صدق (سچ بولنا)
[۱]صدق کی تعریف: صدق کا لغوی معنی واقع کے مطابق خبر دینا ہے ۔
[۲]آیت مبارکہ : اللہ عزوجل قرآن مجید میں ارشاد فرماتا ہے : ترجمہ” اور وہ جو یہ سچ لے کر تشریف لائے اور وہ جنہوں نے ان کی تصدیق کی یہی ڈر والے ہیں" ۔
اس آیت مبارکہ میں سچ لے کر تشریف لانے والے سے مراد حضور نبی رحمت شفیع امت ﷺ ہیں اور تصدیق کرنے والے سے مراد امیر المؤمنین حضرت سیدنا صدیق اکبر رَضِيَ اللهُ تعالى عنہ یا تمام مؤمنین ہیں۔
[۳] اللہ عزوجل کے محبوبﷺ نے ارشاد فرمایا: ” بے شک صدق (سچ) نیکی کی طرف لے جاتا ہے اور نیکی جنت کی طرف لے جاتی ہے اور بے شک آدمی سچ بولتا رہتا ہے یہاں تک کہ وہ اللہ ﷻ کے ہاں صدیق ( بہت بڑا سچا )لکھ دیا ہے جاتا ہے اور بے شک کذب ( جھوٹ ) گناہ کی طرف لے جاتا ہے اور گناہ جہنم کی طرف لے جاتا ہے اور بے شک آدمی جھوٹ بولتا رہتا ہے یہاں تک کہ وہ اللہ عزوجل کے ہاں کذاب ( بہت بڑا جھوٹا ) لکھ دیا جاتا ہے"۔
[۴]سچ بولنے کا حکم : ہر مسلمان پر لازم ہے کہ وہ اپنے دینی ودنیوی تمام معاملات میں سچ بولے کہ سچ بولنا نجات دلانے اور جنت میں لے جانے والا کام ہے۔
[۵] سچ بولنے کا ذہن بنانے اور سچ بولنے کے طریقے:
'۱'- سچ کے فضائل کا مُطالعہ کیجئے : تین فرامین مصطفى ﷺ: "سچائی کو اپنے اوپر لازم کر لو کیونکہ یہ نیکی کے ساتھ ہے اور یہ دونوں جنت میں (لے جانے والے ) ہیں اور جھوٹ سے بچتے رہو کیونکہ یہ گناہ کے ساتھ ہے اور یہ دونوں جہنم میں ( لے جانے والے ) ہیں"۔” جب بندہ سچ بولتا ہے تو نیکی کرتا ہے اور جب نیکی کرتاہےمحفوظ ہو جاتا ہے اور جب محفوظ ہو جاتا ہے تو جنت میں داخل ہو جاتا ہے" ۔" تم مجھے چھ چیزوں کی ضمانت دے دو میں تمہیں جنت کی ضمانت دیتا ہوں: (۱) جب بولو تو سچ بولو (۲) جب وعدہ کرو تو اسے پورا کرو (۳) جب امانت لو تو اسے ادا کرو (۴) اپنی شرمگاہوں کی حفاظت کرو (۵) اپنی نگاہیں نیچی رکھا کرو اور (۶) اپنے ہاتھوں کو روکے رکھو "۔
'۲'-سچ سے متعلق بزرگان دین کے اقوال کا مطالعہ کیجئے :حضرت سیدنا عبد الله بن عَبَّاس رضی اﷲعنہ فرماتے ہیں : چار باتیں ایسی ہیں کہ جس میں ہوں گی وہ نفع پائے گا : (۱) صدق ( یعنی سچ ) (۲) حیا (۳) حُسنِ اخلاق اور (۴) شکر۔
'۳'-سچ کے دُنیوی و اخروی فوائد پر غور کیجئے: چند فوائد یہ ہیں : سچ بولنے والا اللہ عزوجل اور اس کے حبیب ﷺ کے حکم پر عمل کرتا ہے۔ سچ بولنے والے کو اللہ عزوجل اور اس کے رسول ﷺ کی رضا حاصل ہوتی ہے۔ سچ بولنے والے کی روزی میں برکت ہوتی ہے۔
'۴'-جھوٹ بولنے کی وعیدوں کو پیش نظر رکھیے : تین فرامین مصطفٰے ﷺ : ” جب بندہ جھوٹ بولتا ہے تو گناہ کرتا ہے اور جب گناہ کرتا ہے تو ناشکری کرتا ہے اور جب ناشکری کرتا ہے تو جہنم میں داخل ہو جاتا ہے "۔"منافق کی تین علامتیں ہیں : (1) جب بات کرے تو جھوٹ بولے (۲) جب وعدہ کرے تو پورا نہ کرے اور (۳) جب اس کے پاس امانت رکھی جائے تو اس میں خیانت کرے" " کتنی بڑی خیانت ہے کہ تم اپنے مسلمان بھائی سے کوئی بات کہو جس میں وہ تمہیں سچا سمجھ رہا ہو حالانکہ تم اس سے جھوٹ بول رہے ہو" ۔