محاسبہ نفس

[۱]محاسبہ نفس کی تعریف : محاسبہ کا لغوی معنی حساب لینا، حساب کرنا ہے۔

 اور مختلف اعمال کرنے سے پہلے یا کرنے کے بعد ان میں نیکی و بدی اور کمی بیشی کے بارے میں اپنی ذات میں غور و فکر کرنا اور پھر بہتری کے لیے تدابیر اختیا ر کرنا محاسبہ نفس کہلاتا ہے۔

[۲] حجتہ الاسلام امام محمد غزالی رحمتہ اللہ علیہ فرماتے ہیں: "اعمال کی کثرت اور مقدار میں زیادتی اور نقصان کی معرفت کے لیے جو غور کیا جاتا ہے اسے محاسبہ کہتے ہیں، لہذا اگر بندہ اپنے دن بھر کے اعمال کو سامنے رکھے تاکہ( اسے نیک اعمال کی) کمی بیشی (کم یا زیادہ ہونے) کا علم ہو تو یہ بھی محاسبہ ہے۔ 

[۳]الله عز و جل ارشاد فرماتا ہے :" اور اس جان کی قسم جو اپنے اوپر بہت ملامت کرے "۔

 اس آیت مبارکہ کے تحت حضرت سیدنا حسن بصری رحمتہ اللہ علیہ فرماتے ہیں: " مؤمن ہمیشہ نفس کو جھڑکتا رہتا ہے کہ تو نے فلاں بات کیا سوچ کر کہی ؟ فلاں کھانا تو نے کس لئے کھایا ؟ فلاں مشروب تو نے کس لیے نوش کیا ؟ جبکہ کا فر زندگی بسر کرتا رہتا ہے لیکن کبھی اپنے نفس کو نہیں جھڑکتا (یعنی اس کا محاسبہ نہیں کرتا ) 

[۴]رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے ارشاد فرمایا : " سمجھ دار وہ شخص ہے جو اپنا محاسبہ کرے اور آخرت کی بہتری کے لئے نیکیاں کرے اور عاجز وہ ہے جو اپنے نفس کی خواہشات کی پیروی کرے اور اللہ تعالیٰ سے آخرت کے انعام کی امید رکھے"۔ 

[۵]محاسبہ نفس کا حکم - حضرت امام غزالی رحمتہ اللہ علیہ فرماتے ہیں: " الله عز وجل اور آخرت پر ایمان رکھنے والے ہر عقل مند شخص پر لازم ہے کہ وہ نفس کے محاسبہ سے غافل نہ ہو اور نفس کی حرکات و سکنات اور لذات و خیالات پر سختی کرے کیونکہ زندگی کا ہر سانس انمول ہیرا ہے جس سے ہمیشہ باقی رہنے والی نعمت (یعنی جنت) خریدی جا سکتی ہے تو ان سانسوں کو ضائع کرنا یا ہلاکت والے کاموں میں صرف کرنا بہت سنگین اور بڑا نقصان ہے جو سمجھدار شخص کا شیوہ نہیں۔" 

[۶]محاسبہ کرنے اور اس کا ذہن بنانے کے طریقے 

'۱'- محاسبہ نفس کی معرفت حاصل کیجئے : کہ جب تک کسی چیز کی معلومات نہ ہوں اس چیز تک پہنچنا مشکل ہوتا ہے ، جب محاسبہ نفس کی معرفت و معلومات حاصل ہوں گی تو محاسبہ نفس کرنا بہت آسان ہو جائے گا ۔

'۲'-خوف خدا کے واقعات ملاحظہ کیجئے : کہ بندہ جب اللہ عز و جل کے نیک بندوں کے خوفِ خُدا سے بھر پور واقعات کا مطالعہ کرتا ہے تو اس کا یہ ذہن بنتا ہے کہ وہ لوگ نیک پر ہیز گار ہونے کے باوجود الله عز وجل سے اتنا ڈرتے تھے ، میں تو بہت ہی گنہگار ہوں مجھے تو رب تعالٰی سے بہت زیادہ ڈرنا چاہیے۔ یوں رحمت الہی سے اسے محاسبہ نفس نصیب ہو جائے گا۔

'۳'- بزرگانِ دین کے محاسبہ کے واقعات کا مطالعہ کیجئے : سیدنا فاروق اعظم رضی اللہ عنہ رات کے وقت پاؤں پر درہ مار کر نفس سے پوچھتے : " آج تو نے کیا عمل کیا ؟ ۔

'۴'-اپنے آپ کو بے باک اور جری ہونے سے بچائیے : کہ یہ چیز بندے کو تکبر و سرکشی پر مجبور کر دیتی ہے اور بندہ کبھی بھی اپنا محاسبہ نہیں پاتا ۔ عام طور پر دین کا علم نہ ہونا بے باک اور جری ہونے پر ابھارتا ہے لہذا بندے کو چاہیے کہ علمائے اہل سنت و مفتیان عظام سے رابطے میں رہے، ہر معاملے میں ان سے شرعی رہنمائی حاصل کرے ، دینی علوم حاصل کرنے کے لیے دینی کتب و رسائل کا مطالعہ کرے ۔ 

'۵'- حساب قیامت کو یاد کیجئے : کہ آج اگر میں نے دنیا میں اپنا محاسبہ کر کے نیک اعمال کرنے اور برے اعمال سے بچنے کی کوشش نہ کی تو کل بروز قیامت بارگاہ الہی میں کیسے حساب دوں گا؟ امیر المؤمنین حضرت سیدنا عمر فاروق اعظم رضی اللہ عنہ نے ارشاد فرمایا:" اپنے نفس کا محاسبہ کرو اس سے پہلے کہ تمہارا حساب لیا جائے اور وزن کیے جانے سے پہلے اپنے عمل کا خود وزن کرو اور بہت بڑی پیشی کے لیے تیار ہو جاؤ "- حضرت سیدنا حسن بصری رحمتہ اللہ علیہ فرماتے ہیں : " دنیا میں نفس کا محاسبہ کرنے والوں کا حساب آخرت میں آسان ہوگا جبکہ محاسبہ نہ کرنے والوں کا حساب بروز قیامت سخت ہوگا" ۔ 

'۶'- ہر کام کے کرنے سے قبل غور کیجئے :کہ یہ اچھے اور برے عمل کو پرکھنے کے لیے ایک بہتریں محاسبہ ہے ، ایک شخص نے رسول اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کی خدمت میں عرض کی کہ مجھے نصیحت فرمائیے، تو آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے ارشاد فرمایا: "جب کسی کام کا ارادہ کرو تو اس کے انجام میں غور و فکر کر لو ، اگر انجام اچھا ہو تو اسے کر لو اور اگر برا ہو تو نہ کرو"۔ 

'۷'-محاسبہ نفس کے لیے وقت مقرر کر لیجئے : محاسبہ نفس کی عادت بنانے کا ایک بہترین طریقہ یہ بھی ہے کہ اس کے لیے وقت مقرر کر لیا جائے کیونکہ جس کام کے لیے کوئی وقت مقرر کر لیا جائے تو اسے کرنے میں آسانی ہو جاتی ہے۔ 

'۸'- ہر صبح اور رات محاسبہ نفس کیجئے : صبح اس طرح محاسبہ کیجئے : " اے نفس ! یاد رکھ میری تمام جمع پونجی یہی زندگی ہے اگر یہ ضائع ہوگئی تو میرا تمام مال ضائع ہو جائے گا اور مجھے اخروی تجارت اور اس کے نفع سے محروم ہونا پڑے گا ، اے نفس ! تو یہ سمجھ کہ تجھے موت آگئی تھی لیکن تجھے دوبارہ دنیا میں بھیج دیا گیا ہے لہذا اسے غنیمت جان اور آج کسی گناہ میں مشغول نہ ہونا، الله عز وجل اور اس کے رسول صلی اللہ علیہ وسلم کی اطاعت میں گزارنا" ۔

 رات کو سونے سے قبل دن بھر کیے جانے والے تمام اعمال پر غور وفکر کیجئے کہ آج میں نے کون کون سے نیک اعمال کیے؟ پھر

سوچے کہ نفس و شیطان کے بہکاوے میں آکر کون کون سے گناہ کیے ؟ پھر نیک اعمال میں کمی ہو تو نفس سے اس بات کا عہد لیجئے کہ اب ان نیک اعمال میں اضافہ کروں گا۔ اسی اگر گناہ کیے ہیں تو ان سے سچی پکی تو بہ کیجئے ، ہو سکے تو صلاۃ التوبہ بھی  ادا کیجئے، پھر نفس سے اس بات کا عہد لیجئے کہ آئندہ ان گناہوں سے بچنے کی بھر پور کوشش کروں گا۔

'۹'- محاسبہ کرنے کے فوائد ، نہ کرنے کے نقصانات پر نظر رکھیے : جس نے حساب و کتاب سے پہلے خود اپنا محاسبہ کر لیا بروز قیامت اس کا حساب آسان ہوگا اور سوال کے وقت وہ جواب دے سکے گا نیز اس کا انجام و ٹھکانہ بھی اچھا ہوگا اور جو آدمی اپنا محاسبہ نہیں کرتا اسے حشر کے میدان میں زیادہ دیر رکنا پڑ سکتا ہے اور غضب میں مبتلا ہو سکتا ہے۔

'۱۰' مشاہدات سے عبرت حاصل کیجئے : دن بھر نظروں سے گزرنے والے مشاہدات سے اگر عبرت حاصل کی جائے تو محاسبہ کرنے میں کافی آسانی ہو جائے گی ، مثلاً کوئی حادثہ دیکھ کر یہ سوچیں کہ اگر یہ حادثہ میرے ساتھ پیش آجاتا تو میرا کیا بنتا؟ کیا میں نے قبر میں جانے کی تیاری کرلی تھی ؟ کیا میں نے اپنے آپ کو حساب کے لیے تیار کر لیا تھا ؟