توکل
[۱] توکل کا لغوی معنی بھروسہ کرنا ہے اور اس صفت سے متصف یعنی اس صفت والے کو متوکل کہتے ہیں۔
[۲] تو کل کی شرعی تعریف یہ ہے ۔توکل ، الله عز وجل پر رزق اور دیگر معاملات میں کامل بھروسہ کرنے کا نام ہے یعنی انسان کے قلب میں یہ خیال راسخ (پختہ) ہو جائے کہ میرے تمام کاموں خصوصاً رزق کا حقیقی کفیل ، فقط (صرف) الله عز و جل ہے ۔ اور اس خیال کے دل میں راسخ ہو جانے کے بعد وہ صرف الله عز وجل پر بھروسہ رکھے۔ اگر کبھی اپنی حاجات کی تکمیل کے لئے کسی غیر کی جانب مائل بھی ہو، تو اسے فقط ایک وسیلہ (ذریعہ) تصور کرے اور اس کی جانب رجوع (متوجہ ہونے) کے وقت بھی توجہ اللہ عزوجل کی جانب ہی ہونی چاہیے۔
[۳] توکل کی فضیلت : الله عز وجل کا ارشاد ہے:
'۱'-"اور اللہ ہی پر بھروسہ کرو، اگر تم مؤمن ہو "۔
'۲'-"اگر تم ایمان لے آئے ہو ، تو اسی پر بھروسہ کرو، اگر تم مسلمان ہو"۔
'۳'-"اور مؤمنین کو چاہیے کہ فقط اللہ ہی پر بھروسہ رکھیں" ۔
'۴'-"اور جو اللہ پر بھروسہ کرے ، تو وہ اسے کافی ہے"۔
[۴]اسباب و ذرائع اختیار کرنا ، توکل کے خلاف نہیں ، جب کہ انہیں صرف ایک وسیلہ سمجھا جائے اور الله عز و جل کے وعدے پر کامل یقین و اعتماد حاصل ہو ۔ یہی وجہ ہے کہ توکل اختیار کرنے کےحکم کےبا وجود اسباب کی تیاری کا جگہ جگہ حکم دیا گیا ہے ، بلکہ بعض مقامات پر اسباب کی موجودگی کو عبادت کی فرضیت کا سبب بنایا گیا ہے ۔ اللہ عز و جل کا ارشاد ہے :
'۱'-" اور جتنی تمہیں استطاعت ہو، ان کے لئے قوت تیار رکھو اور جتنے گھوڑے باندھ سکو، باندھو تاکہ ان سے، ان کے دلوں میں دھاک بٹھاؤ ، جو اللہ اور تمہارے دشمن ہیں اور ان کے سوا کچھ دوسروں کے قلوب میں ، جنہیں تم نہیں جانتے" ۔
'۲'-" اور اللہ کے لئے لوگوں پر اس گھر کا حج کرنا فرض ہے ، جو اس کی استطاعت رکھتا ہو"۔ معلوم ہوا کہ حج صرف ان لوگوں پر فرض ہے جو تمام ضروری اسباب کے ساتھ وہاں پہنچنے کی استطاعت رکھتے ہیں۔
'۳'-غزوات و سرایا میں رحمت عالم صلی اللہ علیہ وسلم اور صحابہ کرام اسلحے کے ساتھ ہی جہاد فرمایا کرتے تھے ، کہیں بھی ثابت نہیں کہ ان نفوس قدسیہ نے بغیر ہتھیار میدان جنگ میں پہنچ کر، توکل علی الله کا عملی درس دینا پسند فرمایا ہو۔
'۴'- ایک شخص بارگاہ رسالت صلی اللہ علیہ وسلم میں حاضر ہوا اور عرض کی: یا رسول اللہ ! کیا میں اس اونٹنی کو کھلا چھوڑ دوں اور اللہ عزوجل پر بھروسہ کروں ؟ آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے ارشاد فرمایا ، نہیں ، بلکہ اس کی ٹانگوں میں رسی باندھ اور پھر اللہ پر توکل کر۔
[۵]توکل کے احکام:
اعلیٰ حضرت شاہ امام احمد رضا خان علیہ رحمتہ الرحمن فرماتے ہیں : " الله عز وجل پر مطلق توکل کرنا فرض عین ہے۔ اسباب کو چھوڑ دینا
تو کل نہیں بلکہ اسباب پربھروسہ نہ کرنے اور اللہ تعالیٰ پر بھروسہ کرنے کا نام تو کل ہے"
[۶]اپنے اندر توکل کی صفت پیدا کرنے کے طریقے :
'۱'-توکل کی معلومات حاصل کیجیے ۔ جب تک بندے کو کسی چیز کے بارے میں تفصیلی معلومات نہ ہوں اس چیز کو اختیار کرنا یا اس کا ذہن بنانا بہت مشکل ہے، تو کل کا ذہن بنانے اور اسے اختیار کرنے کے لیے بھی تو کل کی معلومات ہونا ضروری ہے اس کے لیے دینی کتابوں کا مطالعہ بہت مفید ہے ۔
'۲'-توکل و متوکل سے متعلق بزرگان دین کے اقوال کا مطالعہ کیجیے ۔ حضرت سیدنا سہل رحمتہ اللہ تعالٰی علیہ نے فرمایا :
" متوکل کی تین علامات ہیں : سوال نہیں کرتا ، جب کوئی اسے چیز دے تو رد نہیں کرتا اور جب چیز پاس آجائے تو اسے جمع نہیں کرتا "۔
'۳'- رب تعالیٰ کی قدرت کاملہ پر یقین رکھیے ۔ بندہ رزق اور دیگر ضروریات کے متعلق اللہ عز و جل کے ضامن اور کفیل ہونے کا تصور رکھے اور اللہ عزوجل کے کمال علم ، اس کی کمال قدرت کا تصور کرے اور اِس بات پر یقین رکھے کہ اللہ عز و جل خلاف وعدہ ، بھول ، عجز اور ہر نقص سے منزہ اور پاک ہے ، جب ہمیشہ ایسا تصور ذہن میں رکھے گا تو ضرور اُسے رزق کے بارے میں رب تعالٰی پر توکل کی سعادت نصیب ہو جائے گی۔
'۴'-توکل کے فوائد اور فضائل پر غور کیجیے – چندیہ ہیں:
'ا' رسول الله ﷺ کا ارشاد ہے :" اگر تم اللہ عزوجل پر اس طرح تو کل (یعنی بھروسہ) کرو ، جیسا توکل کرنے کا حق ہے ، تو وہ تم کو اس طرح رزق دے گا ، جیسے پرندوں کو عطا فرماتا ہے کہ صبح بھوکے جاتے ہیں اور شام کو سیر ہو کر لوٹتے ہیں"۔
'ب'-" توکل کرنے والے کو دنیا و آخرت کی بے شمار بھلائیاں نصیب ہوتی ہیں "۔
'۵'- متوکلین کی صحبت اختیار کیجئے ۔ محبت اثر رکھتی ہے، جب بندہ تو کل کرنے والوں کی صحبت اختیار کرتا ہے تو اس کا بھی تو کل کا ذہن بن جاتا ہے۔
'۶'- رب تعالٰی کی بارگاہ میں تو کل کی دعا کیجئے۔