شوقِ عبادت

[۱]شوق عبادت کی تعریف :سستی کو ترک کر کے شوق اور چستی کے ساتھ الله عز وجل کی عبادت کرنا شوف عبادت کہلاتا ہے ۔ 

[۲] حدیث قدسی میں ہے کہ الله عز و جل ارشاد فرماتا ہے: "جب میں بندے کے دل میں اپنی عبادت کا شوق دیکھتا ہوں تو اس کے اُمورِ دنیا کو اپنے ذمہ کرم پر لے لیتا ہوں" ۔ 

[۳] ہر مسلمان کو چاہیے کہ وہ عبادت میں سستی کو ترک کر کے شوق اور چستی کے ساتھ الله عز وجل کی عبادت کرے ۔ 

[۴]شوق عبادت پیدا کرنے کے طریقے 

'۱'-نیک اعمال کی معلومات حاصل کیجیے ۔ جب تک بندے کو نیک اعمال کا علم نہیں ہوگا اس وقت تک اسے اُن اعمال کو بجالانے کا شوق و ذوق اور جذبہ حاصل نہیں ہو سکتا ہے۔ 

'۲'- نیکیوں کی جزاؤں اور گناہوں کی سزاؤں پر غور کیجئے ۔ نیکیوں کی جزاؤں اور گناہوں کی سزاؤں پر غور کرنے سے نیکیوں کی طرف رغبت اور گناہوں سے نفرت کا ذہن بنے گا اور شوق عبادت حاصل ہوگا ۔ 

'۳'- شوق عبادت سے متعلق بزرگان دین کے واقعات کا مطالعہ کیجئے ۔ اس سے بھی شوق عبادت کا ذہن بنے گا ۔

'۴'-آسان نیکیوں کی معلومات حاصل کیجئے ۔ آسان نیکیاں بھی شوق عبادت پیدا کرنے میں بہت معاون ہیں ۔ 

'۵'- شوق عبادت کے حصول کی بارگاہ الہی میں دعا کیجے دعا کیجئے ۔ دعا مؤمن کا ہتھیار ہے ۔شوق  عبادت کے حصول کے لیے یوں دعا کیجئے: یا الہی ! میں تیری رضا کے لیے نیک بندہ بننا چاہتا ہوں ، تو اپنی عبادت کا مجھے شوق اور ذوق عطا فرما، اپنی عبادت میں میرا دل لگا دے ، تجھے تیرے ان نیک بندوں کا واسطہ جو ذوق اور شوق کے ساتھ ہر وقت تیری عبادت میں مشغول رہتے ہیں، مجھے بھی شوق عبادت عطا کر دے ۔ آمین۔ 

'۶'- اپنے آپ کو باطنی امراض سے بچائیے ۔ باطنی امراض احکام الہی پر عمل کرنے میں سب سے بڑی رکاوٹ ہیں، جو شخص باطنی امراض کا شکار ہو جاتا ہے اُس کے دل سے عبادت کی لذت اور شوق ختم ہو جاتا ہے ۔ باطنی امراض کی معلومات، اسباب و علاج کی تفصیل جاننا اور اپنے آپ کو ان امراض سے بچانا شوق عبادت کے لیے نہایت ضروری ہے۔

'۷'- اپنے آپ کو بری صحبت سے بچائیے - بندہ جب بُری صحبت اختیار کرتا ہے تو اس کی نحوست سے عبادت کی لذت ختم ہو جاتی ہے کیونکہ اچھوں کی صحبت اچھا اور بروں کی صحبت برا بنا دیتی ہے، لہذا برے لوگوں کی صحبت سے بچیے اور نیک لوگوں کی صحبت اختیارکیجئے ۔