھانا پکوا کر یا خرید کر کھلوانا یابانٹنا اس پر کوئی ثواب نہیں ملے گا۔
[۷]ثواب جب ملتا ہے کہ جب نیک عمل خالص اللہ تعالیٰ کے لیے یعنی اللہ تعالیٰ کی رضا اس کی خوشنودی ،اس کے قُرب کے حصول کے لیے کیا جائے اور یہی ثواب دوسرے مسلمان کے لیے ایصال کیا جاسکتا ہے۔
[۸]ایصال ثواب صرف مسلمانوں کو کر سکتے ہیں۔ کفار کے لیے جائز نہیں اور کوئی اگر کرے تو انھیں اس سے کوئی فائدہ نہیں پہنچ سکتا ہے۔
[۹]عام مسلمانوں کے لیے کیے گئے ایصال ثواب کو ’نیاز‘ سے تعبیر کرتے ہیں جب کہ اولیاء اللہ ،علما، فقہا کے لیے کیے گئے ایصال ثواب کو ادباً ’فاتحہ‘ سے تعبیر کرتے ہیں۔ کچھ لوگ اس کی الٹی تعبیر بھی کرتے ہیں۔ بہر حال یہ ایصال ثواب کی ہی صورتیں ہیں۔
[۱۰]ایصال ثواب جو مسلمان ابھی دنیا میں تشریف نہیں لائے ہیں اور قیامت تک آتے رہیں گے اُن کے لیے بھی کیا جاسکتا ہے۔
[۱۱]کسی نے نیک عمل کیا اور اس کا ثواب ایصال کیا تو اس ایصال کرنے والے کے ثواب میں کوئی کمی نہیں کی جاتی ہے۔
[۱۲]کسی نے ۱۰؍ قرآن پاک تلاوت کیے اور اس کاثواب ۱۰؍ لوگوں کو ایصال کیا تو ایسا نہیں ہے کہ ۱۰؍ لوگوں میں ہر ایک حصے میں ایک ایک کلام پاک کی تلاوت کا ثواب آئے گا بلکہ ہر ایک کے نامۂ اعمال میں۱۰؍کلام پاک کی تلاوت کا ثواب لکھا جائے گا اور ایصال کرنے والے شخص کے نامۂ اعمال میں ان سب کی مجموعی تعداد یعنی 10*10=100 سو کلام پاک کی تلاوت کا ثواب لکھا جائے گا۔ اس لیے اس معاملے میں بخل نہیں کرنا چاہیے۔ ہمارے اکابرین کا یہ معمول رہا ہے کہ وہ اس طرح ایصال ثواب کرتے تھے کہ حضرت آدم علیہ السلام سے لے کر اب تک جو مسلمان مرد و عورت دنیا میں تشریف لائے ہیں اور جو اب موجود ہیں اور جو قیامت تک تشریف لائیں گے اُن سب کو اس نیک عمل کا ثواب ایصال کرتا ہوں۔
[۱۳]شریعت نے ایصال ثواب کے لیے کوئی خاص دن یا وقت مقرر نہیں فرمایا ہے، بلکہ جب کسی کا دل چاہے اپنی سہولت کے لیے کوئی بھی وقت اور دن مقرر کر سکتا ہے۔ ہاں اس سلسلے میں دو باتیں قابل توجہ ہیں۔
ا۔ اکابرین فرماتے ہیں کہ مردے اپنی قبور میں سات روز تک آزمائش میں رہتے ہیں اس لیے بعد وفات سات روز تک ایصال ثواب کرنا مستحب ہے۔
ب۔ سات دنوں کے بعد ہر شب جمعہ، عید کے دن، عاشورہ (یعنی۱۰؍محرم) کے دن اور شب برأت میں ایصال ثواب بہتر ہے۔
[۱۴]ایصال ثواب کے لیے کوئی دن مقرر کر لینے میں بھی کوئی حرج نہیں بشرط یہ کہ
'ا'- اس کو لازم نہ سمجھا جائے یعنی یہ نہ سمجھا جائے کہ ایصال ثواب اسی دن ہو سکتا ہے دوسرے دن نہیں یا کوئی کسی دوسرے دن ایصال ثواب کرتا ہے تو اُسے شرم دلائی جائے یا بُرا کہا جائے۔
'ب'-اپنی یا دوسرے لوگوں کی سہولت کو دیکھ کر کوئی دن مقرر کر لینا تاکہ زیادہ سے زیادہ لوگ جمع ہو جائیں اور اہتمام کے ساتھ ایصال ثواب کر سکیں ۔
'پ'-کچھ خاندانوں یا علاقوں میں کچھ خاص دن ایصال ثواب کے لیے معروف ہوتے ہیں یعنی سب کو یہ پتہ ہوتا ہے کہ انتقال کے کتنے دن بعد اجتماعی طور پر ایصال ثواب کا اہتمام کیا جاتا ہے تو اِطراف جانب سے لوگ اپنے آپ اس دن جمع ہو جاتے ہیں اور ایصال ثواب میں حصہ لیتے ہیں اور شریعت کی تعلیم کی روشنی میں کسی کار خیر میں جتنا مجمع بڑا ہوگا اس کی فضیلت اتنی ہی زیادہ ہوتی ہے۔ اس کے علاوہ کوئی بھی نیک عمل اجتماعی طور پر کرنے سے لوگوں کی طبیعتوں پر گراں نہیں گزرتا۔
[۱۵]مسلمانوں میں ایصال ثواب کی کچھ صورتیں جو جائز ہیں اورمعروف ہیں مندرجہ ذیل ہیں:
'ا'-دوجہ تیجہ، دسواں، چالیسواں (یا چہلم) اور برسی (سال کے بعد) -انتقال کے دوسرے روز ایصال ثواب کے اہتمام کو دوجہ، تیسرے روز کو تیجہ، دسویں روز کو دسواں، چالیسویں روز کو چالیسواں یا چہلم اور سال کے بعد کو برسی کہتے ہیں۔ ان دنوں لوگ جمع ہوتے ہیں اور مرحوم کے ایصال ثواب کے لیے قرآن خوانی، ذکر و نعت کی محفل کا اہتمام کرتے ہیں۔ کھانے کی چیزیں بچوں اورحاجت مندوں میں تقسیم کرتے ہیں یا کھانا پکوا کر فقیرا و رمساکین کو کھلاتے ہیں یا ان کے گھروں پر بھیجتے ہی۔
'ب'-ماہ رجب میں بعض جگہ سورہ ملک چالیس مرتبہ پڑھ کر روٹیوں یاچھوہاروں پر دم کرتے ہیں اوران کو تقسیم کرتے ہیں اور ثواب مردوں کو پہنچاتے ہیں یہ بھی جائز ہے۔
'پ'-اسی طرح ماہ رجب میں بعض جگہ حضرت سیدنا امام جعفر صادق رضی اللہ عنہ کو ایصال ثواب کے لیے پوریوں کے کونڈے بھرے جاتے ہیں،یہ بھی جائز ہے۔
'ت'-ماہ محرم میں دس دنوں تک خصوصاً دسویں محرم کو حضرت سیدناامام حسین رضی اللہ تعالیٰ عنہ و دیگر شہدائے کربلا کو ایصال ثواب کرتے ہیں کوئی شربت پر فاتحہ دلاتا ہے، کوئی کھیر پر کوئی مٹھائی پر ،کوئی کھچڑے پر جس پر چاہو فاتحہ دلائو جائز ہے۔
'ث'-ماہ ربیع الآخر کی گیارہویں تاریخ بلکہ ہر مہینہ کی گیارہوین تاریخ کو حضور سیدنا غوث الاعظم رضی اللہ تعالیٰ عنہ کی فاتحہ دلائی جاتی ہے یہ بھی جائز ہے عوام اسے گیارہویں کی فاتحہ بولتے ہیں۔
'ج'-ماہ رجب کی چھٹی تاریخ بلکہ ہر مہینے کی چھٹی تاریخ کو حضور خواجہ غریب نواز ،معین الدین چشتی اجمیری رضی اللہ تعالیٰ عنہ کی فاتحہ بھی جائز اور ایصال ثواب میں داخل ہے۔
'ح'-عرس بزرگان جو ہر سال ان کے وصال کے دن پر ہوتا ہے یہ بھی جائز ہے۔
'خ'-شب برأت میں حلوا پکتا ہے اور اس پر فاتحہ دلائی جاتی ہے۔ حلوا پکانا بھی جائز ہے اور اس پر فاتحہ بھی اسی ایصال ثواب میں داخل ہے۔
[۱۶]ایصال ثواب سے متعلق کچھ غلط رسم و رواج اور غلط فہمیاں
'ا'-سب سے اہم بات ،عمل صرف اللہ تعالیٰ کے لیے ہوگا اور وہی ثواب عطا فرمائے گا۔ ذہن میں یہ بات پختہ ہونی چاہیے۔
'ب'-لوگوں کو دکھانے ، ان سے عزت اور واہ واہی حاصل کرنا مقصد نہیں ہو۔
'پ'-کچھ جگہوں پر یہ رواج ہے کہ جس جگہ ایصال ثواب کے لیے تعام تیار کیا جاتا ہے وہیں کھاتے ہیں ،وہاں سے ہٹنے نہیں دیتے،یہ بے جا ہے۔
'ت'-ایصال ثواب کے کچھ خاص موقعوں پر کچھ مخصوص کھانے تیار کیے جاتے ہیں اور ایسا کرنا لازم سمجھا جاتا ہے یہ بھی ٹھیک نہیں ۔
'ث'-ایصال ثواب کے کچھ خاص موقعوں پر یہ لازم سمجھا جاتا ہے کہ اس موقعہ پر تیار کھانے خواتین کھا سکتی ہیں، مرد نہیں اور کہیں اس کاالٹا ہے۔
'ج'-کہیں یہ قید لگائی جاتی ہے کہ کھانا مخصوص برتنوں میں تیار ہوگا دوسروں میں نہیں۔ کہیں مٹی کے برتنوں میں پکانا لازم سمجھتے ہیں۔
'ح'-کہیں یہ لازم سمجھا جاتا ہے کہ کھانا سامنے رکھ کر ہی فاتحہ لگائی جا سکتی ہے۔ جبکہ کھانے کا سامنے ہونا ضروری نہیں۔
'خ'-ایصال ثواب کے لیے کچھ دن اس طرح مخصوص کرلینا کہ ایسایقین رکھنا کہ ایصال ثواب صرف اُسی دن ہو سکتا ہے دوسرے دن کریں گے تو ہوگا ہی نہیں۔
'د'-کہیں یہ قید لگائی جاتی ہے کہ اس موقع پرتیار کھانا صرف باہر کے لوگ کھا سکتے ہیں گھر کے لوگ نہیں کھا سکتے ہیں۔ کہیں یہ قید کہ مال دار نہیں کھا سکتےہیں ، وغیرہ۔
'ذ'-کہیں ایصال ثواب کا ایک خاص طریقہ جس میں قرآن پاک کی مخصوص سورتیں اور آیتیں ایک خاص ترتیب سے پڑھی جاتی ہیں اور اس کو لازم سمجھا جاتا ہے۔
[۱۷]حضور اقدسﷺ سے کئی مرتبہ کھانے میں برکت کے معجزات صحابۂ کرام نے ملاحظہ فرمائے ہیں۔ جن میں آپﷺ سے کھانا جو قلیل مقدار میں ہوتا تھا سامنے رکھ کر کچھ پڑھنا ثابت ہے۔ پھر اس کھانے میں وہ برکت ہوئی کہ ایک بڑی جماعت کا پیٹ بھر کھانا اور کھانےکا کم نہ ہونا ظاہر ہوا ہے۔ اسی سنت پر عمل کی نیت سے اور کھانا سامنے رکھ کر اس پرقرآن مجید سے کچھ تلاوت کر کھانے میں برکت کے حصول کے لیے ایصال ثواب کرنے سے کئی سنتوں پر عمل کا موقع مل جاتا ہے تو یہ ایصال ثواب کی بہتر صورت ہے۔ اور یہ طعام ایک بابرکت طعام میں تبدیل ہوجاتا ہے۔ اسے تبرک سے تعبیر کرتے ہیں۔ اس طعام کا ادب
بہ نسبت دوسرے طعام سے زیادہ ہوتا ہے کیوں کہ اس پر اللہ تعالیٰ کا بابرکت نام لیا گیا ہوتا ہے اس کے ایک ایک دانے کا احترام ہونا چاہیے اور کسی بھی صورت میں اس کی بے ادبی ،ناقدری اور اسے ضائع نہیں کرنا چاہیے۔
[۱۸]ایصال ثواب پر دلائل
'ا'-قرآن مجید سے ثبوت:
حضرت ابراہیم علیہ السلام کی دعا قرآن مجید میں ہے جس کاترجمہ یہ ہے
"اے ہمارے رب مجھے بخش دے اور میرے ماں باپ کو اور سب مسلمانوں کو جس دن حساب قائم ہوگا"۔
چوں کہ ایصال ثواب میں زندہ لوگوں کے عمل سے جو لوگ دنیا سے رخصت ہوگئے، جو لوگ دنیا میں موجود ہیں اور جو لوگ قیامت تک دنیا میں آئیں گے ،سبھی فیضیاب ہوتے ہیں اور دعا بھی ایک عمل ہے اسے اعمال کا مغز کہا گیا ہے۔ ایک نبی کی اوپر مذکور دعا سے پہلے گزرے ہوئے اور بعد میں قیامت تک آنے والے مسلمانوں کا فیضیاب ہونا ثابت ہوا ہے اگر ایسا نہ ہو تو حضرت ابراہیم علیہ السلام کا دعا فرمانا بے کار مانا جائے گا اور کسی نبی سے بے کار کاموں کا صدرو نہیں ہوتا۔ اللہ تعالیٰ کا قرآن مجید میں اس دعا کا ذکر کرنا ثابت کرتا ہے وہ ان کے اس کام سے راضی و خوش ہے اور یہ مسلم بات ہے کہ اللہ تعالیٰ بے کار کاموں سے خوش نہیں ہوتا۔ اس سے معلوم ہوا کہ یہ عمل یقیناً کار آمد ہے تو اس طرح قرآن مجید سے زندہ لوگوں کے عمل سے گزرے ہوئے لوگوں ،موجود لوگوں اور آئندہ آنے والے لوگوں کا نفع حاصل کرنا ثابت ہوا۔
'ب'-احادیث سےثبوت:
حضرت سعد بن عبادہ رضی اللہ عنہ سے مروی ہے کہ انھوں نے حضور ﷺ کی بارگاہ میں عرض کی ’یا رسول اللہ! میری ماں کا انتقال ہوگیا ہے، اُن کے لیے کون سا صدقہ افضل ہے؟ حضور اقدس ﷺ نے فرمایا: ’پانی‘ تو حضرت سعد رضی اللہ عنہ نے ایک سڑک کے کنارے جس سے عام لوگ گزرتے تھے ایک کنواں کھدوایا اور ایک روایت کے مطابق اس پرایک تختی لگوائی جس پر لکھوایا ’سعد کی ماں کے لیے‘
'پ'-حضور اقدس ﷺ کے عمل سے ثبوت:
حضرت عائشہ رضی اللہ عنہا بیان فرماتی ہیں کہ رسول اللہ ﷺ نے ایک سینگوں والامینڈھا لانے کا حکم دیا ، جس کے ہاتھ،پیر اور آنکھیں سیاہ ہو، سو قربانی کے لیے ایسا مینڈھا لایا گیا۔ پھر آپ نے فرمایا’ اے عائشہ ! چُھری لائو‘ پھر فرمایا ’اسے پتھر پر تیز کرو‘ میں نے اس کو تیز کیا۔ پھر آپ نے چھری لی، مینڈھے کو پکڑا، اس کو لٹایا اور ذبح فرمانے لگے۔ پھر فرمایا ’اللہ کے نام سے ،اے اللہ !محمد، آلِ محمد اور اُمّت محمد کی طرف سے اسے قبول فرما۔ پھر اس کی قربانی کی ۔‘‘
'ت'-صحابہ کرام کے عمل سے ثبوت:
حضرت حنش رضی اللہ تعالیٰ عنہ سے مروی ہے کہ حضرت علی رضی اللہ عنہ دو مینڈھوں کی قربانی کیا کرتے تھے، ایک رسول اللہ ﷺ کی طرف سے اورایک اپنی طرف سے ۔ آپ اس کے متعلق پوچھا گیا تو فرمایا کہ ’مجھے رسول اللہ نے اس بات کا حکم فرمایا ہے پس میں اسے کبھی نہ چھوڑوں گا۔‘
[۱۹]حضرت سعد بن عبادہ رضی اللہ عنہ سے متعلق حدیث سے یہ اُصول بھی حاصل ہوتا ہے کہ نیک عمل اللہ تعالیٰ کے لیے کرنے کے بعد اس کی نسبت غیر اللہ کی جانب کرنے سے کوئی فرق نہیں پڑتا ہے۔ جیساکہ انھون نے کنواں کھدوانے کے بعد اس پر تختی لگوائی جس پر اپنی والدہ کی طرف کام کی نسبت کی۔ اسی طرح اگر ایصال ثواب میں عمل خالص اللہ تعالیٰ کے لیے کرنے کے بعد اس کی نسبت غیر اللہ کے لیے کی جائے مثلاً غوث پاک کی فاتحہ، خواجہ صاحب کی فاتحہ ،امام حسین کی فاتحہ، گیارہویں کی فاتحہ وغیرہ۔ تو اس میں کوئی حرج نہیں۔
[۲۰]صحیح بخاری میں حضرت ابن عباس رضی اللہ تعالیٰ عنہما سے روایت ہے، فرماتے ہیں ترجمہ: حضرت سعد بن عبادہ رضی اللہ تعالی عنہ کی والدہ فوت ہو گئیں اور وہ موجود نہ تھے، انہوں نے عرض کیا: یا رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم! میری والدہ میری غیر موجودگی میں وفات پاگئیں، اگر میں ان کی طرف سے صدقہ کروں تو ان کو فائدہ پہنچے گا؟ فرمایا: ہاں ، انہوں نے عرض کیا: میں آپ کو گواہ کرتا ہوں کہ میں نے اپنا پھلوں والا باغ اپنی والدہ کی طرف سے صدقہ کیا۔
[۲۱] صحیح مسلم میں ہے ترجمہ: حضرت ابو ہریرہ رضی اللہ تعالی عنہ سے روایت ہے، رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے ارشاد فرمایا: جب انسان مر جاتا ہے تو اس کا عمل منقطع ہو جاتا ہے مگر تین صورتوں میں اسے مرنے کے بعد بھی عمل کا ثواب ملتا ہے: ایک صدقہ جاریہ کی صورت میں ، دوسرا نفع والا علم اور تیسرا نیک اولاد جو اس کے لیے دعا کرے۔
[۲۲]حضرت ابوہریرہ رضی اللہ تعالی عنہ سے روایت ہے، رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے ارشاد فرمایا ترجمہ: بے شک مومن کو مرنے کے بعد اس کے اعمال اور نیکیوں میں سے جن کا ثواب پہنچتا ہے ان میں سے وہ علم جو اس نے سکھایا اور پھیلایا، نیک اولاد جو اس نے چھوڑی، قرآن مجید جو وراثت میں چھوڑا، جو مسجد اس نے بنوائی، جو مسافر خانہ اس نے بنوایا، جو نہر اس نے کھدوائی ، اور جو اپنی صحت اور زندگی میں اپنے مال سے صدقہ کیا مرنے کے بعد بھی اس کا ثواب اسے ملتا ہے۔
[۲۳] حضرت ابوہریرہ رضی اللہ تعالی عنہ سے روایت ہے، فرماتے ہیں: مرنے کے بعد میت کا درجہ بلند کیا جاتا ہے تو وہ عرض کرتا ہے: اے میرے رب ! یہ درجہ کیسے بلند ہوا، فرمایا جاتا ہے : تیری اولاد کے تیرے لیے استغفار کرنے کی وجہ سے۔
[۲۴]حضرت عبد اللہ بن عمر رضی اللہ تعالی عنہا سے روایت ہے، فرماتے ہیں ، رسول الله صلى الله عليه وسلم نے ارشاد فرمایا: جب کوئی نفلی صدقہ کرے اور وہ اپنے والدین کی طرف سے کرے تو اس کے والدین کو اجر ملے گا اور اس کے اجر میں سے بھی کم نہیں ہوگا۔
[۲۵] حضرت عبداللہ بن عباس رضی اللہ تعالی عنہما سے روایت ہے، نبی کریم صلی اللہ ردو علیہ وسلم نے فرمایا،ترجمہ: مرنے والا شخص قبر میں ڈوبنے والے ،فریاد کرنے والے کی طرح ہوتا ہے، وہ ماں باپ، بھائی ، دوست کی دعا کا انتظار کرتا ہے، جب اسے یہ دعا پہنچتی ہے تو وہ اسے دنیا اور اس میں موجود ہر چیز سے محبوب ہوتی ہے اور بے شک اللہ عزوجل دنیا والوں کی دعا سے قبر والوں کے پاس پہاڑ کی مثل ( نور و رحمت ) داخل فرماتا ہے، بے شک زندوں کا مردوں کے لیے تحفہ ان کے لیے استغفار کرنا ہے۔
[۲۶]حدیث پاک میں ہے ترجمہ: بے شک نیکی کے بعد نیکی یہ ہے کہ تم اپنی نماز کے ساتھ ( ایصال ثواب کے لیے ) اپنے والدین کے لیے (نفل) نماز پڑھو اور اپنے روزوں کے ساتھ) ایصالِ ثواب کے لیے ) والدین کے لیے بھی روزے رکھو۔
[۲۷] حضرت علی رضی اللہ تعالی عنہ سے روایت ہے،ترجمہ : جو شخص قبرستان سے گزرے اور سورۂ اخلاص گیارہ مرتبہ پڑھے اور اس کا ثواب مردوں کو ایصال کرے تو اس شخص کو تمام مردوں کے برابر اجر دیا جائے گا۔