محفل میلاد شریف
[۱]میلاد کا معنی ہے: ولادت کا وقت یا عظیم الشان ولادت . اہل اسلام کے عرف میں میلاد سے مراد سید الانبیاء حضرت محمد ﷺ
کی ولادت با سعادت ہے ۔
[۲]محفل میلاد یا جلسہ میلاد یا میلاد کانفرنس سے مراد ایسا روح پرور اجتماع ہے جس میں سرکار مدینہ صلی اللہ علیہ وسلم کی ولادت طیبہ کے زمانے میں ظاہر ہونے والے عجیب و غریب واقعات کا تذکرہ کر کے برکات حاصل کی جائیں ۔
[۳] میلاد شریف کے بابرکت موقع پر مسلمان ذکر مصطفی صلی اللہ علیہ وسلم کی محافل سجاتے ہیں ، نعت خوانی کرتے ہیں ، محافل کے آخر میں کوئی چیز کھانے وغیرہ کی پیش کی جاتی ہے، جلوس نکالتے ہیں ، چراغاں کرتے ہیں ، جھنڈے لگاتے ہیں، روزہ رکھتے ہیں اور صدقہ و خیرات کرتے ہیں۔
[۴] محفل میلاد شریف منعقد کرنا اور میلاد شریف کے بابرکت موقع پر جائز طریقہ سے خوشی کا اظہار کرنا مستحب ہے اور بہت ہی باعث برکت اور رحمت الہی کے نزول کا سبب ہے۔
[۵]محفل میلاد شریف بہت ہی مفید محفل ہے۔ چند فائدے یہاں ذکر کئے جاتے ہیں:
۱-مسلمانوں کے دل میں حضور صلی اللہ علیہ وسلم کے فضائل سن کر آپ صلی اللہ علیہ وسلم کی محبت بڑھتی ہے ۔ صوفیائے کرام فرماتے ہیں کہ نبی پاک صلی اللہ علیہ وسلم کی محبت بڑھانے کے لیے کثرت سے درود شریف پڑھنا اور حضور صلی اللہ علیہ وسلم کی زندگی کے احوال کا مطالعہ ضروری ہے ، پڑھے لکھے لوگ تو کتابوں میں حالات دیکھ سکتے ہیں جبکہ دیگر لوگوں کو ان محافل کے ذریعہ سننے کا موقع حاصل ہو جاتا ہے۔
۲- یہ محفل پاک غیر مسلمانوں میں اسلام کی تبلیغ کا ایک ذریعہ بھی ہے کہ وہ لوگ ان محافل میں حضور صلی اللہ علیہ وسلم کے بارے میں جانیں ، اسلام کی خوبیاں دیکھیں اور اسلام کی طرف راغب ہوں ۔
۳-ان محافل کے ذریعہ سے مسلمانوں کو دینی مسائل کے سیکھنے کا بھی موقع ملتا ہے۔
[۶]میلاد شریف منانے کے ثبوت پر کچھ دلائل درج ذیل ہیں۔
۱- سب سے بڑی نعمت : ولادت مصطفی صلی اللہ علیہ وسلم تمام نعمتوں کی اصل ہے، اللہ تعالیٰ فرماتا ہے ۔ ترجمہ " بیشک اللہ تعالٰی کا بڑا احسان ہوا مسلمانوں پر کہ ان میں انہیں میں سے ایک رسول بھیجا "۔(سورہ آل عمران آیت 258) ۔ اور اللہ تعالٰی نے اپنی نعمتوں کے بیان اور اظہار کا حکم دیا ہے ، اللہ تعالی ارشاد فرماتا ہے۔ ترجمہ" اور اپنے رب کی نعمتوں کا خوب چرچا کرو"۔
۲-فضل و رحمت ملنے پر خوشی منانے کا حکم : اللہ تعالیٰ نے اپنے فضل و رحمت پر خوشی منانے کا حکم دیا ہے ، اللہ تعالیٰ ارشاد فرماتا ہے : ترجمہ " اے محبوب ! فرماد یجئے کہ اللہ تعالٰی کے فضل اور اس کی رحمت کے ملنے پر چاہیئے کہ لوگ خوشیاں منائیں" (سورہ یونس (- اور نبی کریم ﷺ اللہ تعالیٰ کی رحمت ہیں۔ اللہ تعالیٰ فرماتا ہے : ترجمہ " اور ہم نے تمہیں نہ بھیجا مگر رحمت سارے جہانوں کے لئے" (سورہ الانبیاء آیت 107) ۔ اور آپ صلی اللہ علیہ وسلم کی آمد اللہ تعالی کا بہت بڑا فضل ہے۔ اللہ تعالٰی فرماتا ہے : ترجمہ " ایمان والوں کو خوشخبری دو کہ ان کے لیے اللہ تعالیٰ کا بڑا فضل ہے "۔ معلوم ہوا حضور جان رحمت صلی اللہ علیہ وسلم اللہ تعالٰی کی رحمت اور اس کا فضل ہیں اور فضل و رحمت ملنے پر خوشی کرنے کا حکم اللہ تعالیٰ نے قرآن پاک میں دیا ہے۔
۳- ذکرِ مصطفی صلی اللہ علیہ وسلم ذکرِ خدا عز و جل ہے : اللہ تعالی نے فرمایا ، ترجمہ:" اللہ تعالٰی کا ذکر بکثرت کرو تاکہ فلاح پاؤ"۔ (سورہ الانفال آیت45) اور نبی پاک صلی اللہ علیہ وسلم کا ذکر بعینہ خدا کا ذکر ہے۔ اللہ تعالیٰ کا فرمان ہے : ترجمہ " بلند کیا ہم نے تمہارے ذکر کو تمہارے واسطے" (سورہ الانشراح آیت 4) کوئی مسلمان اس میں شک نہیں کر سکتا کہ سرور کائنات صلی اللہ علیہ وسلم کی یاد و تعریف بعینہ خدا کی یاد ہے پس جس جس طریقہ سے آپ کی یاد کی جائے گی حسن و محمود رہے گی ۔
۴- میلاد شکر نعمت ہے : اللہ تعالیٰ ارشاد فرماتا ہے۔ ترجمہ" اور اللہ تعالٰی کی نعمت کا شکر کرو "۔
الله تعالیٰ کا کون سا فضل و رحمت، کون سی نعمت اس حبیب کریم صلی اللہ علیہ وسلم کی ولادت سے زائد ہے کہ تمام نعمتیں تمام رحمتیں تمام برکتیں اسی کے صدقے میں عطا ہوئیں۔
۵-میلاد اور تعظیم مصطفی صلی اللہ علیہ وسلم : اللہ تعالیٰ نے حضور صلی اللہ علیہ وسلم کی تعظیم و توقیر کا حکم فرمایا ہے ۔ ترجمہ " اور نبی پاک صلی اللہ علیہ وسلم کی تعظیم و توقیر کروں (سورة الفتح آیت ۹ ( اور حضور صلی اللہ علیہ وسلم کی تعظیم کے لیے جو افعال اختیار کیے جاتے
ہیں ان میں سے میلاد منانا بھی ہے۔
[۷]مذکورہ بالا آیات میں اللہ تعالٰی نے کسی خاص طریقہ کی نشان دہی کے بغیر مطلق خوشیاں منانے ، نعمت کا شکر ادا کرنے اور تعظیم و توقیر کرنے کا حکم دیا ہے۔ تو اس کے یہ معنی ہوئے ہمیں اُن تمام طریقوں کی اجازت ہوئی جو خوشیاں منانے ، نعمت کے شکر ادا کرنے میں اور تعظیم و توقیر ادا کرنے میں استعمال ہوتے ہیں اور جن سے شریعت نے منع نہ فرمایا ہو ۔ تو اس باب میں کسی کا اِس اپنائے جانے والے طریقہ کا صحابہ کرام یا تابعین کے قول و فعل سے ثبوت مانگنا جہالت ہٹ دھرمی ہے ، کہ اللہ تعالی تو مطلق حکم فرمائے اور منکرین کہیں کہ ہم تو خاص وہ صورت جائز مانیں گے جس کو خاص نام لے کر جائز کیا ہو یا جس طریقہ کا ثبوت قرون ثلثہ (نبی پاک کا دور ، صحابہ کا دور ، تابعین کا دور( سے ہو۔
[۸]سب نے میلاد منایا
۱- میلاد مصطفی بغربان مصطفی صلی اللہ علیہ وسلم
رحمت عالم صلی اللہ علیہ وسلم ہر پیر کو روزہ رکھا کرتے تھے ، آپ سے اس دن روزہ رکھنے کے بارے میں سوال کیا گیا تو آپ نے ارشاد فرمایا " یہ دن میری ولادت کا دن ہے ۔اسی دن میں مبعوث کیا گیا اور اسی دن مجھ پر قرآن نازل کیا گیا ۔ ( صحیح مسلم )
۲-صحابہ کرام علیہم الرضوان نے میلاد منایا
حضرت امیر معاویہ رضی اللہ عنہ بیان فرماتے ہیں " رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم صحابہ کرام علیہم الرضوان کی ایک محفل میں تشریف لائے ، صحابہ کرام علیہم الرضوان سے ارشاد فرمایا: کسی چیز نے تمہیں یہاں بیٹھایا ہے ۔ صحابہ کرام نے عرض کیا : ہم یہاں اس لیے بیٹھے ہیں کہ ہمیں اللہ تعالٰی نے دین اسلام کی دولت عطا فرمائی ہے اور آپﷺ کو بھیج کر ہم پر احسان فرمایا، اس پر اس کا ذکر کریں اور اس کا شکر ادا کریں ۔ آپ ﷺنے فرمایا : اللہ کی قسم ! تم صرف اسی لیے بیٹھے ہو ؟ صحابہ کرام نے عرض کی : اللہ کی قسم ہم صرف اسی لیے بیٹھے ہیں کہ دین ِ اسلام کی دولت اور آپﷺ کی نعمت عظمٰی پر اللہ کا شکر ادا کریں ۔ آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے ارشاد فرمایا: "اے میرے صحابہ ! میں تم سے قسم اس لیے نہیں لے رہا کہ مجھے تم پر شک ہے بلکہ )معاملہ یہ ہے کہ) میرے پاس جبرائیل علیہ السلام آئے اور مجھے خبر دی کہ تمہارے اس عمل پر اللہ تعالیٰ فرشتوں پر فخر فرما رہا ہے "۔
۳-اولیاء و علماء بلکہ تمام عالم اسلام
امام ابن جوزی رحمتہ اللہ علیہ (متوفی 597ھ) فرماتے ہیں:" اہل مکہ ، اہل مدینہ اہل مصر، اہل یمن و شام اور مشرق و مغرب میں تمام
بلاد عرب ہمیشہ سےنبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم کی میلاد کی محافل کا انعقاد کرتے چلے آئے ہیں ، اور ربیع الاول کا چاند نظر آنے پر خوشیاں مناتے ہیں اور نبی محترم صلی اللہ علیہ وسلم کا میلاد شریف پڑھنے اور سننے کا بہت زیادہ اہتمام کرتے اور اس کے ذریعے عظیم اجر اور بڑی کامیابی حاصل کرتے ہیں ۔"
[۹]برکات میلاد مصطفی صلی اللہ علیہ وسلم :
۱- حضرت عباس رضی اللہ عنہ فرماتے ہیں: "جب ابولہب مر گیا تو میں نے اسے ایک سال بعد خواب میں برے حال میں دیکھا تو اس نے کہا مجھے تم سے جدا ہونے کے بعد کوئی راحت نہ ملی سوائے اس کے کہ ہر پیر کو میرے عذاب میں تخفیف ہوتی ہے ،) حضرت عباس رضی اللہ عنہ فرماتے ہیں) اور یہ اس وجہ سے کہ نبی اکرم صلی اللہ وسلم پیر کے دن دنیا میں تشریف لائے ، ثویبہ نے ابولہب کو نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم کی ولادت کی خوشخبری سنائی تو ابولہب نے اسے آزاد کر دیا "۔
شیخ عبد الحق محدث دہلوی رحمتہ اللہ علیہ فرماتے ہیں ابولہب جو کافر تھا جب حضور کی ولادت کی خوشی اور لونڈی کے دودھ پلانے کی وجہ سے انعام دیا گیا تو اس مسلمان کا کیا صلہ ہوگا جو محبت و خوشی سے بھرا ہوا ہے اور مال خرچ کرتا ہے۔
۲- امام قسطلانی رحمتہ اللہ علیہ فرماتے ہیں " محفل میلاد کے خواص میں یہ بات مجرب ہے کہ محفل میلاد منعقد کرنا اس سال میں امن و امان کا سبب ہوتا ہے اور ہر مقصود و مراد پانے کے لیے جلدی آنے والی خوشخبری ملتی ہے ۔
۳- میلاد کی خوشی کرنے والے سے سرور کائنات صلی اللہ علیہ وسلم خوش ہوتے ہیں۔ بعض صالحین کو خواب میں نبی پاک کی زیارت نصیب ہوئی تو سوال کرنے پر آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا : " جو ہماری خوشی کرتا ہے ہم اس سے خوش ہوتے ہیں" ۔
[۱۰]افعال میلاد پر دلائل
۱- جلوس نکالنا :صحیح مسلم شریف میں ہے کہ جب نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم ہجرت کر کے مدینہ منورہ میں داخل ہوئے تو مدینہ منورہ میں جو مسلمان موجود تھے ان کا حال یہ تھا:" مرد اور عورتیں چھتوں پر چڑھ گئے ، بچے اور غلام راستوں میں پھیل گئے اور اس طرح
پکارتے تھے یا محمد یا رسول الله ، یا محمد یا رسول الله "[ صلی اللہ تعالٰی علیہ وسلم ]۔ اس حدیث پاک ہے پتا چلا کہ خوشی کے موقعہ پر جلوس نکالنا صحابہ کرام کا طریقہ ہے ۔
۲-جھنڈا لہرانا : رحمت عالم صلی اللہ علیہ وسلم نے جب مدینہ منورہ کی طرف ہجرت فرمائی اور مدینہ پاک کے قریب پہنچے تو بریدہ اسلمی ستر سوار لے کر آپ صلی اللہ علیہ وسلم کو قریش کے سو اونٹوں کے لالچ میں گرفتار کرنے آئے ، مگر آپ صلی اللہ علیہ وسلم کی نگاہ فیض کے اثر سے پورے قافلے سمیت اسلام میں داخل ہوئے اور عرض کی یا رسول الله مدینہ منورہ میں آپ کا داخلہ جھنڈے کے ساتھ ہونا چاہیے۔ چنانچہ اپنا عمامہ اتار کر نیزے پر باندھ لیا پھر آپ صلی اللہ علیہ وسلم کے آگے آگے چلنے لگے۔
اس روایت میں جھنڈے اور جلوس دونوں کا ثبوت ہے۔
۳- چراغاں کرنا : معراج کی رات جب نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم سدرۃ المنتہی پر پہنچے تو آپ کی آمد پر آپ کے اعزاز و اکرام کے اظہار کے لئے اس مبارک درخت کو سونے کے جگمگاتے ٹکڑوں سے سجایا گیا تھا۔ چنانچہ صحیح مسلم شریف میں کلام پاک کی آیت:
ترجمہ " جب سدرہ پر چھا رہا تھا جو چھا رہا تھا " کی تفسیر میں یہ ذکر ہے کہ اس وقت سدرۃ المنتہی پر سونے کے جگمگ جگمگ کرتے ٹکڑے چھا رہے تھے۔
۴-نعت خوانی کرنا : رسول الله صلی اللہ علیہ وسلم حضرت حسان بن ثابت رضی اللہ عنہ کو نعت خوانی کے ذریعہ کفار کے اعتراضات کا جواب دینے کا حکم فرماتے اور ان کے لیے دعا فرمایا کرتے: "اے حسان ! اللہ کے رسول صلی اللہ علیہ وسلم کی طرف سے جواب
دو ، اے اللہ! روح القدس کے ذریعہ حسان کی مدد فرما " ( صحیح بخاری )
حضرت عائشہ صدیقہ رضی اللہ عنہا فرماتی ہیں: " رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم حضرت حسان رضی اللہ عنہ کے لیے مسجد میں منبر رکھوا دیتے ، وہ منبر پر کھڑے ہو کر رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کی نعت خوانی کرتے ۔ (جامع ترمذی)
۵-محافل کا انعقاد کرنا : اس کا ذکر صحابہ کرام نے میلاد منایا کے عنوان کے تحت اوپر گزر چکا ہے ۔
۶-روزہ رکھنا : اس کا ذکر " میلاد مصطفی بزبان مصطفی" کے عنوان کے تحت اوپر گزر چکا ہے ۔
[۱۱]میلاد پر اعتراضات کے جواب
۱-بارہ ربیع الاول یوم ولادت ہونے کے ساتھ ساتھ بنی کریم صلی اللہ علیہ وسلم کا یوم وصال بھی ہے ، ولادت کی خوشی اس لئے مناتے ہیں کہ نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم اللہ تعالیٰ کی نعمت و رحمت ہیں اور شریعت نے ہمیں نعمت و رحمت کے ملنے پر خوشی منانے کا حکم
دیا ہے۔ جیسا کہ سورہ یونس آیت نمبر 58 میں اوپر ذکر کیا گیا ہے ۔ اور غم اس لئے نہیں مناتے کہ شریعت نے منع کیا ہے چنانچہ حدیث پاک میں ہے۔ ہمیں منع کر دیا گیا کہ ہم کسی کی وفات پر تین روز کے بعد غم منائیں ، سوائے بیوی کے ، کہ وہ اپنے شوہر کی وفات پر چار ماہ دس دن تک غم منائے گی۔ (صحیح بخاری)
۲- عید الفطر اور عید الاضحی ہی اسلام میں دو عیدیں نہیں ہیں بلکہ احادیث مبارکہ میں ان دو کے علاوہ بھی کئی ایام کو عید قرار دیا گیا ہے ۔ مثالیں مندرجہ ذیل ہیں۔
'ا'- نبی پاک صلی اللہ علیہ وسلم نے ارشاد فرمایا: "جمعہ کا دن عید کا دن ہے"۔ چونکہ سال میں یوم جمعہ 52 مرتبہ آتا ہے اس لئے مذکورہ حدیث سے سال میں کم از کم 52 عیدیں مزید ثابت ہوئیں ۔
'ب'- یوم عاشورا کو بھی عید فرمایا گیا ہے ، حضرت امیر معاویہ رضی اللہ عنہ فرماتے ہیں:"بے شک یوم عاشورا عید کا دن ہے" ۔
'پ'- رسول الله صلی اللہ علیہ وسلم نے یوم عرفہ اور ایام تشریق کو بھی عید قرار دیا ہے،چنانچہ نبی پاک صلی اللہ علیہ وسلم نے ارشاد
فرمایا :" یوم عرفہ ، یوم نحر اور ایام تشریق اہل اسلام کے لئے عید ہیں" ۔
۳-روزہ رکھنا صرف دو عیدوں یعنی عید الفطر ، عید الاضحٰی اور ایام تشریق (گیارہ بارہ تیرہ ذو الحجہ) کے ایام میں مکروہ تحریمی ہے کیونکہ احادیث میں ان کی ممانعت موجود ہے اور عید میلاد النبی کے دن روزہ رکھنے کی ممانعت کسی حدیث میں موجود نہیں بلکہ ولادتوالے دن یعنی پیر کو ولادت کی وجہ سے روزہ رکھنا حدیث سے ثابت ہے۔