ایمان ابوین
[۱] عقیدہ - سرور کائنات فخر موجودات محمد مصطفی صلی اللہ علیہ وسلم کے والدین (ماں باپ) حضرات ابوین کریمین رضی اللہ تعالیٰ عنہما یعنی حضرت عبد الله رضی اللہ عنہ اور حضرت آمنہ رضی اللہ عنہا صاحب ایمان یعنی مومن ہیں ، بلکہ حضرت آدم علیہ السلام سے لے کر
آپ کے والدین تک سارے آباء و امہات ہر زمانہ اور ہر طبقہ میں صاحب ایمان تھے،ان میں سے کوئی مشرک نہیں تھا۔
[۲]قرآن و سنت میں سرور کائنات صلی اللہ علیہ وسلم کے والدین کے مومن ہونے پر متعدد دلائل موجود ہیں ، جن میں سے بعض درج ذیل ہیں۔
'۱'- الله عز وجل فرماتا ہے : ترجمہ: بیشک مسلمان غلام بہتر ہے مشرک سے " (سورہ بقرہ ) اور رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم فرماتے ہیں، ترجمہ: "میں ہر قرن (زمانہ) و طبقہ میں تمام قرون بنی آدم کے بہتر سے بھیجا گیا یہاں تک کہ اس قرن میں ہوا جس میں میں پیدا ہوا ۔ '۲'- حدیث میں ہے، ترجمہ : روئے زمین پر ہر زمانے میں کم سے کم سات مسلمان ضرور رہے ہیں، ایسا نہ ہوتا تو زمین واہل زمین سب ہلاک ہو جاتے۔ تو احادیث سے یہ ثابت ہوا کہ ہر قرن و طبقے میں روئے زمین پر کم سے کم سات مسلمان بندگان مقبول ضرور رہے ہیں اور یہ بھی ثابت ہوا کہ حضور اقدس صلی اللہ علیہ وسلم کے سارے آباء و امہات ہر زمانے میں ہر قرن میں سب سے بہتر قرن سے تھے ، اور قرآن پاک کی آیت سے ثابت ہے کہ کوئی کا فراگرچہ کیسا ہی شریف القوم ، بالانسب ہو ، کسی غلام مسلمان سے بھی خیر و بہتر
نہیں ہو سکتا تو واجب ہوا کہ مصطفی صلی اللہ علیہ وسلم کے آباء و امہات ہر قرن اور طبقہ میں انہیں بندگان صالح و مقبول سے ہوں۔
'۳'- اللہ تعالیٰ نے فرمایا ، ترجمہ:" کافر تو ناپاک ہی ہیں ۔ (سورہ توبہ)، اور حدیث میں ہے حضور سید المرسلین صلی اللہ علیہ وسلم فرماتے ہیں، ترجمہ: " ہمیشہ اللہ تعالیٰ مجھے پاک پشتوں سے پاکیزہ رحموں میں منتقل فرماتا رہا ، صاف ستھرا آراستہ جب دو شاخیں پیدا ہوئیں، میں ان میں سے بہتر شاخ میں تھا۔ دوسری حدیث میں ہے ، آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا ، ترجمہ : ہمیشہ اللہ عز و جل مجھے کرم والی پشتوں اور طہارت والے شکموں میں نقل فرماتا رہا ۔ یہاں تک کہ مجھے میرے ماں باپ سے پیدا کیا " تو ثابت ہوا کہ حضور صلی اللہ علیہ وسلم کے آبائے کرام طاہرین و امہات کرام طاہرات سب اہل ایمان ہوں کیوں کہ قرآن پاک کی کسی بھی آیت میں کسی بھی کافر و کافرہ کے لئے کرم و طہارت میں سے حصّہ نہیں ہے۔