خوف خدا

[۱]خوف خدا کا مطلب یہ ہے کہ اللہ تعالیٰ کی بے نیازی ، اس کی ناراضگی ، اس کی گرفت اور اس کی طرف سے دی جانے والی سزاؤں کا سوچ کر انسان کا دل گھبراہٹ میں مبتلا ہو جائے۔

[۲]اللہ تعالی نے خود قرآن مجید میں کئی مقامات پر اس صفت کو اختیار کرنے کا حکم فرمایا ہے ؟ جیسے

۱- اے ایمان والو ! اللہ سے ڈرو اور سیدھی بات کہو۔ 

۲-اے لوگو! اپنے رب سے ڈرو جس نے تمھیں ایک جان سے پیدا کیا ۔ 

۳-اور مجھ سے ڈرو اگر ایمان رکھتے ہو ۔ 

[۳] ہمارے آقا محمد مصطفی ﷺ نے بھی اس عظیم صفت کو اپنانے کی تاکید فرمائی ہے۔ چنانچہ آپ ﷺ نے فرمایا

۱- اگر تم مجھ سے ملنا چاہتے ہو تو میرے بعد خوف زیادہ رکھنا۔ 

۲-حکمت کی اصل اللہ تعالیٰ کا خوف ہے۔

۳-فرمان الہی ہے" جو شخص دنیا میں میرے عذاب سے ڈرتا ہے میں اسے آخرت میں بے خوف کر دوں گا ...."

[۴]ہر مومن کے لیے ضروری ہے کہ اس کے دل میں خوف خدا ہو کیونکہ یہ ایک ایسی صفت ہے جو آخرت میں نجات کا ایک بہت بڑا ذریعہ ہے۔ اوپر درج کی گئی آیات میں صیغہ امر یعنی حکم پر مشتمل لفظ لایا گیا ہے یعنی خوف خدا کا حکم دیا گیا ہے اور یہ حکم بالکل واضح اور صریح ہے اور اس طرح کے حکم پر عمل کرنا فرض ہے۔ اللہ تعالیٰ کے صریح حکم کے خلاف عمل کرنا گناہ کبیرہ اور اس کا مزاق اڑانا یا انکار کرنا کفر ہوتا ہے۔ 

[۵] خوف خدا کی فضیلت - خوف خدا کی فضیلت میں آیات واحادیث بہت ہیں مثلا :

۱- آیت ترجمہ " ہدایت اور رحمت ہے ان کے لیے جو اپنے رب سے ڈرتے ہیں"۔

۲-آیت ترجمہ " اللہ تعالیٰ ان سے راضی اور وہ اس راضی ، یہ اس کے لیے ہے جو اپنے رب سے ڈرے۔ 

۳-آیت ترجمہ " اور جو اپنے رب کے حضور کھڑے ہونے سے ڈرے اُس کے لیے دو جنتیں ہیں۔ "

۴-رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے ارشاد فرمایا:

'ا'-"جب کوئی بندہ خوف الہی سے کانپتا ہے تو اس کے گناہ اس کے بدن سے ایسے جھڑ جاتے ہیں جیسے درخت کو ہلانے سے اس کے پتے جھڑ جاتے ہیں"۔

'ب'- "جو شخص خوف خدا سے روتا ہے وہ جہنم میں ہر گز داخل نہیں ہو گا اسی طرح جیسے کہ دودھ دوبارہ اپنے تھنوں میں نہیں جاتا"۔

[۶] علامات خوف خدا - خوف خدا ایک قلبی کیفیت کا نام ہے تو ہمیں کیسے معلوم ہو کہ ہمارے دل میں خوف خدا موجود ہے، تو ہمارے علمائے کرام نے خوف خدا کی چند علامات ذکر کی ہیں جو نیچے درج کی گئی ہیں۔ (i) زبان۔ جس دل میں خوف خدا ہوتا ہے ، یہ خوف اُسے جھوٹ، غیبت، فضول گوئی سے روکے گا اور اُسے ذکر الہی،تلاوت قرآن اور علمی گفتگو میں مشغول رکھے گا۔(ii) خوف خدا کی وجہ سے انسان اپنے پیٹ میں حرام غذا کو داخل نہ کرے گا۔ (iii) خوف خدا انسان کو حرام دیکھنے سے روکے گا۔ (iv) خوف خدا کی وجہ سے انسان اپنے ہاتھوں کو حرام کی جانب بڑھانے سے روکے گا (۷) خوف خدا کی وجہ سے انسان اپنے دل سے بغض، کینہ اور مسلمان بھائیوں سے حسد کرنے کو دور کر دے گا اور اس میں خیر خواہی اور مسلمانوں سے نرمی کا سلوک کرنے کا جذبہ پید ا ہو گا۔ (vi) خوف خدا کی وجہ سے انسان اللہ تعالیٰ کی اطاعت و فرمانبرداری کرے گا اور عبادت صرف اللہ تعالیٰ کی رضا کے لیے کرے گا اور ریاء و نفاق سے دور رہے گا۔ (vii) خوف خدا کی وجہ سے انسان اپنے قدموں کو اللہ تعالیٰ کی نافرمانی میں نہیں اُٹھائے گا اور اس کے کان جائز باتوں کےعلاوہ کچھ نہ سنیں گے۔

[۷] خوف خدا کا حصول ۔ خوف خدا کی اس عظیم نعمت کے حصول کے لئے عملی کوشش کے سلسلے میں درج ذیل امور مدد گار ثابت ہوں گے۔(i) رب تعالی کی بارگاہ میں سچی توبہ اور اس نعمت کے حصول کے لیے اللہ تعالی کی بارگاہ میں دعا کرنا (ii) قرآن عظیم و احادیث مبارکہ میں وارد ہونے والے خوف خدا کے فضائل پیش نظر رکھنا۔ (iii) اپنی کمزوری و ناتوانی کو سامنے رکھ کر جہنم کے عذابات پر غور و تفکر کرنا۔(iv) خوف خدا کے حوالے سے اسلاف کے حالات کا مطالعہ کرنا (v) اپنا احتساب کرتے رہنا یعنی اپنی ذات میں موجود عیبوں، اپنے گناہوں، عبادت میں کو تاہیوں اور اپنی اخلاقی برائیوں پر نظر رکھتے ہوئے یہ سوچنا کہ وہ خُدا جو اس قدر کوتاہیوں کے باوجود اسے نعمتوں سے محروم نہیں کر رہا ہے، جب وہ محاسبہ اور گرفت فرمائے گا تو اس کے عذاب سے بچانے والا کوئی نہیں ہو گا۔ (vi) ایسے لوگوں کی صحبت اختیار کرنا جو اس صفت عظیمہ سے متصف ہوں۔ (vii) دل میں اللہ تعالی کی عظمت اور بزرگی بٹھائی جائے اس سے بھی دل میں خوف خدا پیدا ہو گا۔