اذان میں انگوٹھے چومنا

[۱]جب مؤذن کہے " اَشھد انّ محمد الرَّسُولُ اللهِ "تو اس کو سن کر اپنے دونوں انگوٹھے یا کلمے کی انگلی چوم کر آنکھوں سے لگانا مستحب ہے اور اس کے دنیاوی و دینی چند فائدے ہیں۔ اس کے متعلق احادیث وارد ہیں۔ صحابہ کرام کا اس پر عمل رہا ۔ عام طور پر مسلمان ہر جگہ اس کو مستحب ، جان کر کرتے ہیں۔

[۲]حضرت سیدنا صدیق اکبر رضی اللہ تعالیٰ عنہ نے مُؤذن سے "اشهد ان محمدا لرسول الله" سن کر اسے دہرایا اور دونوں انگوٹھے چوم کر انہیں آنکھوں سے لگایا تو سرکار نامدار صلی اللہ علیہ وسلم نے ارشاد فرمایا : "جو شخص میرے اس پیارے دوست کی طرح کرے اُس کے لیے میری شفاعت حلال ہو گئی "۔ (فیضان صدیق اکبر، ص 187

[۳]حضرت سیدنا امام حسن رضی اللہ عنہ نے ارشاد فرمایا : جو شخص مؤذن سے "اشهد ان محمد الرسُولُ الله" سن کر کہے 

"مرحبا بحبیبی و قرّۃ عینی محمد بن عبد اﷲ"پھر دونوں انگوٹھے چوم کر آنکھوں پر رکھے ، وہ کبھی اندھا نہ ہوگا اور نہ ہی اُس کی آنکھیں دکھیں گی۔  ( مقاصد حسنہ حدیث : 1021

[۴] علامہ ابن عابدین شامی رَحْمَةُ الله عَلَيْهِ فرماتے ہیں: مستحب یہ ہے کہ جب پہلی شہادت سنے تو کہے: صَلَّى اللهُ عَلَيْكَ يَا رَسُولَ اللهِ اور جب دوسری سنے تو دونوں انگوٹھے اپنی دونوں آنکھوں پر لگانے کے بعد کہے : قَرَّتْ عَيْنِي بِكَ يَا رَسُولَ اللهِ پھر یہ کہے: اللهُمَّ مَتِّعْنِى بِالسَّمْعِ وَالْبَصَرِ تو حضور ﷺ جنت کی طرف اس کے قائد ہونگے جیسا کہ گنز العباد اور الفتاوى الصوفية ہیں۔ ہے اور کتاب الفردوس میں ہے کہ ہے کہ جس نے اذان میں أَشْهَدُ أَنَّ مُحَمَّدًا رَسُولُ الله سننے کے بعد اپنے دونوں انگوٹھوں کو بوسہ دیا تو جنت کی صفوں میں ، میں اس کا قائد اور داخل کرنے والا ہوں گا۔ 

[۵] ایک شخص کا بیان ہے کہ میں نے مشہور محدث حضرت سیدنا شیخ نور الدین خراسانی علیہ ارحمتہ اللہ کو اذان کے وقت دیکھا کہ جب مؤذن نے اشھد ان محمد ارسُولُ الله کہا تو دونوں مرتبہ آپ نے انگوٹھے چوم کر آنکھوں سے لگائے ۔ میں نے اس کا سبب پوچھا تو ارشاد فرمایا : میں پہلے یہ عمل کیا کرتا تھا ، پھر اسے ترک کر دیا تو میری آنکھوں میں بیماری ہوگئی۔ میں نے خواب میں سرکار نامدار صلی اللہ علیہ وسلم کی زیارت کی اور آپ نے ارشاد فرمایا : تم نے اذان میں میرے ذکر کے وقت آنکھوں پر انگوٹھے پھیرنا کیوں ترک کر دیا ؟ اگر تم چاہتے ہو کہ تمہاری آنکھیں ٹھیک ہو جائیں تو پھر سے یہ عمل شروع کر دو بیداری کے بعد میں نے یہ عمل دوبارہ شروع کر دیا ، اس کی برکت سے میری آنکھیں درست ہو گئیں اور اب تک دوبارہ وہ بیماری نہیں ہوئی۔ (مواهب الجليل من (101)

[۶] نماز پڑھتے وقت نیز قرآن پاک اور خطبہ جمعہ وغیرہ سنتے وقت انگوٹھے نہیں چومنے چاہئیں۔ اذان اور تکبیر کے علاوہ بھی اگر کوئی شخص حضور صلی اللہ علیہ وسلم کا نام شریف سن کر انگوٹھے چومے تو بھی کوئی حرج نہیں بلکہ نیت نیک سے ہو تو باعث ثواب ہے ۔