دیدارِ الٰہی

عقیده - شب معراج نبی صلی اللہ علیہ وسلم نے جاگتے ہوئے سر کی آنکھوں سے اپنے رب عز وجل کا دیدار کیا ۔

 دیدار الہی پر کچھ دلائل

[۱] قرآن مجید سے ثبوت :

 اللہ تعالی ارشاد فرماتا ہے : " آنکھ نہ کسی طرف پھری نہ حد سے بڑھی"- اس آیت پاک کے تحت علامہ اسماعیل حقی رحمتہ اللہ علیہ فرماتے ہیں : " معلوم ہوا کہ نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم کا اللہ عزوجل کو دیکھنا جاگتے ہوئے ظاہری آنکھوں کے ساتھ تھا "۔

[۲] احادیث سے ثبوت:

'۱'-حضرت عبد الله بن عباس رضی اللہ عنہ سے روایت ہے ، فرماتے ہیں: "رسول الله صلی اللہ علیہ وسلم فرماتے ہیں میں نے

اپنے رب عز و جل کو دیکھا "۔

'۲'- رسول الله صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا : " میں نے اللہ عزوجل کا دیدار کیا ، اللہ تعالٰی نے اپنا دست قدرت میرے کندھوں کے درمیان رکھا ،میں نے اس کی ٹھنڈک اپنے سینے میں محسوس کی ، پس میرے لیے ہر چیز روشن ہوگئی اور میں نے ہر چیز کو پہچان لیا" ۔

'۳'- حضور سید المرسلین صلی اللہ علیہ وسلم کا فرمان ہے : " بیشک اللہ تعالٰی نے موسی کو دولت کلام بخشی اور مجھے اپنا دیدار عطا فرمایا ، مجھ کو شفاعت کبٰری و حوض کوثر سے فضیلت بخشی"۔

'۴'-حضرت عبد الله بن مسعود رضی اللہ عنہ سے روایت ہے کہ : " رسول الله فرماتے ہیں:" مجھے میرے رب عز و جل نے فرمایا : میں نے ابراہیم کو اپنی دوستی دی اور موسیٰ سے کلام فرمایا اور تمہیں اے محمد ! مواجہہ بخشا کہ بے پردہ  و حجاب تم نے میرا جمال پاک دیکھا ۔ [۳]اقوال صحابہ سے ثبوت:

'۱'-ترمذی شریف میں حضرت عبداللہ بن عباس رضی اللہ عنہ سے مروی ہے ،فرماتے ہیں: "ہم بنی ہاشم اہل بیت رسول اللہ 

صلی اللہ علیہ وسلم فرماتے ہیں کہ بیشک محمد صلی اللہ علیہ وسلم نے اپنے رب کو دوبار دیکھا "۔

'۲'-حضرت انس بن مالک رضی اللہ عنہ فرماتے ہیں : " بیشک محمد صلی اللہ علیہ وسلم نے اپنے رب عز و جل کو دیکھا "۔

'۳'- مروان نے حضرت ابو ہریرہ رضی اللہ عنہ سے پوچھا : کیا محمد صلی اللہ علیہ وسلم نے اپنے رب کو دیکھا ؟ فرمایا : ہاں۔

[۴[تابعین اور ائمہ کے اقوال سے ثبوت:

'۱'- مصنف عبد الرزاق میں ہے : " امام حسن بصری رحمتہ اللہ علیہ قسم کھا کر فرمایا کرتے بیشک محمد صلی اللہ علیہ وسلم نے اپنے رب کو دیکھا "

'۲'- علامہ شہاب شرح شفائے امام قاضی عیاض میں فرماتے ہیں : "مذہب اصح و راجح یہی ہے کہ نبی صلی اللہ علیہ وسلم نے شب اسراء اپنے رب کو بچشم سر دیکھا جیسا کہ جمہور صحابہ کرام کا یہی مذہب ہے"۔

'۳'-علامہ محمد بن عبد الباقی رحمتہ اللہ علیہ شرح مواہب میں فرماتے ہیں : جمہور علماء کے نزدیک راجح یہی ہے کہ نبی صلی اللہ علیہ وسلم نے شب معراج اپنے رب کو اپنے سر کی آنکھوں سے دیکھا "

[۵] دنیا میں حضور صلی اللہ علیہ وسلم کے علاوہ کسی کے لئے بیداری کے ساتھ چشم سر سے اللہ تعالیٰ کا دیدار ممکن نہیں ، جو اس کا دعوی کرے وہ کافر ہے ۔ صحیح مسلم شریف میں ہے ، رسول الله صلی اللہ علیہ وسلم نے ارشاد فرمایا: "جان لو موت سے پہلے تم میں سے کوئی بھی اپنے رب کا دیدار ہرگز نہیں کر سکتا "۔ فتاوی حدیثیہ میں ہے : " کسی کے لیے جائز نہیں کہ وہ سر کی آنکھوں سے اللہ تعالیٰ کو دیکھنے کا دعوی کرے ، اور جس نے یہ نے یہ گمان کیا وہ کافر ہے "۔ ملا علی قاری اور دیگر فقہاء  نے بھی اللہ تعالی کا جاگتی آنکھوں سے دیدار کا دعوی کرنے والے کی تکفیر کی ہے۔

[۶]خواب میں اللہ تعالیٰ کا دیدار 

'۱'-نبی پاک صلی اللہ علیہ وسلم کے علاوہ کے لیے بھی خواب میں اللہ تعالیٰ کا دیدار ممکن ہے جیسا کہ امام اعظم ابو حنیفہ رضی اللہ عنہ کو سو 100 مرتبہ خواب میں اللہ تعالیٰ کا دیدار نصیب ہوا ۔ ان کے علاوہ بھی بہت سے اولیاء اللہ سے یہ بات ثابت ہے کہ انہیں خواب میں اللہ تعالیٰ کا دیدار نصیب ہوا ۔

'۲'- امام محمد بن سیرین رحمتہ اللہ علیہ فرماتے ہیں کہ جس نے خواب میں اللہ تعالیٰ کا دیدار کیا تو وہ جنت میں داخل ہوگا اور غموں سے نجات حاصل کر لے گا ۔

'۳'- امام احمد رحمتہ اللہ علیہ کے حوالے سے منقول ہے وہ فرماتے ہیں کہ میں نے خواب میں اللہ عزوجل کا دیدار کیا تو میں نے اپنے رب سے سب سے افضل عبادت کے متعلق سوال کیا تو اللہ عز و جل نے ارشاد فرمایا کہ قرآن کی تلاوت کرنا ۔

'۴'-لہذا اگر کوئی پابند شرح آدمی خواب میں اللہ تعالیٰ کے دیدار کا دعوی کرے تو اسکو سچا جاننا چاہیے کہ مسلمان پر بلا وجہ یہ گمان کرنا جائز نہیں کہ جھوٹ بولتا ہوگا ۔ لیکن اگر کوئی گنہگار  شخص اس بات کا دعوی کرے تو اس کا دعوی قبول کرنے سے سکوت کرنا چاہیے خصوصا آج کل کے بہت سے سے ڈِبّہ پیروں کے دعووں کی تو صریح تکذیب کی جائے کہ جنہیں نماز پڑھنے کی بھی توفیق نہیں وہ بھی اس بات کا دعوی کرتے نظر آتے ہیں ایسوں کی بات نہیں مانی جائے گی ۔