صبر
[۱]لغت میں صبر کے معنی رُکنے کے ہیں اور شریعت میں اللہ تعالیٰ کی نا فرمانی سے اور اللہ تعالیٰ یا مخلوق کی جانب سے پہنچنے والی تکالیف پر خود کو زبانی و قلبی شکوه و شکایت، اظہار غضب اور ہر قسم کی انتقامی کارروائی سے روک لینے کا نام صبر ہے۔
[۲]صبر کی اقسام - صبر کی چار اقسام ہیں اور حقیقت میں وہی صابر کہلانے کا حق دار ہے جو ان چاروں صبر کی اقسام پر عمل کرتا ہو۔
'۱'- الله عز وجل کی عبادات پر صبر - نفس کو عبادات کے ترک سے روکنا، اور ان کی ادائیگی کی مشقت پر، قلب و زبان کو شکوہ و شکایت اور خود کو اظہارِ غضب سے روک لینا ، عبادات پر صبر کرنا کہلاتا ہے۔
'۲'- الله عز وجل کی نافرمانی سے اجتناب پر صبر - گناہوں کے ارتکاب سے نفس کو روکنا، نیز خود کو ان پابندیوں پر شکوہ و شکایت و اظہار غضب سے باز رکھنا ، گناہوں سے رک جانے پر صبر کہلاتا ہے ۔
'۳'- اللہ عزوجل کی جانب سے آزمائشوں پر صبر - الله عز وجل کی جانب سے آنے والی آزمائشوں، مثلاً صورت و جسم میں کسی قسم کی کمی، بیماری ، اولاد سے محرومی ، غربت ، مال چوری ہو جانا یا چھن جانا ، کسی قریبی عزیز کا فوت ہو جانا وغیرہ پر قلب و زبان کو شکوہ و شکایت اور نفس کو ہر قسم کی بغاوت و اظہار غضب سے روکنا ، ان پر صبر کہلاتا ہے ۔
'۴'- مخلوق کی جانب سے ملنے والی تکالیف پر صبر - مخلوق کی جانب سے پہنچنے والی تکالیف پر قلب و زبان کو شکوہ و شکایت اور نفس کو ہر قسم کی انتقامی کارروائیوں اور اظہارِ غضب سے روک لینا ، ان پر صبر کہلاتا ہے۔
[۳]صبر کی علامات اور ان کا حصول:
'۱'- الله عز وجل کی عبادات پر صبر - اس سلسلے میں دو علامات کو بنیاد بناتے ہوئے ، اپنے اوپر اچھی طرح غور کرنا چاہیے :
'ا' ہمارا نفس، فرض و واجب اور سنت مؤکدہ کی ادائیگی کے سلسلے میں صاف انکار تو نہیں کر دیتا ہے۔
'ب'- انکار تو نہیں کرتا لیکن اسے ادائیگی کے لئے تیار کرنے میں کافی مشقت سے کام لینا پڑتا ہے اور ادائیگی کے دوران یہ ناپسندیدگی اور بیزاری کی ملی جلی کیفیت کا شکار رہتا ہے مثلاً سخت سردی میں ، گرم پانی نہ ہونے کی صورت میں ٹھنڈے پانی سے وضو یا غسل کرنے سے صاف انکار کر دیتا ہے یا کرنے کے لئے بڑی مشکل سے راضی ہوتا ہے اور دوران وضو یا غسل بیزاری طاری رہتی ہے، نمازوں کی ادائیگی اور خصوصاً فجر میں اُٹھنے سے صاف انکار کر دیتا ہے یا بڑی مشکل سے راضی ہوتا ہے اور دوران ادائیگی کوفت طاری رہتی ہے ۔ ایسی ہی کیفیت دیگر عبادات کے معاملے میں رہتی ہے ۔
اگر ذکر کی گئی دو علامتوں میں سے کوئی بھی علامت پائی جائے تو یہ نتیجہ نکلتا ہے کہ صبر کی یہ قسم ہمیں حاصل نہیں ہے ، اس کے حصول کا یہ طریقہ ہے:
'ا'- عبادات کے فضائل اور ان کے ارتکاب پر انعامات اور ترک کرنے پر ہونے والے نقصانات و عذابات ہمیشہ ذہن میں رکھنا چاہیے۔ 'ب'- عبادات پر اہل استقامت حضرات کی صحبت میں رہنا۔ 'پ'- بے عمل غافل لوگوں کی صحبت سے بچنا ۔
'۲'- الله عز وجل کی نافرمانی سے پرہیز پر صبر: انسان کا نفس اسے گناہوں کی رغبت دلاتا ہے اور انسان کے دل میں گناہوں کی لذت کو ڈالتا ہے، ایسے حالات میں جب انسان کا دل گناہوں کی طرف مائل ہو تو نیچے دیے گئے امور کے حصول سے اس قسم کے صبر کا حصول آسان ہو جاتا ہے ۔
'ا'- گناہوں کے باعث گناہ گار تک پہنچنے والے دنیوی و اخروی نقصانات میں غور و فکر کرنا ۔ 'ب'- نفس اور شیطان سے مقابلہ کے لیے اکابرین کی تعلیم کو ملحوظ رکھنا۔ 'پ'- کسی مرد کامل کی صحبت اختیار کرنا ۔
'۳'- اللہ عزوجل کی جانب سے آزمائشوں پر : 'ا'جن نعمتوں سے محرومی یا ان میں کمی کا احساس پیدا ہو اور اس کے باعث
صبر مشکل ہو جائے تو اول الله عز وجل سے عافیت و صبر کی دعا کر، دوسرے اکابرین کی حیات طیبہ کا مطالعہ کر اور دیکھ کہ وہ کسی طرح اس ظاہری کمی کے باوجود ، اللہ تعالیٰ سے راضی رہتے ہوئے قابل رشک زندگی گزارا کرتے تھے ، تیسرے صبر کے فضائل بغور پڑھنا اور
ذہن نشین کرنا ، چوتھے ان لوگوں کو ذہن میں رکھنا جو ان نعمتوں کے سلسلے میں تجھ سے بھی پیچھے ہیں جیسے اپاہج وغیرہ ۔
'۴'- مخلوق کی جانب سے پہنچنے والی تکالیف پر صبر - اس قسم میں مخلوق کو دو قسم میں بانٹا جا سکتا ہے ۔ 'ا'- ماں باپ ، شوہر ، استاد ، پیر وغیرہ کے اقوال اور اعمال جو ہماری مرضی کے خلاف ہوں ان پر صبر کرنا ۔ اس قسم میں کچھ صورتیں تو ایسی ہیں جہاں ہم پر صبر کرنا واجب ہے اور کچھ صورتیں ایسی ہیں کہ جن میں ان کی اطاعت واجب نہیں جیسے کہ اگر وہ خلاف شرع اور کسی گناہ کا حکم دیں تو انکار واجب ہے چاہے وہ ناراض ہوں یا ان کا دل دکھے یا وہ بددعائیں دیں ۔ معلوم ہوا کہ صبر کی اس قسم میں یہ طے کرنا کہ کہاں صبر کرنا ہے کہاں نہیں یہ بغیر ضروری علم دین حاصل کئے بغیر ممکن نہیں ہے۔
'ب'- دوست احباب اور اجنبی مسلمان کے اقوال و اعمال کے باعث تکلیف بننے کے مقابلے میں صبر - اس قسم میں یہ جاننا ضروری ہے کہ کہاں صبر مطلوب شرع ہے۔ اور کہاں بظاہر بے صبری - جہاں صبر مطلوب شرع ہے ، مثلاً کسی نے تجھے گالی دی ، تیرا مذاق اڑایا، تیرا نقصان کر دیا ، سب کے سامنے ڈانٹ دیا وغیرہ تو ایسی صورتوں میں صبر کے حصول کے لیے غصہ پینے کے فضائل ، صبر کے فضائل ، درگزر کرنے کے فضائل اور ان معاملات میں اکابرین کا طریقہ ذہن میں رکھنا فائدہ مند ہے ۔ کچھ صورتیں ایسی ہیں، جہاں
اظہار ناراضگی ضروری ہے جیسے اولاد کو گناہوں میں مصروف دیکھنا وغیرہ ۔