علم غیب

[۱]غیب کی لغوی تعریف:جو چیز آنکھ سےمخفی  یعنی چھپی ہوئی ہو  غیب کہلاتی ہے۔

[۲] غیب کی اصطلاحی تعریف: غیب وہ چھپی ہوئی چیز ہے جس کو انسان نہ تو حواسِ خمسہ سے محسوس کر سکے اور نہ عقل کے ذریعے ایجاد کسی آلہ سے معلوم کر سکے بلکہ اس کی خبر کسی نبی کے بتانے سے حاصل ہو۔

[۳]حواس خمسہ: پانچ حواس (۱) دیکھنا (۲) سننا (۳) سونگھنا (۴) چکھنا (۵) چھونا۔ یہ ہمارے پانچ حواس ہیں جس سے ہم کسی چیز کو محسوس کرتے ہیں۔

[۴]قرآن و حدیث سے ثابت ہے کہ اللہ تعالیٰ نے حضور اکرم ﷺ کو کثیر علم غیب عطا فرمایا ہے۔

[۵]علم غیب سے متعلق عقائد کی اقسام

قسم اول: اس قسم میں وہ عقائد ہیں جو ضروریاتِ دین سے ہیں۔ یعنی ان کا انکار کرنے والا ان میں ادنیٰ شک کرنے والا قطعاً کافرہے۔ عقائد یہ ہیں:

۱- اللہ عز وجل ہی عالم بالذات (یعنی ذاتی طور پر علم رکھنے والا) ہے۔ اُس کے بتائے بغیر ایک حرف کوئی نہیں جان سکتا ہے۔

۲-رسول اللہ ﷺ اور دیگر انبیائے کرام علیہم السلام کو اللہ ﷻ نے اپنے بعض غیوب کا علم دیا ہے۔ 

۳-رسول اللہ ﷺ کا علم اوروں سے زائد ہے۔

ابلیس کا علم معاذ اللہ ہمارے نبی پاک ﷺ سے ہرگز وسیع تر نہیں۔

۴-جو علم اللہ عز و جل کی خاص صفت ہے کہ جس میں حبیب پاک ﷺ کو شریک کرنا بھی شرک ہو وہ علم ہرگز ابلیس کے لیے نہیں ہوسکتا۔ جو ایسا مانے قطعاً مشرک کافر ملعون ہے۔

۵-نبی پاک ﷺ کے علم غیب کو دیگر عام انسانوں، بچوں، پاگلوں، جانوروں، چوپایوں کے علم غیب جیسا کہنا یقیناً ہمارے نبی پاک ﷺ کی کھلی توہین اور کھلا کفرہے۔

قسم دوم: اس قسم میں وہ عقائد ہیں جن کا انکار کرنے والا گمراہ اور بدمذہب ہے کہ ہزاروں احادیث کا انکار کرتا ہے۔ عقائد یہ ہیں:

۱-اولیائے کرام کو بھی انبیائے کرام کے واسطہ (ذریعے) سےکچھ علوم غیب ملتے ہیں۔

۲-اللہ تعالیٰ اپنے محبوب بندوں کو خاص طور پر ہمارے نبی پاک ﷺ کو غیوب خمسہ (پانچ غیبوں) سے بہت جزئیات[تفصیلی] کا علم عطا فرمایا ہے۔


کلام پاک میں درج پانچ غیبوں یاغیوب خمسہ کی تفصیل یہ ہے:

(۱)قیامت کب ہوگی (۲) بارش کب ہوگی (۳) عورت کے پیٹ میں لڑکا ہے یا لڑکی (۴) کل کیا ہوگا (۵) کون کہاں مرے گا۔

قسم سوم: اس قسم میں وہ عقائد ہیں جن میں خود علما و ائمۂ اہل سنّت مختلف رہے ہیں۔ ان کا اقرار یا انکار کرنے والے پر کفر تو دور گمراہی یا بدمذہب ہونے کا بھی حکم نہیں ہوسکتا ہے۔ بشرط یہ کہ ان کا انکار کی وجہ دل کے اُس مرض کی وجہ سے نہ جو جس میں بندہ تمام معاملات میں ہمارے نبی پاک ﷺ کے فضائل کو چھوڑ کر نقص نکالنے کی راہ اختیار کرتا ہے۔ عقائد یہ ہیں:

۱-رسول اللہ ﷺ قیامت کا بھی علم ملا کہ کب ہوگی۔

۲-تمام گزشتہ اورآئندہ واقعات جو لوح محفوظ میں ہیں، ان کا بلکہ ان سے بھی زیادہ کا علم دیا گیا۔

۳-حضور ﷺ کو حقیقت روح اور قرآن کے سارے متشابہات کا علم دیا گیا۔

[۶]خالق اور مخلوق کے علم میں فرق

۱-اللہ تعالیٰ کا علم ذاتی ہے یعنی اُس کا ذاتی کمال ہے کسی نے اُسے عطا نہیں کیا ہے جب کہ مخلوق کا علم عطائی ہے یعنی اللہ تعالیٰ کا عطا کردہ ہے۔

۲-اللہ تعالیٰ کا علم قدیم ہے یعنی ہمیشہ سے ہے جب کہ مخلوق کا علم حادث ہے یعنی ہمیشہ سے نہیں ہے کیوں کہ مخلوق حادث ہے۔

۳-اللہ تعالیٰ کا علم لا محدود ہے یعنی اس کی کوئی حد نہیں جب کہ مخلوق کا علم محدود ہے۔

۴-اللہ تعالیٰ کا علم ’لافانی ‘ ہے یعنی اُس پر فنا ناممکن ہے جب کہ مخلوق کا علم فانی ہے یعنی اُس پر فنا ممکن ہے۔

[۷]رسول اللہ ﷺ کے علم مبارک سے متعلق ہمارا عقیدہ :

۱-اللہ تعالیٰ نے اپنے حبیب ﷺ کو تمام اولین و آخرین کا علم عطا فرمایا۔ مشرق سے مغرب (یعنی ہر طرف) عرش سے فرش سب انھیں دکھایا۔ زمین و آسمان کی بادشاہی آپ ﷺ کے روبرو پیش کی گئی۔ روز اول سے روز آخر تک سب جو ہو چکا اور جو ہوگا (ماکان و مایکون) انھیں بتایا۔ کائنات کے ذرہ ذرہ کا علم آپ کو عطا کیاگیا۔

۲-یہ جو اوپر بیان ہوا ہرگز ہرگز رسول اللہ ﷺ کا پورا علم نہیں بلکہ آپ کے علم مبارک کا ایک چھوٹا حصہ ہے۔آپ کے علم مبارک کی حقیقت آپ جانیں یا ان کو عطا کرنے والا آپ کا مالک و مولیٰ۔

[۸]علم غیب پر اعتراضات کا بیان

۱-کلام پاک میں کچھ آیتیں ایسی ہیں جن سے بظاہر ایسا معلوم ہوتا ہے کہ اللہ تعالیٰ کے علاوہ اُس کی مخلوق میں کوئی بھی علم غیب نہیں رکھتا ہے تو اس کا جواب یہ ہے کہ یہاں اس سے مراد یہ ہے کہ جس طرح اللہ تعالیٰ عالم بالذات ہے اس طرح مخلوق میں دوسرا کوئی نہیں ہے کہ ذاتی طور پر علم رکھتا ہوں یعنی بغیر کسی کی عطا کے علم رکھنے والا ہو یا بغیر اللہ تعالیٰ کی عطا سے علم حاصل کر سکتا ہو۔

۲-جس طرح اللہ تعالیٰ کا علم مبارک لا محدود ہے اس طرح مخلوق میں دوسرا کوئی نہیں ہے کہ جس کا علم لا محدود ہویا کل علم غیب رکھتا ہو۔

۳-احادیث مبارکہ میں کچھ مقام پر ہمارے نبی پاک ﷺ سے کچھ باتوں کا معلوم نہ ہونا ظاہر ہوا ہے جنھیں بنیاد بنا کر کچھ لوگ آپ کے علم غیب پر اعتراض کرتے ہیں تو اس کا جواب یہ ہے کہ علمائے اہل سنت و جماعت کا یہ عقیدہ ہے کہ ہمارے نبی پاک کو تمام علوم بتدریج عطا ہوئے یعنی دنیا میں جلوہ افروز ہونے کے پہلے ہی دن تمام علوم عطا نہیں ہوئے بلکہ آہستہ آہستہ ایک کے بعد ایک علوم حاصل ہوئے مگر آپ جب اس دار فانی سے پردہ فرما گئے تو اللہ تعالیٰ کی عطا سے جو ہو چکا ہے اور جو ہوگا(ماکان و مایکون) کا تفصیلی علم آپ کو حاصل تھا اور آپ کا علم مبارک روز بروز ترقی پر ہے جیسا کہ کلام پاک میں اللہ تعالیٰ کا آپ کے لیے وعدہ ہے یعنی آج آپ کے پردہ فرمانے کے پندرہ سو سال کے بعد آپ کا علم مبارک زیادہ ہے اُس علم مبارک سے جو آپ کو پردہ فرمانے کے روز تھا۔ اس لیے یہ ممکن ہے کہ آپ ﷺ کی دنیا میں تشریف آوری کے بعد کسی روز کوئی علم آپ کو عطا نہ ہوا ہو جس کی وجہ سے آپ نے کسی بات کو معلوم نہ ہونے کا اظہار کیا ہو۔

[۹] علم غیب پر دلائل:

۱- اللہ تعالی فرماتا ہے ترجمہ: اور اللہ کی شان یہ نہیں کہ عام لوگوں تمہیں غیب کا علم دے ہاں اللہ چن لیتا ہے اپنے رسولوں سے جسے چاہے۔

۲-اور سورۃ جن میں ارشاد ہوتا ہے ترجمہ: غیب کا جاننے والا تو اپنے غیب پر کسی کو مسلط نہیں کرتا سوائے اپنے پسندیدہ رسولوں کے "

پتا چلا کہ اللہ تعالیٰ اپنے پسندیدہ رسولوں کو غیبوں پر مطلع فرماتا ہے اور کوئی مسلمان اس بات میں شک نہیں کر سکتا ہے کہ ہمارے پیارے آقا صلی اللہ علیہ وسلم اللہ تعالیٰ کے پیارے رسول اور حبیب ہیں ۔

۳-الله تعالی فرماتا ہے ترجمہ: اور یہ نبی غیب بتانے میں بخیل نہیں ۔ 

تفسیر خازن اور تفسیر بغوی میں اس آیت کریمہ کے تحت لکھا ہے  کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کے پاس علم غیب آتا ہے، پس وہ اس میں بخل نہیں کرتے بلکہ تمہیں سکھاتے ہیں اور اس کی خبر دیتے ہیں۔

۴-اللہ تعالیٰ قرآن مجید میں اپنے حبیب صلی اللہ علیہ وسلم کو مخاطب کرتے ہوئے ارشاد فرماتا ہے ترجمہ: اتاری ہم نے تم پر کتاب جو ہر چیز کا روشن بیان ہے۔

جب فرقان مجید میں ہر شے کا بیان ہے اور بیان بھی کیسا ؟ روشن بیان ، اور اہلسنت کے مذہب میں شے ہر موجود کو کہتے ہیں، تو عرش تا فرش تمام کائنات جملہ موجودات اس بیان کے احاطے میں داخل ہوئے اور ان موجودات میں کتابت لوح محفوظ بھی ہے، اور لوح محفوظ میں کیا لکھا ہے، اللہ تعالیٰ فرماتا ہے ترجمہ: ہر چھوٹی بڑی چیز لکھی ہوئی ہے۔

ایک اور مقام پر اللہ تعالیٰ فرماتا ہے  ترجمہ: کوئی دانہ نہیں زمین کی اندھیریوں میں اور نہ کوئی تر اور نہ کوئی خشک مگر یہ کہ سب ایک روشن کتاب میں لکھا ہے۔

جب قرآن مجید میں ہر چیز حتی کہ لوح محفوظ کے مکتوب کا بھی روشن بیان موجود ہے اور قرآن مجید اللہ تعالیٰ نے اپنے محبوب صلی اللہ علیہ وسلم پر اتارا تو پتا چلا آپ صلى الله علیہ وسلم کو تمام موجودات اور لوح محفوظ کے مندرجات کا علم اللہ تعالیٰ نے عطا فرما دیا ۔

۵-حضرت عیسیٰ علیہ السلام کاغیب کی خبریں دینا:قرآن مجید میں حضرت عیسی علیہ السلام کا قول موجود ہے ترجمہ: اور میں تمہیں بتاتا ہوں جو تم کھاتے ہو اور اپنے گھروں میں جمع کر کے رکھتے ہو۔ اللہ تعالیٰ کے پیارے نبی حضرت عیسی جب الله علیہ السلام کے علم کا یہ عالم ہے تو ہمارے پیارے آقا صلی اللہ علیہ وسلم جو کہ سید الانبیاء ہیں ان کے علم کی شان کیا ہوگی ۔

۶-صحیح بخاری شریف میں حضرت امیر المومنین عمر فاروق رضی اللہ عنہ سے مروی ہےترجمہ: ایک با رسید عالم صلی اللہ علیہ وسلم نے ہم میں کھڑے ہو کر ابتدائے آفرینش سے لے کر جنتیوں کے جنت اور دوزخیوں کے دوزخ میں جانے تک کا حال ہم سے بیان فرما دیا ، یا د رکھا جس نے یا درکھا اور بھول گیا جو بھول گیا۔

۷-حضرت ابوموسیٰ اشعری رضی اللہ تعالی عنہ سے روایت ہے، فرماتے ہیں: نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم سے ایسے سوالات کیے گئے جو آپ کو ناپسند تھے، جب سوالات زیادہ ہونے لگے تو آپ ناراض ہو گئے ، پھر لوگوں سے فرمایا: جو چاہو مجھ سے پوچھ لو۔ ایک شخص عرض گزار ہوا: میرا باپ کون ہے؟ فرمایا: تیرا باپ حذافہ ہے، ایک دوسرا آدمی کھڑا ہو کر عرض کرنے لگا : یا رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم! میرا والد کون ہے؟ فرمایا: تمہارا والد سالم شیبہ کا آزاد کردہ غلام ہے ، جب حضرت عمر رضی اللہ تعالیٰ عنہ نے آپ ﷺ کے چہرہ اقدس پر غضب کے آثار دیکھے تو عرض کیا : یا رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم ! ہم اللہ ﷻ کی طرف تو بہ کرتے ہیں ۔ -

۸-جامع ترمذی شریف وغیرہ کتب کثیرہ ائمہ حدیث میں  دس صحابہ کرام رضی اللہ تعالی عنہم سے  منقول ہے کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا، ترجمہ: میں نے اللہ ﷻ کا دیدار کیا، اللہ تعالیٰ نے اپنا دست قدرت میرے کندھوں کے درمیان رکھا، میں نے اس کی ٹھنڈک اپنے سینے میں محسوس کی، پس میرے لیے ہر چیز روشن ہوگئی اور میں نے ہر چیز کو پہچان لیا۔

۹-حضرت ابن عباس رضی الله تعالى عنهما سے مروی ہے کہ رسول اکرم صلی اللہ تعالی علیہ وسلم دو قبروں کے پاس سے گزرے تو فرمایا: ان دونوں کو عذاب ہو رہا ہے اور کسی بڑے معاملہ کے سبب عذاب نہیں ہو رہا، ان میں سے ایک تو پیشاب کے چھینٹوں سے نہیں بچتا تھا اور دوسرا چغلیاں کھاتا پھرتا تھا، پھر ایک سبز شاخ لی اور اس کے دو حصے کیے، پھر ہر قبر پر ایک حصہ گاڑ دیا۔ لوگوں نے عرض کیا : یا رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم ! ایسا کیوں کیا ؟ فرمایا : جب تک یہ خشک نہ ہوں تو ان کے عذاب میں تخفیف رہے گی ۔

شارح بخاری مفتی شریف الحق امجدی رحمہ اللہ تعالی علیہ اس حدیث پاک کی شرح میں فرماتے ہیں حضور اقدس صلی اللہ علیہ وسلم غیب جانتے ہیں کہ یہ بھی جان لیا کہ ان پر عذاب ہو رہا ہے اور یہ بھی جان لیا کہ کس بناء پر ہو رہا ہے نیز یہ جان لیا کہ ان شاخوں کے رکھنے سے تخفیف ہوگی اور یہ بھی جان لیا کہ کب تک ہو گی ۔ اس حدیث میں اکٹھے چار علم غیب کی خبر ہے۔

۱۰-سرور کائنات صلی اللہ علیہ وسلم نے غزوہ بدر شروع ہونے سے پہلے ہی مرنے والے کافروں کی جگہوں کی نشاندہی فرمادی تھی، چنانچہ صحیح مسلم میں ہے  ترجمہ: رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: یہ فلاں کافر کے قتل ہونے کی جگہ ہے) راوی کہتے ہیں) اور آپ صلی اللہ علیہ وسلم اپنا ہاتھ زمین پر رکھتے تھے کہ یہاں یہاں ( فلاں کا فر مرے گے ) ، راوی ( یعنی حضرت انس بن مالک رضی اللہ تعالی عنہ ) کہتے ہیں : ان میں سے کوئی رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کے ہاتھ کی جگہ سے نہ ہٹا (یعنی جس کے بارے میں جہاں فرمایا تھا 

وہیں مرا ) ۔

۱۱-حضرت ابو ہریرہ رضی اللہ تعالیٰ عنہ سے روایت ہے، فرماتے ہیں ،ترجمہ: رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے ہمیں حبشہ کے بادشاہ نجاشی کے وصال کی خبر اسی دن دی جس دن ان کا انتقال ہوا، آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: اپنے بھائی کے لیے استغفار کرو۔