اُمیدوں کی کمی
[۱]اُمیدوں کی کمی کی تعریف: نفس کی پسندیدہ چیزوں یعنی لمبی عمر صحت اور مال میں اضافے وغیرہ کی امید نہ ہونا امیدوں کی کمی کہلاتا ہے۔اگر لمبی عمر کی خواہش مستقبل میں نیکیوں میں اضافے کی نیت کے ساتھ ہو تو اب بھی' اُمیدوں کی کمی' ہی کہلائے گی ۔
[۲] الله ﷻ قرآن پاک میں ارشاد فرماتا ہے : ”انہیں چھوڑو کہ کھائیں اور برتیں اور اُمید انہیں کھیل میں ڈالے
تو اب جانا چاہتے ہیں" ۔
[۳]اس آیت کی تفسیر میں تنبیہ ہے کہ لمبی اُمیدوں میں گرفتار ہونا اور لذات دنیا کی طلب میں غرق ہو جانا ایماندار کی شان نہیں۔ [۴]حضرت علی المرتضیٰ رضی اﷲعنہ نے فرمایا :" لمبی امیدیں آخرت کو بھلاتی ہیں اور خواہشات کا اتباع حق سے روکتا ہے"۔
[۵] سرکارِ دو عالم ﷺ نے ایک بار صحابہ کرام سے دریافت فرمایا: کیا تم سب جنت میں داخل ہونا پسند کرتے ہو؟“ صحابہ کرام نے عرض کی : ”جی ہاں، یا رسولَ اللَّهِ ﷺ! ارشاد فرمایا: ” امیدیں کم کرو اور اپنی موت اپنی آنکھوں کے سامنے رکھو اور اللہ عزوجل سے حیا کرو جیسے اس سے حیا کرنے کا حق ہے" ۔
[۶] اُمیدوں کی کمی کا حکم : اُمیدوں کی کمی دنیا سے بے رغبتی اور فکر آخرت میں مشغول رکھنے، نجات دلانے اور جنت میں لے جانے والا عمل ہے، لہذا ہر مسلمان کو چاہیے کہ لمبی لمبی اُمیدیں باندھنے کی بجائے جتنا دنیا میں رہنا ہے اتنا دنیا کے لیے اور جتنا آخرت میں رہنا ہے اتنا آخرت کی تیاری میں مشغول رہے۔
[۷] امیدوں میں کمی کا ذہن بنانے اور کمی کرنے کے طریقے :
'۱'- چھوٹی امید سے متعلق روایات کا مطالعہ کیجئے : چند روایات یہ ہیں : حضور نبی رحمت ﷺ نے ارشاد فرمایا : ” جب تم صبح کرو تو تمہارے دل میں شام کا خیال نہ آئے اور جب شام کرو تو صبح کی اُمید نہ رکھو اور اپنی تندرستی سے بیماری کے لیے اور زندگی سے موت کے لیے کچھ تو شہ لے لو----"
حضرت سید نا عبد الله بن عَبَّاس رضی اﷲعنہ فرماتے ہیں کہ پیارے آقا ﷺ نے طبعی حاجت سے فراغت حاصل کی اور پانی بہایا، پھر تیمم فرما یا تو میں نے عرض کی : یا رسول الله ﷺ! پانی تو قریب ہے؟ ارشاد فرمایا: ،، میں پانی تک پہنچنے کی از خود امید نہیں رکھتا ۔
'۲'-لمبی امیدوں کی ہلاکتوں پر غور کیجئے : حضور نبی رحمت ﷺ نے ارشاد فرمایا : " اس اُمت کے پہلوں نے یقین کامل اور پرہیز گاری کے سبب نجات پائی جبکہ آخری زمانے والے بخل اور( لمبی ) امید کے سبب ہلاک ہوں گے"۔
'۳'-اُمیدوں کی کمی سے متعلق اقوالِ بُزرگانِ دین کا مطالعہ کیجئے : ایک بزرگ فرماتے ہیں : ” میں اس شخص کی مانند ہوں جس کی پھیلی ہوئی گردن پر تلوار رکھی جا چکی ہے اور اسے انتظار ہے کہ کب اس کی گردن اڑا دی جائے گی۔
'۴'- اپنے اندر خوفِ خُدا پیدا کیجئے : امیدوں کی کمی کا یہ ایک بہترین علاج ہے، کیونکہ جس کا دل خوفِ خدا سے معمور ہوتا ہے،
وہ لمبی لمبی امیدیں لگانے کی بجائے اپنے ربّ عز وجل کی عبادت واطاعت میں مصروف ہو جاتا ہے، جتنا دنیا میں رہنا ہے اتنا دنیا کے لیے اور جتنا آخرت میں رہنا ہے اتنا آخرت کے لیے تیاری کرتا ہے، احکامات شرعیہ کی پابندی کرتا ہے، گناہوں سے بچنے کی بھر پور کوشش کرتا ہے۔
'۵'-دل کو حُب دنیا سے پاک کیجئے : لمبی امیدوں کا ایک بہت بڑا سبب دنیا کی محبت بھی ہے، جب بندے کے دل میں دنیا کی محبت گھر کر جاتی ہے تو وہ لمبی لمبی امیدیں لگانے کی آفت میں مبتلا ہو جاتا ہے، اس کے اندر طویل عرصے تک زندہ رہنے کی خواہش پیدا ہو جاتی ہے، لہذا دل کو حُب دنیا سے پاک کیجئے کہ جو جتنا زیادہ لذت نفس کی خاطر راحتوں میں زندگی گزارتا ہے مرنے کے بعد اسے ان آسائشوں کے چھوٹنے کا صدمہ بھی اتنا ہی زیادہ ہوگا۔
'۶'-امیدوں کی کمی وزیادتی ، فوائد و نقصانات کی معلومات حاصل کیجئے
'۷'-ہر وقت موت کو پیش نظر رکھیے : موت کی یاد اُمیدوں کی کمی کا بہت بڑا سبب ہے۔ اس کا طریقہ یہ ہے کہ بندہ اپنے جوان رشتہ داروں ، دوستوں اور محلے داروں کو یاد کرے جو ہنستے کھیلتے اچانک موت کا شکار ہو کر قبر کی اندھیری کوٹھری میں چلے گئے، وہ لوگ بھی موت کا شکار ہو گئے جنہوں نے کبھی موت کے بارے میں سوچا بھی نہ تھا، مجھے بھی اچانک موت کا مزہ چکھنا ہوگا اور اندھیری قبر میں اترنا ہوگا اور اپنی کرنی کا پھل بھگتنا ہوگا، امید ہے یوں امیدوں کی کمی کا مدنی ذہن بنے گا۔
'۸'- نزع و قبر کے وحشت ناک ماحول کا تصور کیجئے : یوں تصور کیجئے کہ میری موت کا وقت آپہنچا ہے، مجھےقبرستان لے جایا گیاہے،
پھرقبر کے وحشت ناک ماحول کا تصور کیجئےاور وہاں ہونے والی حسرت کا تصور کیجئے،پھر اپنے آپ سے مخاطب ہو کر کہیں کہ ابھی تو میں زندہ ہوں، ابھی میری سانسیں چل رہی ہیں، میں ان حسرت آمیز لمحات کے آنے سے پہلے پہلے اپنی قبر کو جنت کا باغ بنانے کی کوشش میں لگ جاؤں گا ، خوب نیکیاں کروں گا، گناہوں سے کنارہ کشی اختیار کروں گا تاکہ کل مجھے پچھتانا نہ پڑے، لمبی لمبی امیدیں باندھنے کی بجائے فکر آخرت میں مشغول ہو جاؤں گا ۔
'۹'- حشر یعنی قیامت کی ہولناکیوں کا تصور کیجئے : اور وہاں ہونے والی حسرت کا تصور کیجئے،پھر اپنے آپ سے مخاطب ہو کر کہیں کہ ابھی تو مجھ پر یہ وقت نہیں آیا ، ابھی میں زندہ ہوں ، یہ زندگی میرے لئے غنیمت ہے، مجھے لمبی لمبی اُمیدیں لگانے کی بجائے اپنی آخرت سنوارنے کی کوشش میں لگ جانا چاہے۔