خلوت و گوشہ نشینی

[۱]خلوت و گوشہ نشینی کی تعریف: خلوت کے لغوی معنی ”تنہائی“ کے ہیں اور بندے کا اللہ عزوجل کی رضا حاصل کرنے ، تقویٰ و پرہیز گاری کے درجات میں ترقی کرنے اور گناہوں سے بچنے کے لیے اپنے گھر یا کسی مخصوص مقام پر لوگوں کی نظروں سے پوشیدہ ہو کر اس طرح مُعتَدِل انداز میں نفلی عبادت کرنا ” خلوت و گوشہ نشینی“ کہلاتا ہے کہ حقوق اللہ (یعنی فرائض و واجبات و سُنَنِ مُؤکدہ) اور شریعت کی طرف سے اس پر لازم کیے گئے تمام حقوق کی ادائیگی، والدین، گھر والوں ، آل اولا د و دیگر حقوق العباد   ( بندوں کے حقوق ) کی ادائیگی میں کوئی کوتاہی نہ ہو۔

[۲] صوفیائے کرام کے نزدیک لوگوں میں ظاہری طور پر رہتے ہوئے باطنی طور پر ان سے جدار ہنا یعنی خود کو رب تعالیٰ کی طرف متوجہ رکھنا خلوت و گوشہ نشینی ہے۔

[۳] الله ﷻ قرآن مجید میں ارشاد فرماتا ہے :” اور اپنے رب کا نام یاد کرو اور سب سے ٹوٹ کر اسی کے ہور ہو"۔                  اس آیت کی تفسیر میں علماء فرماتے ہیں: ”یعنی عبادت میں انقطاع کی صفت ہو کہ دل اللہ تعالیٰ کے سوا اور کسی طرف مشغول نہ ہو ، سب علاقہ ( تعلقات ) قطع (ختم) ہو جائیں، اسی کی طرف توجہ رہے "۔

[۴] ایک صحابی نے رسول اللہ ﷺ سے عرض کی : نجات کا ذریعہ کیا ہے؟ ارشاد فرمایا:” اپنی زبان کو قابو میں رکھو اور تم کو تمہارا گھر کافی رہے اور اپنی خطاؤں پر روؤ"۔

[۵]علماء فرماتے ہیں: ”یعنی بلا ضرورت گھر سے باہر نہ جاؤ، لوگوں کے پاس بلا وجہ نہ جاؤ، گھر سے نہ گھبراؤ ، اپنے گھر کی خلوت کو غنیمت جانو کہ اس میں صدہا ( سینکڑوں ) آفتوں سے امان ہے"۔

[۶] خلوت و گوشہ نشینی کے احکام 

'۱'- مطلقاً خلوت رضائے الہی پانے ، خود کو نیکیوں میں لگانے ، گناہوں سے بچانے اور جنت میں لے جانے والا کام ہے۔ ہر مسلمان کو چاہیے کہ رضائے الہی کے حصول اور عبادات میں پختگی حاصل کرنے کے لیے کچھ نہ کچھ وقت خلوت اختیار کرے، البتہ مختلف افراد کے مختلف احوال کی وجہ سے اس کے احکام بھی مختلف ہیں ، بعض کے لیے خلوت افضل اور بعض کے لیے جلوت (یعنی لوگوں میں رہنا) افضل ۔

'۲'- ایسا عالم دین جس سے لوگ علم دین حاصل کرتے ہوں اور اگر یہ خلوت اختیار کرلے تو لوگ شرعی مسائل سے محروم ہو کر گمراہی میں جا پڑیں گے تو ایسے عالم کے لیے کلیۃ خلوت اختیار کرنا نا جائز ممنوع  ہے۔البتہ ایسا صاحب علم شخص جس کے پاس اپنی ضرورت کا علم موجود ہے اور اس کےخلوت اختیار کرنے سے لوگوں کا بھی کوئی نقصان نہیں تو ایسے شخص کے لیے خلوت اختیار کرنا جائز ہے۔ 

'۳'-ایسا شخص جو ضروریات دین (فرائض وواجبات وسُنَنِ مُؤکدہ) سے نا واقف ہو، اگر علم حاصل نہ کرے گا تو نفس و شیطان کے بہکاوے میں آکر گمراہی کےگڑھے میں گر جائے گا ایسے شخص کے لیے خلوت اختیار کرنا شرعا نا جائز وحرام ہے بلکہ اس پر لازم ہے کہ فرض علوم کو حاصل کرے۔

'۴'- اگر کسی شخص کو اچھی صحبت میسر نہیں ہے اوروہ خلوت اختیار نہیں کرے گا تو گناہوں میں مبتلا ہو جائے گا تو ایسے شخص پر لازم ہے کہ حقوق الله وحقوق العباد( اللہ تعالی اور بندوں کے حقوق ) کی ادائیگی کرتے ہوئے بقدرضرورت خلوت اختیار کرے اور خود کو گناہوں سے بچا کر عبادت میں مصروف ہو جائے۔ 

'۵'- صوفیائے کرام فرماتے ہیں کہ اب اس زمانہ میں جلوت (لوگوں میں رہنے) سے خلوت افضل ، بری صحبت سے تنہائی افضل برے لوگوں کی صحبت سے خلوت افضل اور خلوت سے اچھے لوگوں کی صحبت افضل ۔ 

'۶'- اگر خلوت اختیار کرنے میں کسی بھی طرح حقوق اللہ یا حقوق العباد کی تلفی ہوتی ہو تو ایسی خلوت اختیار کرنا شرعاً ناجائز وحرام ہے۔ مثلاً کوئی شخص گھر کے ایک کونے میں بیٹھ کر اس طرح ذکر واذکار و عبادت وغیرہ میں مصروف ہو جائے کہ جماعت بھی ترک کر دے، جمعہ وعیدین میں بھی سستی ہو جائے ، کسب حلال ترک کر دے اور اسے یا اس کے گھر والوں کو اس خلوت کی وجہ سے دوسروں کے سامنے ہاتھ پھیلانا پڑے تو ایسی خلوت ناجائز و حرام ہے۔

[۷] خلوت اختیار کرنے کے طریقے

'۱'-خلوت سے متعلق بزرگانِ دین کے اقوال کا مطالعہ کیجئے : چندا قوال یہ ہیں: 

کہا گیا ہے کہ جس نے گوشہ نشینی کو ترجیح دی اس نے حق کو پالیا۔ حضرت سیدنا ذوالنون مصری رحمہ اﷲفرماتے ہیں: ” میں نے خلوت سے بڑھ کر کوئی چیز اخلاص کی ترغیب دینے والی نہیں دیکھی" ۔ حضرت سَید نا مکحول رحمہ اﷲفرماتے ہیں : ” اگر مخلوق سے میل جول میں بھلائی ہے تو گوشہ نشینی میں سلامتی ہے "۔ 

'۲'-  آداب خلوت کی معلومات حاصل کیجئے : خلوت یعنی گوشہ نشینی کے بھی کچھ آداب ہیں، جب تک بندہ ان آداب کو نہ بجالائے اُس وقت تک خلوت اختیار نہ کرے کہ اس سے نقصان کا اندیشہ ہے، چند آداب یہ ہیں:

 (۱) خلوت و گوشہ نشینی اختیار کرنے والے کو چاہیے کہ اولاً درست عقائد کا علم حاصل کرے تا کہ شیطان اُسے وسوسوں کے ذریعے بہکا نہ سکے، پھر ضروری احکام شرعیہ کی تفصیلی معلومات حاصل کرے تا کہ اس کے ذریعے فرائض و واجبات کی اچھے طریقے سے ادائیگی کر سکے اور خلوت کا مقصد حقیقی (یعنی رضائے الہی و عبادت پر استقامت) حاصل ہو۔ 

علم عقائد و مسائل کے بغیر خلوت اختیار کرنے والا ایسا ہے جیسے ٹیڑھی بنیاد پر عمارت کھڑی کرنے والا کہ وہ چاہے جتنی بھی خوبصورت عمارت قائم کرلے وہ کبھی سیدھی نہ ہوگی اور ہمیشہ اس کے گرنے کا خطرہ ہی رہے گا ، اس طرح بغیر علم کے خلوت اختیار کرنے والا بھی کبھی نہ کبھی نفس و شیطان کے شکنجے میں آکر گمراہی کے عمیق گہرے گڑھے میں گر سکتا ہے۔ 

 (۲) خلوت اختیار کرنے والے کے لیے ضروری ہے کہ دل سے ان تمام وسوسوں کو نکال دے جو اللہ عزوجل کے ذکر سے دوری کا سبب بنتے ہیں۔ (۳) تھوڑے رزق پر قناعت کرے ۔ (۴) نیک عورت سے شادی کرے یا نیک شخص کی صحبت اختیار کرے تا کہ دن بھر ذکر و اذکار میں مشغولیت کے بعد کچھ وقت ان کے ذریعے نفس کو آرام پہنچا سکے ۔ (۵) لمبی زندگی کی آس نہ لگائے، صبح اس حال میں کرے کہ شام کی امید نہ ہو اور شام اس حال میں کرے کہ صبح کی امید نہ ہو۔ (۶) تنہائی و گوشہ  نشینی سے جب دل گھبرائے تو موت اور قبر کی تنہائی کو کثرت سے یاد کرے ۔ 

'۳'-بُرے لوگوں کی صحبت کے نقصانات پر غور کیجیے : جب کوئی بری صحبت کے نقصانات پر غور کرے گا تو ان سے دور رہنے اور خلوت اختیار کرنے کا ذہن بنے گا۔

'۴'- اپنی ذات کو نظام الاوقات کا پابند کیجیے : ہر کام کے لیے ایک وقت مقرر کر لیجئے اور پھر اسے اس وقت پر انجام دینے کی بھر پور کوشش کیجئے، جو بندہ اپنے آپ کو نظام الاوقات کا پابند نہیں بناتا ، ہر کام کو اس کے وقت میں کرنے کا عادی نہیں بنتا، پھر اس کے تمام کام ادھورے رہ جاتے ہیں اور اس کے لیے خلوت اختیار کرنا بہت دشوار ہو جاتا ہے۔