شکر

[۱] شکر کی تعریف یہ ہے کہ کسی کے احسان و نعمت کی وجہ سے زبان ، دل یا اعضاء کے ساتھ اس کی تعظیم کرنا ۔ شکر کی اصل یہ ہے کہ آدمی نعمت کا اعتراف کرے اور اس کا اظہار کرے ، جبکہ ناشکری نعمت کو بھول جانا اور اس کو چھپانا ہے۔

[۲] الله عز وجل کا ارشاد ہے: ترجمہ" اگر احسان مانو گے تو میں تمہیں اور دوں گا اور اگر ناشکری کرو تو میرا عذاب سخت ہے"۔ اس آیت سے معلوم ہوا کہ شکر سے نعمت زیادہ ہوتی ہے، بندہ جب اللہ تعالٰی کی نعمتوں اور اس کے طرح طرح کے فضل و کرم و احسان کا مطالعہ کرتا ہے تو اس کے شکر میں مشغول ہوتا ہے اس سے نعمتیں زیادہ ہوتی ہیں اور بندے کے دل میں اللہ تعالیٰ کی محبت بڑھتی چلی جاتی ہے۔ یہ مقام بہت اونچا ہے اور اس سے اعلیٰ مقام یہ ہے کہ مُنعم یعنی نعمت دینے والی کی محبت یہاں تک غالب ہو کہ دل کو نعمتوں کی طرف توجہ باقی نہ رہے اور پوری توجہ صرف اپنے رب عزوجل کی طرف ہو یہ مقام صدیقوں کا ہے۔

[۳] نبی پاک صلی اللہ علیہ وسلم نے ارشاد فرمایا : " جسے چار چیزیں مل گئیں اسے دنیا و آخرت کی بھلائی مل گئی: '۱'- شکر کرنے والا دل '۲'- ذکر کرنے والی زبان ۔'۳'- آزمائش پر صبر کرنے والا بدن اور '۴'- اپنے آپ اور شوہر کے مال میں خیانت نہ کرنے والی بیوی " 

[۴]شکر کے مختلف احکام :

'۱'- اللہ تعالیٰ کی نعمتوں پر شکر ادا کرنا واجب  ہے۔ دل میں یہ اعتقاد رکھے کہ تمام نعمتیں جو حاصل ہیں یہ محض اللہ تعالیٰ کا فضل و کرم ہے لہذا ان نعمتوں کا استعمال اللہ تعالٰی کی نافرمانی میں نہیں کرنا ہے اللہ تعالیٰ کی نعمتوں پر شکر ادا کرنا مؤمنین کا طریقہ اور ان کی ناشکری کرنا

کفار و منافقین کا طریقہ ہے۔ 

'۲'- انبیاء کرام پر جو انعام الہی ہو اس کی یاد گار قائم کرنا اور شکر بجا لانا کئی صورتوں میں مسنون یعنی سُنّت ہے، اگر کفار بھی قائم کرتے ہوں جب بھی اس کو چھوڑا نہ جائے گا جیسا کہ محرم الحرام کی دسویں تاریخ کو حضرت سیدنا موسی علیہ السلام اور ان کی قوم کو اللہ عزوجل نے فرعون سے نجات دلائی ، وہ اس کے شکرانے میں عاشورہ کا روزہ رکھتے تھے ، سرکار صلی اللہ علیہ وسلم نے بھی اس دن کا روزہ رکھا اور فرمایا : " حضرت موسیٰ علیہ السلام کی فتح کی خوشی منانے اور اس کی شکر گزاری کرنے کے ہم یہود سے زیادہ حق دار ہیں"۔

'۳'- جس روز اللہ تعالیٰ کی خاص رحمت نازل ہو اس دن کو عید منانا اور خوشیاں منانا ، عبادتیں کرنا ، شکر الہی بجالانا صالحین کا طریقہ ہے۔ اس میں کچھ شک نہیں کہ سید عالم صلی اللہ علیہ وسلم کی تشریف آوری اللہ تعالٰی کی عظیم ترین نعمت ہے اس لیے آپ صلی اللہ علیہ وسلم کی ولادت مبارکہ کے دن عید منانا ، میلاد شریف پڑھ کر شکر الہی بجالانا ایک نیک کام ، قابل تعریف اور اللہ تعالیٰ کے مقبول بندوں کا طریقہ ہے۔

[۵] شکر کی عادت اپنانے کے طریقے :

'۱'- شکر کے فضائل و واقعات کا مطالعہ کرنا: شکر کے فضائل پڑھنے سے بندہ شکر کی طرف مائل ہوگا اور شکر سے متعلق واقعات پڑھنے سے یہ ذہن بنے گا کہ دنیا میں الله عز وجل کے کئی ایسے نیک بندے بھی ہیں جن پر مصیبتوں کے پہاڑ ٹوٹے مگر اس کے باوجود ان کی زبان پر نا شکری کا ایک کلمہ بھی نہ آیا ۔ انہوں نے ہر حال میں رب تعالٰی کا شکر ادا کیا ۔

'۲'- اپنے سے کم تر و ادنٰی پر نظر کیجیے: ایسے لوگ  جنہیں ہم سے کم دنیاوی سازو سامان ملا ہے ان کے حالات پر غور کرنے پر یہ پتہ 

چلتا ہے کہ اللہ تعالی نے ہمیں کتنی زیادہ نعمتوں سے نوازا ہے اس سے دل میں اللہ تعالی کا شکر پیدا ہوگا ۔

'۳'-اللہ تعالیٰ کی نعمتوں پر غور کیجئے: کہ اللہ تعالٰی نے بے شمار مخلوقات کو پیدا فرمایا لیکن ہمیں اشرف المخلوقات یعنی انسان پیدا فرمایا ، پھر انسانوں میں ایک مسلمان گھر میں پیدا فرمایا ، پھر اپنے حبیب کی اُمت میں پیدا فرمایا، پھر اپنے حبیب صلی اللہ علیہ وسلم سے محبت کرنے والے گھر میں پیدا فرمایا ، صحیح سالم جسم کے مختلف اعضاء عطا فرمائے ، غرض کہ رب تعالٰی کی نعمتوں کا شمار نہیں، جتنا ان نعمتوں میں غور کریں گے اتنا ہی اللہ تعالیٰ کا شکر بجالانے کا ذہن بنتا چلا جائے گا۔ 

'۴'-نعمتوں کے زوال کا خوف کیجیے : جب یہ ذہن بنے گا کہ نعمتوں کی ناشکری کرنے پر نعمتیں چھینی جاسکتی ہیں تو نعمتوں کے زوال کا خوف دل میں پیدا ہوگا اور ذہن نعمتوں کے شکر کی طرف مائل ہوگا۔

'۵'-شکر گزار بندوں کی صحبت اختیار کیجیے : محبت اثر رکھتی ہے ، جو بندہ جیسی صحبت اختیار کرتا ہے وہ ویسا ہی بن جاتا ہے ، شکر گزار بندوں کی صحبت اختیار کرنے سے آدمی شکر ادا کرنے والا بن جائے گا۔