تذکرہ موت
[۱]خوف خدا پیدا کرنے ، سچی توبہ کرنے ، رب عز و جل سے ملاقات کرنے ، دنیا سے جان چھوٹنے ، قرب الہی کے مراتب پانے ، اپنے محبوب آقا صلی اللہ علیہ وسلم کی زیادت حاصل کرنے کے لیے موت کو یاد کرنا تذکرہ موت کہلاتا ہے۔
[۲]رسول الله صلی اللہ علیہ وسلم نے ارشاد فرمایا : " لذتوں کو ختم کرنے والی موت کو زیادہ یاد کیا کرو " یعنی موت کو یاد کر کے لذتوں کو بدمزہ کر دو تاکہ ان کی طرف طبیعت مائل نہ ہو اور تم یکسوئی کے ساتھ الله عز وجل کی طرف متوجہ ہو جاؤ ۔ ہر حال میں موت کو یاد کرنے میں ثواب اور فضیلت ہے۔
[۳]کثرت سے موت کو یاد کرنے کے فوائد :
'۱'- تو بہ میں جلدی : جو شخص موت کو یاد کرتا ہے اگر اس سے کوئی گناہ ہو جائے تو وہ جلد از جلد توبہ کر کے گناہ معاف کرانے کی کوشش کرتا ہے کہ کہیں تو بہ کے بغیر موت نہ آجائے۔
'۲'- قناعت پسند دل: موت کو یاد رکھنے والا طمع اور لالچ میں مبتلا نہیں ہوتا بلکہ جو کچھ بھی اسے میسر ہوتا ہے اسی پر راضی رہتا ہے اور یہ قناعت اسے طبعی سکون اور دلی راحت عطا کرتی ہے کیوں کہ وہ یہ خیال کرتا ہے کہ یہ مختصر سی زندگی جس طرح بھی گزر جائے گزار لیں گے ، زیادہ کی فکر بے سود رہے گی۔
'۳'- عبادت میں چستی : موت کو ذہن نشین کر کے جب عبادت کی جاتی ہے تو پوری دل جمعی اور مکمل یکسوئی کے ساتھ عبادت ہوتی ہے کیوں کہ اس کیفیت کے ساتھ نماز پڑھنے والا ہمیشہ یہ خطرہ محسوس کرتا ہے کہ پتہ نہیں آئندہ عبادت کا موقع ملے یا نہ ملے۔
[۴]یاد موت سے غفلت کے نقصانات
'۱'-تو بہ میں ٹال مٹول : یعنی اگر اس سے کوئی گناہ ہو جائے تو توبہ کرنے میں ٹال مٹول کرتا رہتا ہے اور استغفار میں جلدی نہیں کرتا اور بسا اوقات اسی حالت میں اس کی موت آجاتی ہے ۔ -
'۲'-لالچ کا بڑھ جانا : جب موت کی یاد نہیں رہتی تو آدمی کی ہوس بڑھ جاتی ہے اور وہ ضرورت کے مطابق روزی پر راضی نہیں رہتا بلکہ چاہے جس قدر مال و دولت جمع کرلے اس کا دل مطمئن نہیں ہوتا اور وہ مزید مال و دولت جمع کرنے میں لگا رہتا ہے اور اسی غفلت میں اسے موت آجاتی ہے۔
'۳'- عبادت میں سستی : جب آدمی موت سے غافل رہتا ہے تو عبادت کرنے میں سستی ظاہر ہوتی ہے ، اول تو عبادت کرتا ہی نہیں اور کرتا بھی ہے تو وہ طبیعت پر نہایت گراں گزرتی ہے ۔
[۵] یاد موت سے غفلت کے اسباب
انسان دو اسباب کی بنا پر موت کی یاد سے غافل رہتا ہے۔
'۱'- نادانی : نادانی یہ ہے کہ انسان اپنی جوانی پر بھروسہ کرے اور یہ سوچے کہ ابھی تو میری عمر کا ایک لمبا حصہ بچا ہوا ہے ، بڑھاپے میں عبادت میں لگ جاؤں گا ۔ اسے سمجھ لینا چاہیے کہ جہاں نظر اُٹھاؤ بوڑھے کم نظر آتے ہیں ، اس کی وجہ یہ ہے کہ بڑھاپے کی عمر کو بہت کم لوگ پہنچ پاتے ہیں۔ نادانی کی ایک صورت یہ بھی ہے کہ عموماً جو لوگ تندرست ہوتے ہیں وہ یہ سوچتے ہیں کہ مجھے اچانک موت نہیں آسکتی۔ انہیں یہ سمجھنا چاہیے کہ اکثر بیماریاں اچانک حملہ کرتی ہیں اور نتیجہ کچھ بھی ہو سکتا ہے۔ روز مرہ ہ کی کی زندگی میں سڑک پر ہونے والے حادثات اور دیگر حادثات میں مرنے والے نوجوانوں کی موت سے بھی سبق لینا چاہیے۔
'۲'- دنیا کی محبت: جب انسان پر دنیا کی محبت غالب آتی ہے تو اسے ایسا محسوس ہوتا ہے کہ موت اس حسین دنیا کو ہم سے چھین لے گی اور یہ احساس کرتے ہی انسان موت سے ناخوش ہو جاتا ہے۔ اگر اُسے موت کی یاد کبھی آبھی گئی تو سوچتا ہے کہ ابھی تو زندگی کا بہت حصہ باقی ہے، ابھی یہ دنیا کے کام کرلوں آخر میں اللہ تعالٰی کی عبادت میں لگ جاؤں گا ۔ ایسے شخص کو یہ بات ذہن نشین کر لینی چاہیے کہ یہ دنیا کے کام کبھی ختم نہیں ہوتے یہاں تک کہ موت آجاتی ہے اور ساری اُمیدیں ختم ہو جاتی ہیں ۔
[۶]کثرت سے موت کو یاد کرنے کے طریقے
'۱'- موت سے متعلق روایات کا مطالعہ کیجئے : مثلاً ،"موت کو زیادہ یاد کرو کہ یہ گناہوں کو مٹاتی اور دنیا سے بے رغبت کرتی ہے "۔
" جو دن رات میں 20 مرتبہ موت کو یاد کرے اسے شہیدوں کے ساتھ اُٹھایا جائے گا"۔
'۲'- موت سے متعلق بزرگان دین کے اقوال کا مطالعہ کیجئے ۔
'۳'- موت کو اپنے سامنے سمجھتے ہوئے یاد کیجئے۔
'۴'- جنازوں میں شرکت کیجئے۔ '۵'- قبرستان جانے کی عادت بنائیے ۔ '۶'-موت سے متعلق کتب و رسائل کا مطالعہ کیجئے۔ '۷'-عبرت ناک واقعات کا مطالعہ یا مشاہدہ کیجئے ۔
'۸'- موت کے بعد پیش آنے والے حالات پر مشتمل کتابوں کا مطالعہ کیجئے ۔ '۹'-موت کے موضوع پر ہونے والے بیانات سینے
'۱۰'- دنیا سے چلے جانے والے لوگوں کے احوال کو یاد کیجئے ۔