اخلاص
[۱]کسی بھی نیک عمل کو صرف اللہ تعالیٰ کی رضا اس کا قرب اور خوشنودی حاصل کرنے کے ارادہ سے کرنا اخلاص کہلاتا ہے۔ صرف اُنہیں اعمال پر اجر و ثواب ہے جو صرف اللہ تعالیٰ کی رضا اور خوشنودی حاصل کرنے کے ارادہ سے کیے جاتے ہیں۔ نیک اعمال کو آخرت میں ملنے والے فائدوں کو حاصل کرنے کی نیت سے اختیار کرنا بھی اخلاص میں شامل ہے ۔ اس پر بھی اجر و ثواب ہے ۔
[۲] اخلاص کی اہمیت:
۱- یقیناً نفس کو اخلاص کے ساتھ نیکیوں کی جانب مائل رکھنا بے حد مشکل کام ہے لیکن اللہ تعالٰی جس کے لئے آسان کر دے، اسے اس میں کوئی دقت (پریشانی) محسوس نہیں ہوتی۔ اسی آسانی کے حصول کی غرض سے اس کے کے کئی فضائل ذکر کئے گئے ہیں۔
۲- اللہ عزوجل کا فرمان ہے: "اے رسول! آپ فرمائیے کہ مجھے اللہ تعالیٰ کی جانب سے حکم دیا گیا ہے کہ میں اللہ تعالیٰ کے لئے اپنے دین کو خالص کر کے ، اس کی عبادت کروں"۔ یقیناً جس چیز کا اللہ تعالٰی حکم دے اور رسول اکرم صلی اللہ علیہ وسلم حکم بجا لاتے ہوئے اختیار کریں وہ بے حد فضیلت کی حامل اور انتہائی اہم ہوگی۔ معلوم ہوا کہ اخلاص ایک بے حد اہم وصف ہے۔
۳-رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کا ارشاد ہے : " جس نے اُن علوم میں سے کہ جن کے ذریعے الله تعالیٰ کی رضا تلاش کی جاتی ہو ، کوئی علم اس نیت سے سیکھا کہ اس کے ذریعے دنیا کا سازو سامان حاصل کرے ، تو وہ بروز قیامت جنت کی خوشبو بھی نہیں پا سکتا "
اس سے یہ نتیجہ نکلا کہ اگر نیت ٹھیک نہ ہو یعنی اخلاص نہ ہو تو علم دین سیکھنے سےبھی فائدہ نہیں ہو سکتا۔
اخلاص کے حصول کا طریقہ - چند باتیں جن کو اختیار کرنے سے اخلاص کو حاصل کرنے میں مدد ملتی ہے ، یہ ہیں
(i)ایسے لوگوں کی صحبت میں رہنے کی کوشش کرنا جو اپنے نیک اعمال کو صرف اللہ تعالی کی رضا و خوشنودی حاصل کرنے کی نیت سے اختیار کرتے ہوں(ii) اخلاص کی اہمیت اور فضیلت اور اس کے نہ ہونے والے نقصانات کو بار بار پڑھنا اور ان میں غور و فکر کرنا
(iii) اپنے دل سے دنیا کی محبت اور عزت و شہرت کی خواہش کو جڑ سے اکھاڑپھینک دے ۔ کیونکہ جب تک یہ چیزیں دل میں ہوں گی اخلاص کا حصول بے حد مشکل ہوگا ۔(iv) جب بھی کوئی نیک عمل کرنے لگو تو پہلے آنکھیں بند کر کے اچھی طرح اپنی نیت میں اخلاص کو حاضر کرو اور پھر عمل شروع کرو اور دوران عمل بھی اپنی نیت پراچھی طرح توجہ رکھو کہ نیت میں کوئی بگاڑ پیدا نہ ہونے پائے اور جب عمل پوراہو جائے تو خود سے عہد کرو کہ سخت ضرورت کے علاوہ کبھی کسی کے سامنے اس کاذکر نہ کرے گا اور پھر مستقبل میں جب بھی عمل سُنانے کی باطنی خواہش زور پکڑے،تو اسے پوری طاقت و ہمت سے دبا دے۔
(v) اپنے دل پر اللہ تعالیٰ کی عظمت و محبت کو غالب کرنے کی کوشش کیجئے کیونکہ جس دل پر اللہ تعالیٰ کی عظمت و محبت غالب ہوتی ہے وہ اپنے تمام اعمال کو اللہ تعالیٰ کی رضا و خوشنودی کے حصول کے لیے اختیار کرتا ہے۔