مزارات اولیاء اللہ پر عمارت و گنبد بنانا

[۱]عام مسلمانوں کی قبروں کو پختہ بنانا یا ان پر قبہ بنانا چوں کہ بے فائدہ ہے اس لیے منع ہے۔ ہاں اس پر مٹی وغیرہ ڈالتے رہنا تاکہ اس کا نشان نہ مٹ جائے اور فاتحہ پڑھی جا سکے جائز ہے۔ ہاں اگر ان کی قبریں پختہ بن گئی ہیں تو ان کو گرانا حرام ہے۔ 

[۲]علما و مشائخ، اولیاء اللہ جن کی تعظیم و توقیر درحقیقت اسلام کی تعظیم ہے ان کی قبروں پر مزار بنایا جاسکتا ہے۔ شرعاً اس میں کوئی حرج نہیں۔ اِن کے مزارات پر خلقت کا ہجوم رہتا ہے، لوگ وہاں بیٹھ کرقرآن خوانی و فاتحہ وغیرہ پڑھتے ہیں۔ اِن ضرورتوں کے تحت اور صاحب قبر کی اظہارعظمت کے لیے اس کے آس پاس سایہ کے قبہ وغیرہ بنانا شرعاً جائز بلکہ سنت صحابہ ثابت ہے۔

[۳]میت کے ساتھ قبر کے متصل حصے کو پختہ اینٹ سے پختہ کرنا یا وہاں لکڑی لگانا منع ہے۔ ہاں اگر وہاں پتھر یا سمینٹ لگایا جائے تو جائز ہے کیوں کہ لکڑی اور اینٹ میں آگ کا اثر ہے۔ قبر کا بیرونی حصہ پختہ بنانا عام مسلمین کے لیے منع ہے اور خاص علما و مشائخ کے لیے جائز ہے۔

[۴]قبر کا تعویذ ایک ہاتھ سے زیادہ اونچا کرنا منع ہے اور اگر آس پاس چبوترہ اونچا کرکے اس پر تعویذ بقدر ایک ہاتھ کیا تو جائز ہے ۔

[۵]قبر کے آس پاس یا قبر کے قریب کوئی عمارت بنانا عام مسلمانوں کی قبروں پر تو منع ہے اور فقہاء ،علماء کی قبروں پر جائز ہے۔ 

دلائل حسب ذیل ہیں:

۱-ابودائود کی روایت ہے کہ ’جب حضور ﷺ نے حضرت عثمان بن مظعون رضی اللہ عنہ کو دفن فرمایا تو ان کی قبر کے سِرانے ایک پتھر نصب فرمایا اور فرمایا کہ میں اس (پتھر) سے اپنے بھائی کو جانتا رہوں گا ور ان کی قبر کے ساتھ میرے گھر والوں میں سے جن کا انتقال ہوگا انہیں دفن کروں گا۔‘ اس حدیث سے معلوم ہوا کہ قبر پر یادداشت کے لیے پتھر لگانے میں کوئی حرج نہیں۔ 

۲-بخاری شریف کی حدیث ہے، حضرت خارجہ رضی اللہ عنہ فرماتے ہیں کہ ’ ہم زمانہ عثمان میں تھے، ہم میں بڑا کودنے والاوہ تھا جو عثمان ابن مظعون کی قبر کو پھلانگ جاتا ۔‘ اس حدیث سے معلوم ہوا کہ کسی خاص قبر کانشان قائم رکھنے کے لیے قبر کچھ اونچی کردی جائے یا پتھر وغیرہ سے پختہ کر دی جائے تو جائز ہے تا کہ معلوم ہو کہ یہ کسی بزرگ کی قبرہے۔ 

۳-مشائخ کرام اولیائے عظام علمائے کرام کے ارد گرد یا اس کے قریب میں کوئی عمارت بنانا جائز ہے۔ اس کا ثبوت قرآن کریم اورصحابۂ کرام و علماء کے اقوال و عوام  مسلمین کے عمل سے ہے۔

۴-قرآن کریم نے اصحاب کہف کاقصہ بیان فرماتے ہوئے کہا ’ وہ بولے جو اس کام میں غالب رہے کہ ہم تو ان اصحاب کہف پر مسجد بنائیں گے۔ ‘ روح البیان میں اس آیت کی تفسیر میں فرمایا:’ قرآن کریم نے ان لوگوں کی دو باتوں کا ذکر فرمایا ایک تو اصحاب کہف کے گرد قبہ اور مقبرہ بنانے کامشورہ کرنا ، دوسرے ان کے قریب مسجد بنانا اور قرآن و حدیث میں کہیں بھی ان کے اس فعل کاانکار نہیں آیا ،جس سے معلوم ہوا کہ دونوں فعل جب بھی جائز تھے اور اب بھی جائز ہیں۔

۵-حضورﷺ کو حضرت عائشہ صدیقہ رضی اللہ عنہا کے حجرے میں دفن کیا گیا۔ اگر یہ ناجائز تھا تو پہلے صحابہ کرام اس کو گرادیتے پھر دفن کرتے۔ پھر حضرت عمر رضی اللہ عنہ نے اپنے زمانہ خلافت میں اس کے گرد کچی اینٹوں کی گول دیوار کچھادی۔ پھر ولید ابن عبدالملک کے زمانہ میں صحابہ کرام نے اس عمارت کو نہایت مضبوط کیا اور اس میں پتھر لگوائے۔