زہد
[۱]زہد کی تعریف : دنیا کو ترک کر کے آخرت کی طرف مائل ہونے یا غیر الله کو چھوڑ کر الله عز وجل کی طرف متوجہ ہونے کا نام زہدہے۔ اور ایسا کرنے والے کو زاہد کہتے ہیں۔
[۲] ایک بزرگ کا قول ہے: "زہد یہ ہے کہ بندہ ہر اس چیز کو ترک کردے جو اسے اللہ عز و جل سے دور کرے" ۔
[۳] جو شخص اس بات پر نظر رکھتے ہوئے کہ آخرت دنیا سے بہتر اور باقی رہنے والی ہے، جنتی نعمتوں کو ان تمام چیزوں پر ترجیح دے جو اسے دنیا میں بغیر کسی مشقت کے آسانی سے حاصل ہیں حقیقت میں ایسا شخص زاہد کہلانے کا حق دار ہے۔ آخرت میں اللہ عزوجل کی طرف سے ملنے والے ثواب کو حاصل کرنے کی نیت سے دنیا کو ترک کرنے والا شخص بھی حقیقی زاہد ہے۔
[۴] زہد اختیار کرنے والے کی فضیلت
ایک صحابی رضی اللہ عنہ فرماتے ہیں کہ ہم نے بارگاہ رسالت میں عرض کی : "یا رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم ! لوگوں میں سب سے بہتر شخص کون ہے ؟ " ارشاد فرمایا : " ہر وہ مؤمن جو دل کا صاف اور زبان کا سچا ہو"۔ عرض کی گئی : " صاف دل والے سے کیا مراد ہے؟ ارشاد فرمایا : " وہ متقی اور مخلص شخص جس کے دل میں خیانت ، دھوکا ، بغاوت اور حسد نہ ہو"۔ پھر عرض کی گئی : " ایسے شخص کے بعد کون افضل ہے ؟ ارشاد فرمایا " وہ شخص جو دنیا سے نفرت اور آخرت سے محبت کرنے والا ہو"۔
[۵]زہد کے درجات - زہد کے تین درجات ہیں:
'۱'-جو شخص الله عز وجل کے سوا ہر چیز حتّٰی کہ جنت الفردوس سے بھی بے رغبتی اختیار کرے ، صرف الله عز وجل سے محبت کرے وہ زاہد مطلق ہے۔جو کہ زہد کا اعلیٰ ترین درجہ ہے ۔
'۲'-جو شخص تمام دنیاوی لذات سے بے رغبت ہو لیکن اُخروی نعمتوں مثلا جنتی محلات و باغات ، نہروں اور پھلوں وغیرہ کی لالچ کرے وہ بھی زاہد ہے۔لیکن اس کا مرتبہ زاہد مطلق سے کم ہے ۔
'۳'-جو شخص دنیاوی لذات میں سے بعض کو ترک کرے اور بعض کو نہیں مثلا مال و دولت کو ترک کرے ، مرتبے اور شہرت کو نہیں یا کھانے پینے میں وسعت کو ترک کردے زینت و آرائش کو نہیں ، اس کو مطلقًا زاہد نہیں کہا جاسکتا۔ لیکن ایسا شخص بھی زاہد کہلایا جائے گا کہ بعض مباح چیزوں کا ترک پایا جا رہا ہے ۔
[۶] زہد اختیار کرنے کا طریقہ
'۱'- زہد کے فضائل و فوائد پر غور کیجیے : چند فضائل و فوائد یہ ہیں :" زاہد سے اللہ عز و جل محبت فرماتا ہے" ،" زہد اختیار کرنا انبیائے کرام اور امام الانبیاء صلی اللہ علیہ وسلم کی سنت ہے" ، "زاہد کو بغیر سیکھے علم اور بغیر کوشش کے ہدایت نصیب ہو جاتی ہے" ، "زاہد پر دنیا کی مصیبتیں آسان ہو جاتی ہیں" ، زاہد کو حکمت عطا کر دی جاتی ہے"۔وغیرہ
'۲'- فضیلتِ زہد پر بزرگان دین کے اقوال کا مطالعہ کیجیے : چند اقوال یہ ہیں ۔
'ا'- حضرت سیدنا عبد الله بن مسعود رضی اللہ عنہ فرماتے ہیں: " جس شخص کو زہد کی دولت حاصل ہو اس کا دو رکعت نماز ادا کرنا
اللہ عز و جل کو غیر زاہد عبادت گزاروں کی ہمیشہ کی عبادت سے زیادہ پسند ہے" ۔
'ب'-ایک صحابی رضی اللہ عنہ فرماتے ہیں: "ہم نے تمام اعمال کو کر کے دیکھا لیکن آخرت کے معاملے میں دنیا سے بے رغبتی سے زیادہ کسی عمل کو مؤثر نہ پایا"۔
'۳'- دنیا کو آخرت پر ترجیح دینے کے نقصانات پر غور کیجیے:
جب بندے پر کسی چیز کا نقصان ظاہر ہو جاتا ہے تو عام طور پر اس سے بچنے کی کوشش کرتا ہے، جب بندہ دنیا کو آخرت پر ترجیح نہیں دے گا تو یقیناً آخرت کو دنیا پر ترجیح دے گا اور یہی زہد ہے۔ نبی پاک صلی اللہ علیہ وسلم نے ارشاد فرمایا : جس نے دنیا کو آخرت پر ترجیح دی الله ﷻ اسے تین باتوں میں مبتلا فرمادے گا : ایسا غم جو کبھی اس کے دل سے جدا نہ ہوگا ، ایسا فقر جس سے کبھی نجات نہ ملے گی ، ایسا لالچ جو کبھی ختم نہ ہوگا ۔
[۷] زہد کی علامات
'۱'- زاہد کو صرف اللہ عز و جل سے محبت ہوتی ہے ، اس کے دل پر اللہ عزوجل کی عبادت و اطاعت کی حلاوت و مٹھاس غالب ہوتی ہے۔ '۲'-زاہد کے نزدیک مذمت اور تعریف کرنے والا ہ برابر ہوتے ہیں ۔
'۳'-جو چیز موجود ہے اس پر خوش نہ ہو اور جو موجود نہیں اس پر غملین نہ ہو۔
'۴'-زاہد لوگوں سے بے رغبتی اختیار کرتا ہے۔
'۵'-زاہد قناعت اختیار کرنے والا ہوتا ہے ۔
'۶'-زاہد لمبی اُمیدیں لگانے والا نہیں ہوتا ہے۔
'۷'-زاہد ہر شخص کو اپنے سے بہتر سمجھتا ہے۔
'۸'-زاہد حلال رزق تلاش کرنے والا ہوتا ہے۔
'۹'-زاہد تکلیفوں پر صبر کرنے والا ، شہوات کو ترک کرنے والا ہوتا ہے ۔
'۱۰'- زاہد کے لیے اللہ عزوجل اس کا انیس ، الله عز وجل کا ذکر اس کا رفیق،دنیا اس کے لیے قید خانہ ، تنہائی اس کی مجلس ، قرآن اس کی گفتگو ہوتی ہے۔