توبہ

[۱]لغت میں اپنے گناہ سے پلٹنا یا واپس لوٹنا اور شریعت کی نگاہ میں جو افعال بُرے ہیں ان سے اچھے افعال کی جانب لوٹنا تو بہ ہے۔

[۲]شریعت میں تو بہ اللہ عزوجل کی تعظیم اور اس کے عذاب کے خوف کے سبب پچھلی زندگی میں کئے گئے گناہ  پر نادم ہونا ، موجودہ وقت میں اسے ترک کرنا اور آئندہ اسے دوبارہ نہ کرنے کا پختہ ارادہ کرنے کا نام ہے۔

[۳] اوپر دی گئی تو بہ کی تعریف سے پتہ چلا کہ تو بہ چند چیزوں کا مجموعہ ہے جو یہ ہیں۔

'۱'- گناہ گار زمانہ ماضی یعنی گزرے ہوئے زمانہ میں کئے گئے گناہ پر دل سے نادم و شرمندہ ہو ۔ جیسا کہ حدیث میں ذکر ہے : " جس نے کوئی خطا یا گناہ کیا پھر سچے دل سے نادم ہوا، تو یہ ندامت، اس خطا یا گناہ کا کفارہ ہے"۔

'۲'- دل میں اس گناہ کو آئندہ نہ کرنے کا پختہ کا ارادہ موجود ہو ۔

'۳'- یہ ارادہ صرف اللہ عزوجل کی تعظیم اور اس کے عذاب کے خوف کی وجہ سے ہو ، کیسی دنیاوی غرض ، فائدہ کا حاصل ہونا یا کوئی دنیاوی نقصان سے بچنے کی وجہ سے نہ ہو۔

'۴'-ظاہری اعضا اس گناہ میں مشغولیت سے دور نظر آئیں ۔ 

'۵'-زبان سے توبہ و استغفار کے الفاظ ادا کئے جائیں۔

'۶'-اللہ تعالٰی اور بندوں کے حق میں کی گئی کوتاہی کا جہاں تک ممکن ہو تدارک کرنا یعنی اس کی درستی یا اصلاح یا تلافی کرنا ۔

[۴] گناہ کے تدارک کا طریقہ : اس میں سب سے پہلے یہ دیکھا جائے گا کہ گناہ کس قسم کا ہے اس ایک اعتبار سے اس کی دو قسمیں ہو سکتی ہیں۔

'۱'- اللہ تعالٰی کے حق میں کوتاہی کی گئی ہے یا

'۲'- بندوں کے حق میں ۔

[۵] اگر اللہ تعالٰی کے حق میں کوتاہی ہے تو اس میں بھی تین طرح کے معاملات ہو سکتے ہیں:

'۱'-بدنی عبادات میں کوتاہی ۔ جیسے نماز و روزہ کا ترک ۔ اس کے تدارک میں پہلے اوپر ذکر کے کی گئی۔ پوری شرائط کے ساتھ الله تعالیٰ کی بارگاہ میں تو بہ کرے اور پھر عبادات کی قضاء ادا کی جائے ۔ 

'۲'- مالی عبادت میں کوتاہی ۔ جیسے زکوٰۃ و فطره و قربانی ، فرض یا واجب ہو جانے کے بعد ، ان کی ادا میں تاخیر ۔  اس معاملے میں پہلے پوری 

شرائط کے ساتھ اللہ تعالیٰ کی بارگاہ میں تو بہ کرے اور چونکہ مالی عبادت میں قضا کا کوئی تصور نہیں ہے چنانچہ سابقہ زندگی کا جتنا فطرہ و زکٰوۃ باقی ہو ، ایمان داری سے حساب کرکے، فوراً ادا کیا جائے ، قربانی رہ گئی تھی تو رقم کی  صورت صدقہ میں دیا جائے ۔

'۳'- بدنی یا مالی عبادت میں کوتاہی کے علاوہ کوئی کوتاہی ۔ جیسے شراب پی یا بدنگاہی کی تو اس میں پوری شرائط کے ساتھ تو بہ کافی ہے ، مزید کوئی کفارہ لازم نہیں۔

[۶]بندوں کے حقوق میں کوتاہی : اس میں تین طرح کے معاملات ہو سکتے ہیں:

'۱'- کسی کو روحانی تکلیف پہنچائی ۔ جیسے الزام لگانا ، گالی بکنا ، کسی کو بلیک میل کرنا، کسی کی اس طرح غیبت کرنا کہ اسے اطلاع مل جائے ، کسی کا پوشیدہ معاملہ یا راز ظاہر کر کے زوال عزت کا شکار کرا دینا ۔ ان صورتوں میں سب سے پہلے مظلوم سے معافی مانگی جائے اور پھر پوری شرائط کے ساتھ اللہ تعالیٰ کی بارگاہ میں تو بہ کی جائے۔

'۲'- کسی کو روحانی و جسمانی دونوں طرح کی تکلیف پہنچائی ۔ جیسے کسی کو مارنا، پیٹنا یا کسی پر جھوٹا کیس بنوا کر اسے قید کر دینا کہ اس میں جسم کے ساتھ ساتھ روح کو بھی اذیت پہنچتی ہے ۔ ان صورتوں میں سب سے پہلے مظلوم سے معافی مانگی جائے اور پھر جان کے بدلے جان ، عضو کے بدلے عضو اور زخم کے بدلے زخم کی پیشکش لازم ہے ۔ پھر اگر وہ یا اس کے ورثاء طلبِ قصاص پر ہی اڑ جائیں تو خوش دلی سے سزا قبول کرنا اور اگر اس کے بجائے کچھ مال لینے پر راضی ہو جائیں تو مال ادا کرنا۔ پھر اس کے بعد پوری شرائط کے ساتھ اللہ تعالیٰ کی بارگاہ میں توبہ کرے۔

'۳' کسی کو مالی و روحانی دونوں طرح کی تکلیف پہنچائی ۔ جیسے چوری ، ڈاکا ، غصب ، امانت کا دبانا ، گری پڑی چیز اٹھا کر بغیر اجازت شرع اپنی ذاتی ملک میں لے لینا ، وراثت دبالینا، کسی کی زمین یا دکان پر قبضہ کر لینا ، سو دور شوت لینا۔ ان صورتوں میں سب سے پہلے مظلوم سے معافی مانگی جائے، پھر مال ادا کرنا یا معاف کروانا یا مہلت لینا اور پھر پوری شرائط کے ساتھ اللہ تعالیٰ کی بارگاہ میں تو بہ کرنی ہوگی۔ بندوں کے حقوق میں کوتاہی کی صورت میں اگر مظلوم ، ظالم کے معافی مانگنے کے باوجود اسے معاف نہ کرے تو ظالم کو چاہیے کہ اللہ تعالی سے اس کے لئے پوری زندگی بخشش و مغفرت کی دعا کرے اور اسے اپنی نیکیوں کا ثواب ایصال کرتا رہے، نیز اس کے لئے ثواب جاریہ کرے ۔ ان شاء الله ، باری تعالٰی بروز قیامت اُسے ، اس سے راضی فرمادے گا۔ اور اگر مالی نقصان پہنچایا اور مظلوم کا انتقال ہو گیا تو اس کے ورثاء کو دے اور اگر ورثاء نہ ہوں یا خود مظلوم کہیں اور چلا گیا اور اس کا کوئی پتہ نہیں لگتا تو اب اس مال کو مظلوم کی جانب سے کسی

 کار خیر میں صدقہ کر دے ۔

[۷] توبہ کی اہمیت - انسان خطاؤں اور غلطیوں کا مجموعہ ہے اس سے جانے انجانے میں نہ جانے کتنے گناہ سرزد ہوتے رہتے ہیں ، ان سے نجات کے لیے انسان کو اﷲﷻنے ہی میں تو بہ کی ایک عظیم نعمت عطا کی ہے کہ انسان دنیا میں رہتے ہوتے ہی اپنے گناہوں سے چھٹکارا پاسکتا ہے اور آخرت میں ہونے والی شرمندگی اور سزا سے بچ سکتا ہے۔ اگر یہ عظیم نعمت نہ ہو تو زندگی میں کیے گئے گناہوں کا بوجھ ہمیشہ قائم رہے گا اور اس بوجھ کے ساتھ نہ اللہ تعالیٰ کا قرب کا حصول ممکن ہے اور نہ ہی عبادت کی توفیق اور اگر عبادت کا موقع مل بھی گیا تو عبادت بالکل بے لذت و بے اثر محسوس ہوگی ۔ معلوم ہوا کہ تو بہ اور اس کی توفیق دونوں الله عزوجل کے بہت بڑے انعام ہیں۔ قرآنی آیات اور احادیث مبارکہ سے یہ بات ثابت ہے کہ اگر کسی سے گناہ سرزد ہو جائے تو اس پر تو بہ کرنا واجب ہے ۔ اللہ تعالٰی کا ارشاد ہے: " اور اللہ کی طرف توبہ کرو اے مسلمانو! سب کے سب اس اُمید پر کہ تم فلاح پاؤ"۔ اس سے پتہ چلا کہ جو شخص کامیابی چاہتا ہے اسے چاہیے کہ اگر اس سے کسی بھی قسم کا گناہ یا کوئی کوتاہی ہو گئی ہو تو مولا عز وجل کی بارگاہ میں حاضر ہو جائے اور ندامت کے چند آنسو بہائے  یہ عمل اسے دنیا اور آخرت میں کامیاب کرے گا۔ دیگر آیات سے پتہ چلتا ہے کہ تو بہ واستغفار کرنے سے عمر اور رزق میں برکت ہوتی ہے۔