مَحَبَّتِ اِلٰہی
[۱]محبت الہی کی تعریف : طبیعت کا کسی لذیذشے کی طرف مائل ہو جانا محبت کہلاتا ہے ۔ اور محبت الہی سے مراد الله عز وجل کے قرب کا شدّت سے طلب گار ہونا اور اس کی انتہائی تعظیم بجا لانا ہے۔
[۲] حضرت سیدنا داتا گنج بخش علی بن عثمان ہجویری رحمتہ ا للہ علیہ محبت الہی کی وضاحت کرتے ہوئے فرماتے ہیں: " بندے کی الله عز وجل سے محبت وہ ایک صفت ہے جو فرماں بردار مؤمن کے دل میں ظاہر ہوتی ہے جس کا معنی تعظیم و تکریم بھی ہے یہاں تک کہ بندہ محبوب کی رضا کی طلب میں لگا رہتا ہے اور اس کے دیدار کی طلب میں بے خبر ہو کر اس کی قربت کی آرزو میں بے چین ہو جاتا ہے اور اسے اُس کے بغیر چین و قرار حاصل ہی نہیں ہوتا۔ اس کی عادت اپنے محبوب کے ذکر کے ساتھ ہو جاتی ہے اور وہ بندہ غیر کے ذکر سے دور اور متَنفّر رہتا ہے ...... "۔
[۳]الله عز و جل ارشاد فرماتا ہے : " اور ایمان والوں کو اللہ کے برابر کسی کی محبت نہیں"۔
[۴] بارگاہ رسالت میں عرض کی گئی : یا رسول الله ! ایمان کیا ہے ؟ ارشاد فرمایا:" ایمان یہ ہے کہ اللہ عز وجل اور اس کا رسول ﷺ تمہارے نزدیک سب سے زیادہ محبوب ہوں"۔
[۵]محبت الہی کا حکم - حجتہ الاسلام حضرت سیدنا امام محمد بن محمد غزالی رحمتہ اللہ علیہ فرماتے ہیں: " اُمت کا اس بات پر اجماع ہے کہ اللہ عز و جل اور اس کے رسول سے محبت کرنا فرض ہے"۔
[۶] محبت الہی پیدا کرنے کے طریقے اور اسباب
'۱'-وجود عطا فرمانے والی ہستی سے محبت : انسان اس حقیقت میں غور و فکر کرے کہ اس کا اپنا کمال و بقاء محض الله عز وجل کی طرف سے ہے۔ وہی ذات اس کو عدم سے وجود میں لانے والی ہے اور اس کو باقی رکھنے والی ہے اور اسے کامل کرنے والی ہے۔ اگر وہ اس حقیقت کوتسلیم کرنے والا ہوگا تو یہ بات اس چیز کا تقاضہ کرے گی کہ ایسی ذات سے ضرور محبت رکھنی چاہیے۔
'۲'-اپنے محسن سے محبت : جس طرح اللہ عزوجل کو پہچاننے کا حق ہے اگر بندہ اس طرح اُسے پہچانے تو ضرور جان جائے گا کہ اس پر احسان کرنے والا صرف اللہ عز و جل ہی ہے اور محسن سے محبت فطری ہوتی ہے لہٰذا اللہ عزوجل سے محبت رکھنی چاہئے ۔
'۳'- جمال والے سے محبت : الله عز و جل جمیل ہے جیسا کہ حدیث پاک میں ہے:" اللہ عز و جل جمیل ہے اور جمال کو پسند کرتا ہے" ۔ اور جمال والے سے محبت فطری ہے، لہذا اللہ عزوجل سے محبت کا یہ بھی ایک سبب ہے۔
'۴'- عیوب سے پاک ذات سے محبت : الله عز وجل تمام عیوب ونقائص سے منزہ ہے اور ایسی ذات سے محبت کرنا محبت کے اسباب میں سے ایک قوی سبب ہے۔
'۵'-محبت الہی کے متعلق بزرگانِ دین کے اقوال و احوال کا مطالعہ کیجئے : اس کے لیے امام ابو القاسم قشیری رحمتہ اللہ علیہ کی کتاب " رسالہ قشیریہ" اور امام محمد بن محمد غزالی رحمتہ اللہ علیہ کی کتاب " احیاء العلوم "کا مطالعہ بہت مفید ہے ۔
'۶'- اللہ عزوجل کی نعتوں میں غور کیجئے : انسان اس حقیقت میں غور و فکر کرے کہ اللہ تعالٰی ہی حقیقی نعمتوں کو عطا کرنے والا ہے اور تمام نعمتیں اُسی کی طرف سے ہیں تو یہ احساس انسان کے دل میں اللہ تعالیٰ کی محبت کا جذبہ پیدا کرتا ہے۔
'۷'-الله عز وجل کے عدل اور فضل و رحمت میں غور کیجئے :انسان غور کرے تو اسے عدل و انصاف میں سب سے بڑھ کر ذات الله عز وجل ہی کی دکھائی دے گی اور وہ یہ بھی دیکھے گا کہ کافروں اور گناہ گاروں پر بھی اس کی رحمت جاری ہے باوجود یہ کہ وہ اس کی نافرمانی اور سرکشی کرتے ہوئے دکھائی دیتے ہیں۔ یہ غور و فکر انسان کو اللہ عزوجل سے محبت پر ابھارے گا۔
'۸'- محبت کی علامتوں میں غور کیجئے : علمائے کرام فرماتے ہیں: "بندے کی الله عز وجل سے محبت کی علامت یہ ہے کہ اللہ عز و جل جس سے محبت کرتا ہے بندہ اسے اپنی محبوب ترین چیز پر ترجیح دیتا ہے اور بکثرت اس کا ذکر کرتا ہے ، اس میں کوتاہی نہیں کرتا اور کسی دوسرے کام میں مشغول ہونے کے بجائے بندے کو تنہائی اور الله عز وجل سے مناجات کرنا زیادہ محبوب ہوتا ہے ۔
'۹'- الله عز و جل کے نیک بندوں کی صحبت اور اُن سے محبت : نیک بندوں کی صحبت اور ان سے محبت بھی الله عزّوجل سے محبت کرنے کا ایک ذریعہ ہے کہ نیک بندے اللہ عز وجل کی محبت کا درس دیتے ہیں اور ان کی صحبت سے دلوں میں اللہ عزوجل کی کی محبت پیدا ہوتی ہے