سایہ نہ تھا
تاجدار رسالت شہنشاہ نبوت صلی اللہ علیہ وسلم کے جسد اطہر کا سایہ نہیں تھا ، اس پر درج ذیل دلائل ہیں :
[۱]حکیم ترمذی نے ذکوان سے روایت کی: " سرور عالم صلی اللہ علیہ ہ علیہ وسلم کا سایہ نہ دھوپ میں نظر آتا نہ چاندنی میں "
[۲]امام علامہ قاضی عیاض رحمتہ اللہ علیہ شفاء شریف میں فرماتے ہیں: "حضور کے دلائل نبوت و آیات رسالت سے ہے وہ بات جو مذکور ہوئی کہ آپ کے جسم انور کا سایہ نہ دھوپ میں ہوتا نہ چاندنی میں اس لئے کہ حضور نور ہیں"۔
[۳] امام علامہ احمد بن محمد خطیب قسطلانی رحمتہ اللہ علیہ فرماتے ہیں : " رسول الله صلی اللہ علیہ وسلم کے لئے سایہ نہ تھا دھوپ میں نہ چاندنی میں "
[۴] محمد زرقانی رحمتہ اللہ علیہ فرماتے ہیں : " حضور کے لئے سایہ نہ تھا اور وجہ اس کی یہ ہے کہ حضور نور ہیں ، جیسا کہ علماء فرماتے ہیں : "سبب اس کا یہ تھا کہ حضور کا نور تمام انوار عالم پر غالب تھا ، اور بعض علماء نے کہا کہ حکمت اس کی رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کو بچانا ہے اس سے کہ کسی کافر کا پاؤں ان کے سایہ پر نہ پڑے"۔
[۵] امام نسفی تفسیر مدارک شریف میں فرماتے ہیں :" امیر المؤمنین عثمان غنی رضی اللہ عنہ نے حضور اقدس صلی اللہ علیہ وسلم سے عرض کہ بے شک اللہ تعالٰی نے حضور کا سایہ زمین پر نہ ڈالا کہ کوئی شخص اس پر پاؤں نہ رکھ دے"۔
[۶] شیخ محقق مولانہ عبد الحق محدث دہلوی رحمتہ اللہ علیہ مدارج النبوۃ میں فرماتے ہیں ہیں : : " سرکار دو عالم صلی الله علیہ وسلم کا سایہ سورج اور چاند کی روشنی میں نہ تھا .... اور' نور' حضور ﷺکے اسماء مبارکہ میں سے ہے اور نور کا سایہ نہیں ہوتا "۔
[۷]جناب شیخ مجدد الف ثانی سرہندی رحمتہ اللہ علیہ فرماتے ہیں :" آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم کا سایہ نہ تھا ، عالم شہادت میں ہر شخص کا سایہ اس سے بہت لطیف ہوتا ہے اور چونکہ جہان بھر میں آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم سے کوئی چیز لطیف نہیں ہے لہٰذا آپ کا سایہ کیونکر ہو سکتا ہے"۔
[۸] مولانا شاہ عبدالعزیز رحمتہ اللہ علیہ تفسیر عزیزی میں سورہ والضحٰی کی تفسیر میں لکھتے ہیں :" آپ صلی اللہ علیہ وسلم کا سایہ زمین پر نہ پڑتا "۔
[۹] امام اہلسنت مجدد دین و ملت امام احمد رضا خان رحمتہ اللہ علیہ فرماتے ہیں : "بیشک نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم کے لئے سایہ نہ تھا ، اور یہ امر احادیث و اقوال علماء کرام سے ثابت ہے" ۔