بدعت کی حقیقت

[۱]بدعت عربی زبان کا لفظ ہے۔ اس کا معنی ہے : کسی سابقہ مثال یا نمونہ کے بغیر کوئی نئی چیز ایجاد کرنا ۔

[۲]بدعت کی اصطلاحی تعریف ۔ ہر وہ نیا کام جس کی کوئی شرعی دلیل ، شرعی اصل مثال یا نظیر پہلے سے کتاب وسنت اور آثار صحابہ میں موجود نہ ہو وہ بدعت ہے۔

[۳] ہر بدعت غیر پسندیدہ یا ناجائز و حرام نہیں ہوتی ہے بلکہ صرف وہی بدعت ناجائز  ہوگی جو کتاب و سنت کے واضح احکامات سے ٹکراتی ہو یا سنت کو مٹانے والی ہو۔

[۴]بدعت کی اقسام - بدعت کی دو قسمیں ہیں: '۱'- بدعت اعتقادی '۲'-بدعت عملی

[۵]بدعت اعتقادی - بدعت اعتقادی اُن برے عقائد کو کہتے ہیں جو حضور اقدس صلی اللہ علیہ وسلم کے بعد اسلام میں ایجاد ہوئے، عیسائی، یہودی، مجوسی اور مشرکین کے عقائد بدعت اعتقادی نہیں کیونکہ یہ عقائد حضور اقدس صلی اللہ علیہ وسلم کے زمانہ پاک میں موجود تھے جب کہ جبریہ ، قدریہ ، مرجیہ ، چکڑالوی ، غیر مقلد، دیوبندی عقائد بدعت اعتقاد یہ ہیں کیوں کہ یہ سب بعد کو بنے اور یہ لوگ ان کو اسلامی عقائد سمجھتے ہیں۔ مثلاً دیوبندی کہتے ہیں کہ خدا جھوٹ پر قادر ہے ، حضور اقدس صلی اللہ علیہ وسلم غیب سے جاہل ہیں، یا حضور اقدس صلی اللہ علیہ وسلم کا خیال نماز میں بیل گدھے کے خیال سے بدتر ہے ۔ یہ ناپاک عقیدے بارھویں صدی کی پیداوار ہیں۔ بدعت اعتقادی سے متعلق حدیث ہے۔ ہے کہ "جو شخص ہمارے اس دین میں وہ عقیدے ایجاد کرے جو دین کے خلاف ہوں وہ مردود ہے"۔

بدعت اور بدعتی پر جو سخت وعیدیں احادیث میں آئی ہیں ان سے مراد بدعت اعتقادیہ ہے۔ حدیث میں ہے کہ جس نے بدعتی (یعنی بدعت اعتقادیہ والے) کی تعظیم کی اس نے اسلام کے ڈھانے پر مدد دی" معلوم ہوا کہ بدعت اعتقادی حرام ہے ۔

[۶]بدعت عملی - بدعت عملی ہر وہ کام ہے جو حضور اقدس صلی اللہ علیہ وسلم کے زمانہ پاک کے بعد ایجاد ہوا خواہ وہ دنیاوی ہو یا دینی ، خواہ صحابہ کرام کے زمانہ میں ہویا اس کے بھی بعد ہوا ہو۔ بدعت عملی کی دو قسمیں ہیں ۔ '۱'- بدعت حسنہ '۲'- بدعت  سیّئہ

[۷]بدعت حسنہ- ایسا نیا کام جو قرآن و حدیث کے خلاف نہ ہو اور مسلمان اسے اچھا جانتے ہوں ، اسے بدعت حسنہ کہتے ہیں۔ جیسے محفل میلاد ، دینی مدارس، پریس میں قرآن و دینی کتابوں کا چھپوانا ، نئے نئے عمدہ کھانے وغیرہ ۔ بدعت حسنہ جائز بلکہ بعض اوقات مستحب ، اور واجب بھی ہوتی ہے ۔ حدیث شریف میں ہے جو کوئی اسلام میں اچھا طریقہ جاری کرے، اس کو اس کا ثواب ملے گا اور اس کا بھی جو اس پر عمل کریں گے اور ان کے ثواب سے کچھ کم نہ ہوگا... "۔بدعت حسنہ کی تین قسمیں ہیں ۔ '۱'- بدعت جائز

'۲'- بدعت مستحب '۳'-بدعت واجب

[۸]بدعت جائز ۔ ہر وہ نیا کام جو شریعت میں منع نہ ہو اور بغیر کسی نیک نیت کے ساتھ کیا جائے جیسے نئے نئے عمدہ    کھانے، لباس ،اور

 شربت وغیرہ ۔ ان کاموں پر نہ ثواب ہے اور نہ عذاب۔

[۹] بدعت مستحب - وہ نیا کام جو شریعت میں منع نہ ہو اور اسے کسی نیک نیت کے ساتھ کیا جائے یا عام مسلمان اس کو کار ثواب جانتے ہوں ۔ جیسے محفل میلاد شریف، فاتحہ بزرگان ، مسافر خانوں کا قیام وغیرہ کہ عام مسلمان اس کو کار ثواب جانتے ہیں۔ ان کاموں کو کرنے والا ثواب پائے گا اور نہ کرنے والا گناہ گار نہیں ہوتا ہے۔

[۱۰]بدعت واجب - وہ نیا کام جو شریعت میں منع نہ ہو اور اس کے چھوڑنے سے دین میں حرج واقع ہو جیسے علم نحو کا سیکھنا ،  علم فقہ واصول فقہ کا جمع کرنا ، دلائل قائم  کرنا ، قرآن پاک میں اعراب لگانا ، قرآن پاک اور دینی کتب کا چھاپنا ، دینی مدارس کا قیام و غیره۔

[۱۱]بدعت سیّئہ ۔ دین میں ایسا نیا کام جو قرآن و حدیث سے ٹکراتا ہو، جس سے سنت اُٹھ جاتی ہو ، وہ ایجاد کرنے والا بھی مردود اور ایسا عمل بھی باطل ہے جیسے اُردو میں خطبہ و نماز پڑھنا ، فارسی میں اذان دینا وغیرہ ۔ حدیث شریف میں ہے :".... جس نے اسلام میں کوئی بُرا طریقہ نکالا اور اُس کے بعد اُس پر عمل کیا گیا تو اسے اس پر عمل کرنے والوں کی مانند گناہ ملے گا اور عمل کرنے والوں کے گناہوں میں 

بھی کمی نہ کی جائے گی"۔ بدعت سیئہ کی دو قسمیں ہیں۔ '۱'- بدعت مکروہ '۲'- بدعت حرام

[۱۲]بدعت مکروہ ۔ وہ نیا کام جس سے کوئی سنت چھوٹ جائے ۔ اگر سنت غیر مؤکدہ چھوٹی تو یہ بدعت مکروہ تنزیہی ہے اور اگر سنت مؤکدہ چھوٹی تو یہ بدعت مکروہ تحریمی ہے۔ جیسے مسجدوں کو فخریہ زینت دینا، غیر عربی میں خطبہ جمعہ و عیدین پڑھنا۔

[۱۳]بدعت حرام ۔ وہ نیا کام جس سے کوئی واجب چھوٹ جائے یعنی واجب کو مٹانے والی ہو جیسے قرآن میں اس طرح لحن کرنا کہ قرآن مجید کے الفاظ عربی وضع سے نکل جائیں یہ ایک بدعت ہے جو کہ حرام ہے۔

[۱۴]بدعت اچھی بھی ہو سکتی ہے :

بد مذہب یہ گمراہ کن نظریہ پھیلاتے ہیں کہ بدعت بری ہوتی ہے اچھی نہیں ہو سکتی ہے حالانکہ ان کا یہ نظریہ احادیث مبارکہ ، اقوال صحابہ اور اقوال ائمہ کے خلاف ہے ، اس پر درج ذیل دلائل ہیں :

'۱'- قرآن مجید میں ہے : ترجمہ " اور راہب بننا تو یہ بات انہوں نے دین میں اپنی طرف سے نکالی ہم نے ان پر مقرر نہ کی تھی ہاں یہ بدعت انہوں نے اللہ کی رضا چاہنے کو پیدا کی پھر اسے نہ نباہا جیسا اس کے نباہنے کا حق تھا تو ان کے ایمان والوں کو ہم نے ان کا ثواب عطا کیا اور ان میں سے بہتیرے فاسق ہیں" ۔ سورہ الحدید، آیت (21) 

اس آیت سے معلوم ہوا کہ بدعت یعنی دین میں کسی بات کا نکالنا اگر وہ بات نیک ہو۔ اور اس سے رضائے الہی مقصود ہو تو بہتر ہے اس پر ثواب ملتا ہے اور اس کو جاری رکھناچاہیے ۔

'۲'- حضرت زید بن ثابت رضی اللہ تعالٰی عنہ سے روایت ہے، فرماتے ہیں کہ مجھے حضرت ابو بکر صدیق رضی اللہ تعالیٰ عنہ نے بلایا اور فرمایا : " حضرت عمر رضی اللہ تعالیٰ عنہ میرے پاس آئے ہیں اور انہوں نے کہا ہے کہ یمامہ میں بہت حفاظ قرآن شہید ہوئے اور میں ڈرتا ہوں کہ اگر حاملان قرآن تیزی سے شہید ہوتے گئے تو قرآن کا ایک بڑا حصہ ختم ہو جائے گا میری رائے یہ ہے کہ آپ قرآن مجید کے جمع کرنے اور ایک جگہ لکھنے کا حکم دیں ، صدیق اکبر نے فرمایا : رسول الله صلی اللہ علیہ وسلم نے تو یہ کام کیا ہی نہیں تو میں یہ کام کیوں کروں ۔ فاروق اعظم رضی اللہ عنہ نے عرض کیا : اگر چہ حضور اقدس نے نہ کیا مگر خدا کی قسم کام تو خیر ہے۔ صدیق اکبر فرماتے ہیں پھر عمر مجھ سے اس معاملہ میں بحث کرتے رہے یہاں تک کہ خدا تعالیٰ نے میرا سینہ اس امر کے لئے کھول دیا۔ اور میری رائے عمر کی رائے سے موافق ہو گئی ..." اس گفتگو کے بعد صدیق اکبر نے زید بن ثابت کو قرآن پاک کو کتابی شکل میں جمع کرنے کا حکم دیا اور اس طرح

قرآن پاک ایک جگہ کتابی شکل میں جمع ہوا ۔

'۳'- حضور اقدس صلی اللہ علیہ وسلم نے اپنی حیات ظاہری میں رمضان شریف میں تراویح  کی نماز کی ترغیب دی مگر رکعات کی تعداد معین نہ فرمائی ۔ اسی طریقہ پر حضرت ابو بکر صدیق رضی اللہ عنہ بھی قائم رہے۔ حضرت عمر فاروق رضی اللہ عنہ نے اپنے دور خلافت میں رمضان کی ایک رات میں صحابہ کو الگ الگ تراویح کی نماز کو ادا کرتے ہوا دیکھا تو فرمایا کہ میں چاہتا ہوں کہ یہ لوگ ایک قاری کے پیچھے کھڑے ہو کر اکٹھے نماز پڑھیں تو بہت اچھا ہوگا پھر ان کے لیے حضرت ابی بن کعب رضی اللہ عنہ کو امام مقرر کر دیا پھر ایک مرتبہ آپ نے لوگوں کو ایک امام کے پیچھے تراویح کی نماز ادا کرتے دیکھا تو آپ نے فرمایا : " یہ بدعت کتنی اچھی ہے" (صحیح بخاری)

'۴'-حضور اقدس صلی اللہ علیہ وسلم کے دور اقدس سے حضرت عثمان غنی رضی اللہ عنہ کے ابتدائی دور تک نماز جمعہ کے لیے ایک اذان اور اقامت ہوتی تھی۔ حضرت عثمان غنی نے اسلام میں وسعت کے پیش نظر ایک اذان کا اضافہ فرمایا جو اُس وقت سے آج تک جمعہ کی اذان اول ہے ۔ کسی نے اس پر کوئی اعتراض نہ کیا۔

'۵'-امام شافعی رحمتہ اللہ علیہ فرماتے ہیں: " وہ نئی باتیں جو قرآن، حدیث ، آثار یا اجماع کے خلاف ہوں وہ تو بدعت و گمراہی ہیں۔ اور وہ نئی باتیں جو بھلائی کے کاموں سے نکالی جائے اور اس میں ان (مذکورہ (چیزوں کا خلاف نہ ہو تو وہ بری نہیں ۔

'۶'- کیمیائے سعادت میں امام غزالی رحمتہ اللہ علیہ ارشاد فرماتے ہیں " یہ سب امور اگر چہ نوپید ہیں اور صحابہ و تابعین سے منقول نہیں ہیں ، مگر ایسا بھی نہیں کہ ہرنئی بات نا جائز و بدعت ہو کیونکہ بہت ساری نئی باتیں اچھی ہیں چنانچہ مذموم بدعت وہ ہوگی جو سنت رسول کے مخالف ہو"۔ [۱۵] بدعت کی اقسام

[۱۶]بد مذہب مسلمانوں کے ان معمولات کو جن کی اصل قرآن و حدیث سے ثابت ہے انہیں بدعت کہتے ہیں اور دلیل دینے کے بجائے یہ کہہ کر رد کر دیتے ہیں کہ اس خاص ہیئت کے ساتھ اس کا ثبوت قرون ثلثہ (دور نبوی ، دور صحابہ ، دور تابعین) میں نہیں تھا ۔ آؤ ہم آپ کو دکھائیں کہ اسلام کی کوئی عبادت بدعت حسنہ سے خالی نہیں،فہرست ملاحظہ ہو۔

'۱'- ایمان - مسلمان کے بچہ بچہ کو ایمان مجمل اور ایمان مفصل یاد کرایا جاتا ہے،ایمان کی یہ قسمیں اور ان کے یہ دونوں نام بدعت ہیں قرون ثلثہ میں ان کا کوئی پتہ نہیں ہے ۔

'۲'-کلمہ - ہر مسلمان چھ کلمہ یاد کرتا ہے ۔ یہ چھ کلمے ان کی تعداد، ان کی ترکیب کہ یہ پہلا کلمہ ہے۔ یہ دوسرا اور ان کے یہ نام ہیں۔ سب بدعت ہیں جن کا قرون ثلثہ میں پتہ بھی نہیں تھا ۔

'۳'- قرآن شریف کے تیس پارہ بنانا ۔ ان میں رکوع قائم کرنا ۔ اس پر اعراب لگانا ، قرآن کو بلاک وغیرہ بنا کر چھاپنا سب بدعت ہیں جن کا قرون ثلثہ میں ذکر نہ تھا۔ 

'۴'- حدیث کو کتابی شکل میں جمع کرنا ۔ حدیث کی اسناد بیان کرنا ۔ اسناد پر جرح کرنا اور حدیث کی قسمیں بنانا کہ یہ صحیح ہے، یہ حسن ، یہ ضعیف ۔ پھر ان کے احکام مقرر کرنا کہ حرام و حلال چیزیں حدیث صحیح سے ثابت ہوں گی ۔ غرض کہ سارافن حدیث ایسی بدعت ہے۔ جس کا قرون ثلثہ میں ذکر بھی نہ تھا۔

'۵'-اصول حدیث ۔ یہ فن بالکل بدعت ہے بلکہ اس کا تو نام بھی بدعت ہے اس کے سارے قاعدے قانون بدعت ہیں۔

'۶'- اصول فقہ - اس پر آج کل دین کا دارو مدار ہے مگر یہ بھی از اول تا آخر بدعت ہے جس کا قرون ثلثہ میں ذکر نہیں۔

'۷'-نماز - نماز میں زبان سے نیت کرنا بدعت ہے جس کا ثبوت قرون ثلثہ میں نہیں۔

رمضان میں بیس رکعت تراویح پر ہمیشگی کرنا بدعت ہے ۔

'۸'- زکوٰة - زکوٰۃ میں موجودہ سکہ رائج الوقت ادا کرنا بدعت ہے قرون ثلثہ میں یہ تصویر والے سکے نہ تھے اور نہ ان سے زکٰوۃ جیسی عبادت ادا ہوتی تھی ۔ موجودہ سکے سے غلوں سے فطرانہ نکالنا یہ سب بدعت ہیں۔

'۹' حج - ریل گاڑیوں ، لاریوں ، موٹروں ، ہوائی جہازوں کے ذریعہ حج کرنا ۔ موٹروں میں عرفات شریف جانا بدعت ہے۔ اس زمانہ پاک میں نہ سواریاں تھیں نہ ان کے ذریعہ حج ہوتا تھا۔

'۱۰'-طریقت کے قریباً سارے مشاغل اور تصوف کے قریباً سارے مسائل بدعت ہیں۔ مراقبہ ، چلے ، تصور شیخ ، ذکر کے اقسام سب بدعت ہیں۔ جن کا قرون ثلثہ میں کہیں پتہ نہیں چلتا ۔

'۱۱'-چار سلسلے ۔ شریعت و طریقت دونوں کے چار چار سلسلے یعنی حنفی، شافعی مالکی ، حنبلی ، اسی طرح قادری، چشتی، نقشبندی ، سہروردی یہ سب سلسلے بالکل بدعت ہیں۔ ان میں سے بعض کے تو نام تک بھی عربی نہیں جیسے چشتی یا نقشبندی ۔

'۱۲'- مدارس کا قیام ، وہاں کا نصاب ، دورہ حدیث ، تنخواہ لے کر مدرسین کا پڑھانا ، امتحان اور تعطیلات (گرمیوں کی چھٹیاں) کا ہونا ، ختم بخاری وغیرہ سب بدعت ہیں ۔