مخالفت شیطان
[۱]اللہ تعالٰی کی عبادت کر کے شیطان سے دشمنی کرنا ، اللہ تعالٰی کی نافرمانی میں شیطان کی پیروی نہ کرنا اور صدقِ دل سے ہمیشہ اپنے عقائد و اعمال کی شیطان سے حفاظت کرنا مخالفت شیطان ہے۔
[۲]الله تعالیٰ کا ارشاد ہے : "بیشک شیطان تمہارا دشمن ہے تو تم بھی اسے دشمن سمجھو" - حضور اقدس صلی اللہ علیہ وسلم نے صحابہ کرام کو سمجھانے کے لیے ایک لکیر کھینچی اور ارشاد فرمایا :" یہ اللہ عزوجل کا راستہ ہے "، پھر اس لکیر کے دائیں بائیں متعدد لکیریں کھینچیں اور ارشاد فرمایا:" یہ مختلف راستے ہیں، ان میں سے ہر ایک پر ایک شیطان ہے جو لوگوں کو اس پر چلنے کی دعوت دیتا ہے" ۔
[۳]شیطان ، انسان کے حق میں ایک بے رحم و سنگ دل دشمن ہے ، جس کی زندگی کا مقصد انسان کے ایمان کی بربادی اور یہ ممکن نہ ہو سکے، تو کم سے کم الله عز وجل کی شدید نا فرمانی میں مبتلا کر کے جہنم کی راہ دکھانا ہے۔ اسے قیامت تک انسانوں کو گمراہ کرنے کی غرض سے مہلت حاصل ہے، اس کے ماتحت بہت سے شیاطین ہیں، جو ہر وقت ہر انسان کے ساتھ کر رہ کر اُسے گمراہ کرنے کی کوشش کرتے رہتے ہیں۔
[۴]شیطان کا انسان کے حق میں انتہائی خطرناک اور تباہ کن ہونا تفصیل:
'۱'- دنیا میں جو بھی غلط ہوتا رہا ہے ، ہو رہا ہے اور قیامت تک ہوتا رہے کا مثلًا قتل و غارت ، لوٹ مار ، ناحق مال کا حصول ، مظالم غرض کہ ہر ایک گناہ میں شیطان کا عمل و کردار ضرور نظر آئے گا۔
'۲'- شیطان اور اس کی اولاد کو ان کی اصل شکل میں دیکھنا ممکن نہیں ۔ جب اپنے دشمن کو دیکھنا ممکن نہ ہو لیکن وہ ہمیں دیکھ سکتے ہوں تو یقینا اس کے لئے وار کرنا بے حد آسان ہے ، جبکہ ہمارا محفوظ رہنا بے حد مشکل ہے۔ اللہ تعالیٰ نے شیاطین کو ہماری دل کی نیتوں اور ارادوں تک رسائی دی ہے ، یہی وجہ ہے کہ ہمارے دل میں نیکی کے ارادے کے ساتھ ہی ان کی رکاوٹی کارروائیوں کا آغاز ہو جاتا ہے۔
'۳'-اللہ تعالیٰ نے ابلیس کو کثیر علوم عطا کئے ہیں ، لہذا جو جس شعبے سے وابستہ ہو ، پڑھا لکھا ہو ، جاہل ہو ، یہ اُسے اُسی کے علم و ماحول کے مطابق وسو سے ڈالتا ہے۔
'۴'-ابلیس کسی کے نیکیوں پر استقامت رکھنے اور صاحب تقوی ہو جانے کے باوجود اُسے گمراہ کرنے سے ہمیشہ کے لئے کبھی مایوس نہیں ہوتا ، وقتی طور پرپیچھے ہٹ جاتا ہے ، لیکن موقع کی تاک میں گھات لگا کر بیٹھا رہتا ہے پس کوئی 50 سال تک بھی گناہوں سے پاک و صاف زندگی گزار دے لیکن اس کے بعد شیطان کو ایک موقع مل جائے تو وہ اس دوران کی گئی عبادات کو برباد کرنے میں لمحہ بھر دیر نہیں کرے گا۔
'۵'-شیطان اور اس کے چیلے کبھی نہیں سوتے ، اس لئے ان سے راحت کا کوئی موقع نہیں۔
'۶'- شیطان کے حملے انبیاء کرام علیہ السلام اور اولیائے عظام پر بھی جاری رہے ، اگر چہ اس سلسلے میں اُسے ناکامی ہوئی مگر ہماری حیثیت کیا ہے سوچنا چاہیے۔
[۵]شیطان کے وار کرنے کے مختلف طریقے:
'۱'-دل میں وساوس ڈالنا ۔ اب اگر دل اس کی دعوت کو قبول کرلے، تو اس کا اثر پورے بدن میں پھیل کر تباہی کا سبب بن جاتا ہے ۔ پھر یہ وساوس کبھی ایمانیات سے متعلق ہوتے ہیں ، کبھی عبادات سے روکنے یا ان میں خشوع و خضوع ختم کرنے کے لئے ، کبھی گناہوں کی ترغیب کے لیے ہوتے ہیں۔ اب جو اس کی بات مان لے ، وہ ایمان سے ہاتھ دھو بیٹھتا ہے یا گناہوں کی دلدل میں دھنستا چلا جاتا ہے یا عبادات کی لذت سے محرومی کا منہ دیکھتا ہے ۔
'۲'- اپنے ماتحت چیلوں کو مختلف منفی کاموں پر روانہ کرنا اور اس کی باقائدہ رپورٹ لینا ۔ جیسا کہ احادیث میں اس کا ذکر ہے ۔
'۳'- انسانوں میں اپنے افراد تیار کرنا ۔ جب کوئی انسان ، گناہوں اور برے اعمال کی گندگی سے مکمل طور پر آلودہ ہو جانے کے بعد، دوسروں کو بھی اس کی دعوت دینا شروع کر دے تو سمجھ جانا چاہئے کہ یہ شیطان کا چیلہ ہے اور اب اس مقام پر اس کے استاد ابلیس کو آنے کی کوئی حاجت نہیں۔ یونہی جس مقام پر کوئی عالم یا واعظ لوگوں کو صرف اللہ تعالٰی کی رحمت ہی کے واقعات بیان کرے، موت و عذاب قبر و جہنم سے نہ ڈرائے ، تو امام غزالی رحمتہ اللہ علیہ کے مطابق اس مقام پر بھی شیطان کو آنے کی حاجت نہیں، کیونکہ لوگ ایسے بیانات سن کر گناہوں پر دلیر، تو بہ سے غافل اور اللہ تعالٰی کی رحمت کا ناجائز یقین رکھنا شروع کر دیتے ہیں اور آخرت تباہ کر بیٹھتے ہیں-
[۶] شیطان سے محفوظ رہنے کے لئے حفاظتی اقدامات:
'۱'- اللہ عزوجل کی بارگاہ میں اس سے محفوظ رہنے کی بکثرت دعا و فریاد کرنا ،
کیونکہ امداد باری تعالیٰ کے بغیر کوئی اس سے نجات نہیں پاسکتا۔
'۲'- اسے اپنا سب سے بڑا دشمن سمجھنا اور پھر دشمنی کے تمام تقاضے پورے کرنا ۔ کیونکہ جب شیطان کو دشمن سمجھا جائے گا تو دور رہا جائے گااور دل میں نفرت پیدا ہوگی اور دشمنی کے تمام تقاضے پورے کئے جائیں گے تو اس کی گرفت کمزور سے کمزور تر ہوتی چلی جائے گی ، اور وہ تقاضے یہ ہیں۔
'ا'- اپنے دشمن کی بات نہیں مانی جاتی ، چنانچہ ہمیں بھی اس کی بالکل اطاعت نہیں کرنی چاہئے ۔
'ب'- کوئی اپنے دشمن کو خوش نہیں دیکھنا چاہتا ۔ لہذا ہر اس کام سے بچنا ہوگا جو ابلیس کو خوش کرے ، اور ابلیس جن کاموں سے بے حد خوش ہوتا ہے وہ یہ ہیں۔ جہالت، کافرو بد مذہب و گناہ گار کی صحبت ، اطاعت رب و رسول سے دوری ، وقت کو برباد کرنا
امور آخرت میں غفلت ، تو بہ میں ٹال مٹول ، مخلوق خدا پر ظلم ، مؤمن کا مؤمن کو قتل کرنا ، کسی شخص کا کفر پر مرنا ، مسلمانوں کو آپس میں لڑانے کی غرض سے ایک دوسرے کے خلاف اُبھارنا ، نفس کی خاطر غصّے میں آنا ۔
'پ' - دشمن کو غمگین دیکھنا اچھا محسوس ہوتا ہے ، لہذا اسے غمگین کرنے والے عمل اختیار کرنا ۔ اور ابلیس درج ذیل باتوں سے بے حد غمگین ہوتا ہے ۔ علم شریعت کا حاصل کرنا ، نیک و صالح لوگوں کی صحبت اختیار کرنا، اطاعت الہی و رسول پر استقامت ، وقت کی قدر کرنا ، آخرت کے امور پر کامل توجہ ، تو بہ میں جلدی ، مخلوق خدا پر شفقت و رحمت ، مکمل حج ۔
'ت'-دشمن کو تکلیف میں مبتلا کیا جائے تو وہ دور بھاگتا ہے۔ لہذا ہر اس عمل کو اختیار کرنا جس سے اسے تکلیف پہنچے۔ ابلیس جن امور سے بے حد تکلیف محسوس کرتا ہے وہ یہ ہیں ۔ تبلیغ دین و وعظ و نصیحت ، مسلسل ذکر الہی ، کسی کامل بزرگ کی صحبت ، ثواب جاریہ، ترجمہ و تفسیر کے ساتھ تلاوت قرآن ، استغفار ، کامل توبہ و ادائے حج ، تقوی کی وجہ سے پیدا ہونے والا نور قلب ۔
'ث'- دشمن کا دوست ، اپنا دشمن اور اس کا دشمن ، اپنا دوست ہوتا ہے، پس ابلیس کے سلسلے میں بھی اسی پر عمل کرنا ۔ جو چیزیں ابلیس کی دوست ہیں وہ یہ ہیں ۔ کافر و مشرک ، بد مذہب ، وہ لوگ جو ہمیں گناہوں اور بد کرداریوں کی جانب مائل کریں ، گندے مناظر ، فحش باتیں ، غلیظ تحریریں ، بے ہودہ مجالس ، ہر طرح کا نشہ ، نامحرم لوگوں سے میل جول -
اور جو چیزیں ابلیس کی دشمن ہیں وہ یہ ہیں ۔ انبیاء و صحابہ و اولیاء و با عمل علماء و مفتیان کرام ، قرآن عظیم ، دینی کتابیں ، دینی ادارے ، نیک و کامل عام مسلمان و دوست، رشد و ہدایت کا سلسلہ قائم کرنے والے بزرگ، پاکیزہ مناظر و گفتگو و بات و تحریر ، نیک مجالس -
'ج '-انسان ایسی جگہ رہنا پسند کرتا ہے ، جہاں تک دشمن کی رسائی نہ ہویا کم از کم با آسانی نہ ہو۔ چنانچہ ایسے مقامات تلاش کرنا اور جہاں اس کی رسائی بہت آسان ہو ، وہاں سے دور رہنا ۔ وہ مقامات جہاں ابلیس کی رسائی کافی مشکل ہوتی ہے یہ ہیں ۔ کسی نیک و کامل و با عمل بزرگ کی مجلس، شریعت کے مطابق اختیار کئے جانے والے ذکر الہی کی محافل ، علمی مجالس واعظ و نصیحت ۔
اور وہ مقامات جہاں ابلیس کی رسائی بے حد آسان ہوتی ہے یہ ہیں ۔ بے عمل و نفس پرست اور جھوٹے پیر کی مجلس ، جس محفل میں فقط الله عز وجل کی رحمت ہی کے واقعات ذکر کئے جائیں ، جس محفل میں بے عمل اور گناہ گاروں کو صرف مستحب کاموں کو کرنے پر آخرت کے بڑے بڑے انعامات کے خواب دکھائے جارہے ہوں ، گناہ گار دوستوں اور رشتے داروں کی مجلس ، دور حاضر میں یوٹیوب، فیس بک اور دیگر بے ہودہ ویب سائٹس۔
'۳'- شیطان کی اطاعت کے دنیوی و اخروی نقصانات پر مسلسل غور کرنا :
مثلًا کفر و شرک و بد مذہبیت میں مبتلا ہونا ، صغیرہ و کبیرہ گناہوں کا ارتکاب فرائض و واجبات کی ادائیگی سے دوری ، حرام کمانا اور کھانا ، زوال عزت و بدنامی ، نشہ وغیرہ کے باعث عزت و صحت کا زوال ، اُخروی نقصانات مثلاً انتہائی دردناک موت ، عذابات قبر اور میدان محشر میں ذلت و رسوائی۔
'۴'- سید عالم صلی اللہ علیہ وسلم کی شیطان سے محفوظ رہنے کے سلسلے میں تلقینات پر سختی سے عمل پیرا ہونا
مثلاً آپ صلی اللہ علیہ وسلم کے فرمان کے مطابق :
'ا '-جو شخص گھر میں داخل ہوتے اور کھانا کھاتے وقت بسمہ اللہ پڑھ لے تو اس گھر اور کھانے میں شیطان کا حصہ نہیں ۔
'ب' - بسم اللہ پڑھ کر دروازے بند کرنے سے شیطان اُسے نہیں کھولتا –
'پ' - نامحرم عورت کے ساتھ تنہائی اختیار کرنے پر شیطان وہاں موجود ہوتا ہے –
'ت' - جماہی آنے پر مونھ پر ہاتھ رکھنے پر شیطان مونھ میں داخل نہیں ہو پاتا ہے۔
'ث'- رات کو بستر پر جاؤ تو پوری آیت الکرسی پڑھنے سے صبح تک شیطان قریب نہ آسکے گا ۔
' ج'- جب غصہ آئے تو وضو کر لو ۔ 'ح'- جب کوئی بیت الخلا میں جائے تو اللہ تعالی کی پناہ طلب کرے اور دعا پڑھے ۔
'۵'- در جل ذیل وظائف کا استقامت کے ساتھ اختیار کرنا بھی ان شاء الله اس سلسلے میں بے حد مفید ثابت ہوگا
'ا'-جس نے فجر کی نماز کے بعد 10 بار سورہ اخلاص پڑھی تو چاہے شیطان کتنی کوشش کرے، اس دن اس سے کوئی گناہ لاحق نہ ہوگا ۔ 'ب'- جب کوئی شخص صبح کے وقت ۱۰ بار یہ کہہ لے ، اعوذ بالسميع العليم من الشيطان الرجيم - تو اسے شام تک اور جب یہی شام کو کہہ لے تو صبح تک شیطان سے پناہ دے دی جاتی ہے ۔