نیکی پر استقامت

[۱] انسان کے لیے کثرت سے عبادات اختیار اور مقدار کے اعتبار سے مَشقّت سے بھر پور اعمال اختیار کرنا حقیقی کمال نہیں ہے ، بلکہ عمل اگر چہ تھوڑا ہی کیوں نہ ہو اس پر استقامت (قائم رہنا) اور ہمیشگی (ہمیشہ کرنا) عظیم ہِمّت کے کام ہیں اور شریعت یہی چاہتی اور پسند کرتی ہے۔ 

[۲]ارشاد باری تعالٰی ہے : " بے شک جن لوگوں نے اقرار کیا کہ اللہ ، ہمارا رب ہے، پھر (طاعت پر)  قائم رہے ، تو ان پر نہ کچھ خوف ہے اور نہ وہ غمگین ہوں گے"۔ 

[۳] سیدہ عائشہ صدیقہ رضی اللہ عنہا سے مروی ہے کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم سے سوال کیا گیا کہ اعمال میں سے کون ساعمل ، الله عز و جل کو محبوب ہے ؟ آپ نے فرمایا : "اعمال میں سے دائمی (ہمیشگی) طور پر اختیار کیا جانے والا عمل ، اگرچہ (مقدار کے اعتبار سے ) تھوڑا ہی کیوں نہ ہو۔ پھر فرمایا : (صرف) وہ اعمال خود پر لازم کرو، جن کو ادا کرنے کی طاقت رکھتے ہو"۔

[۴] چونکہ ہمیں فرض و واجب و سنت مؤکدہ کے ارتکاب (اختیار کرنے) اور حرام و مکروہ تحریمی  و اساءت سے اجتناب (ترک کرنے) کے سلسلے میں شریعت کی جانب سے پابند کیا گیا ہے ، لہذا نفس اس اجتناب و ارتکاب پر استقامت میں جتنی بھی تکلیف و آزمائش محسوس کرے ، جب تک کوئی صحیح عذر نہ ہو ، ہمیں کوئی رعایت نہ ملے گی۔ لیکن نوافل و مستحبات میں سے صرف اتنی ہی مقدار اختیار کریں جسے آسانی و استقامت کے ساتھ خوشی،غمی ، صحت، بیماری، فرصت، مصروفیت، سفر اور حضر غرض ہر وقت ، ہر جگہ اور ہر حالت میں آسانی کے ساتھ ادا کر سکیں ، چاہے ہم خود یا دوسرے دیکھنے والے اسے بہت ہی کم گمان کیوں نہ کریں ۔ 

[۵] نفس و شیطان کی یہ چال ہمیشہ یاد رکھنی چاہیے کہ کبھی یہ دونوں ، کثیر و سخت قسم کے اعمال و افعال اختیار کرنے پر اکساتے ہیں ، بلکہ شروع میں مدد کرتے ہیں اور ہر قسم کی رکاوٹ ڈالنے سے دور رہتے ہیں ، جس کی بنیاد پر نیکی کی راہ پر نیا چلنے والا ، اسے اللہ عزوجل کی جانب سے فضل عظیم سمجھتے ہوئے مشکل اور مقدار کے اعتبار سے کثیر اعمال اختیار کر لیتا ہے۔ 

[۶]پھر کچھ عرصہ ان اعمال کا ارتکاب بے حد آسان محسوس ہوتا ہے اور کسی قسم کی باطنی رکاوٹ کا سامنا کرنا نہیں پڑتا۔ جس سے دل پر ایک خوشگوار اور حیرت انگیز کیفیت طاری ہوتی ہے ، کیونکہ آج تک جن افعال کو اپنے لئے ناممکن تصور کیا اور صرف اللہ تعالٰی کے نیک مقرب بندوں سے ہی ان افعال کا کرنا تصور میں تھا ، اب وہی افعال اس کے لیے بے حد آسان محسوس ہو رہے ہوتے ہیں ۔

[۷] اس سے وہ اپنے اندر کمال محسوس کرتا ہے اور اسے یقین ہونے ہونے لگتا ہے کہ وہ نفس و شیطان پر مکمل طور پر حاوی و غالب آگیا ہے ۔ اس موقع پر اگر کوئی دانا  شخص اسے عمل کی مقدار کم کرنے کا مشورہ دے، تو یہ اسے کم ہمت گمان کرتے ہوئے ، تمام مخلصانہ نصیحتوں کو نظر انداز کر دیتا ہے ۔ 

[۸]لیکن  جب آہستہ آہستہ مکر و فریبِ نفس و شیطان کا جال تنگ ہونا شروع ہوتا ہے، تو و ہی آسان اعمال ، مشکل ترین محسوس ہونے لگتے ہیں اور ان کا بوجھ اُٹھانا تقریباً ناممکن ہو جاتا ہے، لہذا پہلے مستحبات و نوافل و سنن اور اس کے بعد فرائض و واجبات بھی ترک ہونے لگتے ہیں۔ 

[۹]حضرت عبد الله بن عمر رضی اللہ عنہ کہتے ہیں : میں دائمی (ہمیشہ) روزے رکھا کرتا اور ہر رات میں پورا قرآن پڑھا کرتا تھا ۔ جب میرا یہ عمل رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کی خدمت میں عرض کیا گیا ، تو آپ نے مجھے اپنے پاس بلوایا۔ میں حاضر ہوا، تو آپ نے دریافت فرمایا : مجھے خبر ملی ہے کہ تم دائمی روزے رکھتے اور ہر رات پورا قرآن پڑھتے ہو؟ میں نے عرض کی : یا رسول الله ! ایسا ہی ہے، لیکن میں نے اس سے خیر ہی کا ارادہ کیا ہے (یعنی شہرت و ناموری مقصود نہیں)  ۔ آپ نے ارشاد فرمایا: تمہیں ہر مہینے تین روزے رکھ لینا کافی ہے۔ میں نے عرض کی : میں اس سے زیادہ کی طاقت رکھتا ہوں ۔ آپ نے فرمایا : بے شک تیری بیوی مہمان اور تیرے جسم کا بھی تجھ پر حق ہے۔ ( پھر بھی اگر تمہارا اصرار ہے، تو ) تم الله عز وجل کے نبی داؤد علیہ السلام کے روزے رکھو، کیونکہ وہ لوگوں میں سب سے زیادہ عبادت گزار تھے میں نے عرض کی: یا رسول الله ! حضرت داؤد علیہ السلام کے روزے کس طرح تھے ؟ فرمایا :  وہ ایک دن روزہ رکھتے اور ایک دن افطار کرتے تھے۔ اور تم پورے مہینے میں ایک قرآن ختم کرو۔ میں نے عرض کی : میں اس سے زیادہ کی طاقت رکھتا ہوں ۔ فرمایا: تو پھر بیس دنوں میں پورا کر لیا کرو۔ میں نے عرض کی : میں اس سے زیادہ کی طاقت رکھتا ہوں۔ فرمایا : تو دس دنوں میں پورا کر لیا کرو۔ میں نے عرض کی میں اس سے زیادہ کی طاقت رکھتا ہوں ۔ فرمایا : تو پھر ایک ہفتے میں ختم کر لیا کرو۔ اس سے زائد نہ کرو ، کیونکہ بے شک تیری بیوی ، مہمان اور تیرے جسم کا بھی تجھ پر حق ہے ۔(  اور ایک روایت میں ہے کہ تیری اولاد کا بھی تجھ پر حق ہے)۔ میں نے کثرت عمل پر اصرار کیا ۔ آپ نے اصرار سے منع کیا اور فرمایا : تم نہیں جانتے، ہو سکتا ہے کہ تمہاری عمر طویل ہو( اور تم اس پر استقامت نہ رکھ سکو ) - پھر میں اُسی نتیجے پر پہنچ گیا، جو نبی کریم نے میرے لئے فرمایا تھا ۔ چنانچہ جب میں بوڑھا ہو گیا ، تو میں تمنا کرتا تھا کہ کاش ! میں نے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کی عطا کردہ رخصت قبول کرلی ہوتی ۔ 

[۱۰]سیدہ عائشہ رضی اللہ عنہا فرماتی ہیں: رسول الله صلی اللہ علیہ وسلم جب حکم ارشاد  فرماتے ، تو ایسے اعمال کا حکم دیتے کہ اصحاب  (بآسانی ، استقامت کے ساتھ) ان کو ادا کرنے کی طاقت رکھتے ۔

[۱۱] ( ایک مرتبہ بعض اصحاب نے تعلیم کردہ ان اعمال کو بظاہر کم اور اپنی قوت عبادت کو زیادہ گمان کر کے) کہا یارسول اللہ ! ہم آپ کی مثل نہیں ہیں( کہ آپ کے لئے تو تھوڑے اعمال بھی کافی ہیں ، کیونکہ) بے شک الله عز وجل نے آپ کی حتمی مغفرت فرمادی ہے ۔ (یہ سن کر) آپ جلال میں تشریف لے آئے، حتیٰ کہ اس کے آثار آپ کے چہرہ انور پر دیکھے جا سکتے تھے۔ پھر آپ نے ارشاد فرمایا : بے شک سب سے زیادہ صاحب تقوی اور تم سب سے زیادہ اپنے رب کو جاننے والا میں ہی ہوں( لہٰذا اگر اعمال کی کثرت الله عز وجل کو مطلوب ہوتی ، تو میں ضرور اختیار کرتا )۔

[۱۲] حضرت انس بن مالک رضی اللہ عنہ فرماتے ہیں : " تین اصحاب ، ازواج مطہرات کے گھر حاضر ہوئے ۔ وہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کی عبادت کے بارے میں دریافت کر رہے تھے۔( جب ازواج کی جانب سے) انہیں (رحمت کو نین کا عمل مبارک ) بتایا گیا ، تو(  یوں محسوس ہوا) گویا کہ وہ اس عمل کو (باعتبار مقدار) قلیل گمان کر رہے ہیں، چنانچہ انہوں نے کہا : ہمارا رسول اکرم صلی اللہ علیہ وسلم سے کیا مقابلہ ، آپ کے ( تو تعلیم امت کی غرض سے کئے گئے) خلافِ اولی امور تک معاف فرما دئے گئے ہیں ( پس آپ کو زیادہ عمل کی کیا حاجت، لہذا ) ان میں سے ایک نے کہا : میں ہمیشہ رات میں نماز پڑھا کروں گا ۔ دوسرے بولے : میں ہمیشہ روزہ رکھوں گا اور کبھی ناغہ نہ کروں گا ۔ تیسرے شخص نے کہا: میں ہمیشہ عورتوں سے علیحدہ رہوں گا ، کبھی شادی نہ کروں گا ۔ جب رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم (گھر آئے اور ان کے ارادوں کے بارے میں خبر ملی ، تو آپ) ان کے پاس تشریف لے گئے ، پھر فرمایا : تم ہی وہ لوگ ہو ، جنہوں نے ایسا ایسا کہا ہے ؟ سنو ! خدا کی قسم ! میں تمہارے مقابلے میں ، اللہ عز و جل سے زیادہ ڈرنے والا اور اس کی رضا کی خاطر سب سے بڑھ کر تقویٰ اختیار کرنے والا ہوں ، لیکن (اس کے باوجود) میں روزہ رکھتا ہوں اور (کبھی) نہیں بھی رکھتا ، (رات میں) نماز پڑھتا ہوں اور سوتا بھی ہوں اور عورتوں سے نکاح بھی کرتا ہوں ، جو میری سنت سے بے رغبت ہوا ، وہ میرے طریقے پر نہیں"۔ 

[۱۳]رسول کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے ارشاد فرمایا : " بے شک دین آسان ہے۔ اور جو کوئی اس دین میں سختی اختیار کرے گا، یہ دین اس پر غالب آجائے گا (یعنی وہ ایک نہ ایک دن ہمت ہار جائے گا)۔ پس سیدھی راہ چلو، میانہ روی اختیار کرو ، (لوگوں کو) خوش خبری دو اور صبح و شام اور رات کے کچھ حصہ میں (عبادت کے ذریعے )مدد طلب کرو "۔ 

[۱۴]ہو سکتا ہے اس مقام پر پر کسی کے ذہن میں نبی پاک صلی اللہ علیہ وسلم کی اوپر ذکر کی گئی تلقینات اور اولیائے عظام کی سخت عبادات و ریاضات کے واقعات کے درمیان ٹکر او ہوتا ہوا محسوس ہو اور اس بارے میں ذہن میں سوال پیدا ہو۔ اگر ایسا ہے ، تو اس سلسلے میں یہ نصیحت یاد رکھنی چاہیے کہ اولیائے عظام کے ذریعہ اختیارکئے گئے مجاہدات ، یہ اُن کا اور اُن کے رب عز و جل کا معاملہ ہے اور یہ اُن کی کرامت تھی ، کیونکہ ان کے مثل اعمال کو ادا کرنا، عموماً طاقتِ انسانی سے باہر ہے اور کسی ولی کی کرامت، عمل اختیار کرنے کے سلسلے میں دلیل شرعی نہیں ہے ۔ ہمارے لیے ہمارے نبی پاک صلی اللہ علیہ وسلم کی تعلیم معیار ہے وہ یقینا ہمارے حق میں راہ نجات ہے۔ 

[۱۵]ہاں کبھی کبھی اور مخصوص اوقات و ایام میں زیادتیِ عمل اختیار کر لی جائے، تو حرج نہیں کہ یہ سنت سے ثابت ہے ۔ جیسا کہ سیدہ عائشہ رضی اللہ عنہا سے مروی ہے ؟ جب رمضان کے آخری دس روز آتے ، تو رسول الله صلی اللہ علیہ وسلم اس کی راتوں میں بیدار رہتے ،اپنے اہل خانہ کو جگاتے ، ( عبادت میں) خوب کوشش فرماتے اور (خوب عمل کے لئے) تیار ہو جاتے تھے۔ 

[۱۶]یہ اصول پیش نظر رہے کہ جب رحمت کونین صلی اللہ علیہ وسلم کے قول و فعل میں۔ بظاہر تضاد ( ٹکراو) محسوس ہو (جیسا کہ اوپر ذکر کی گئی آپ کی تلقیناب اور خود آپ کا نماز کے لئے لمبا قیام کہ آپ کی پنڈلیوں پر ورم کا آجانا) تو اُمّت کے لئےحجّت و دلیل قول ہے ، فعل نہیں ، کیونکہ ہو سکتا ہے کہ وہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کے ساتھ خاص ہو۔ جیسےایک وقت میں چار سے زائد ازواج کو نکاح میں رکھنا، آپ کا فعل ہے جب کہ قولاً چار سے زائد ازواج کو ایک وقت میں نکاح میں رکھنا منع فرمایا ، تو فوقیت قول کو ہوگی ۔

[۱۷]فرمان باری تعالی ہے : " یعنی (ذات و صفات کے لحاظ سے) اس (اللہ تعالٰی) کی مثل کوئی شے نہیں" ۔ اور جب وہ ہماری طرح نہیں تو یقیناً ان اوصاف سے بھی پاک وصاف ہے جو انسان کے ساتھ خاص ہیں۔ اگر کوئی انسان یہ گمان رکھے کہ اللہ تعالٰی کثرت سے خوش ہو کر انعام عطا کرتا ہے اور قلت سے ناخوش ہو کر اپنی بارگاہ سے دور کرتا ہے ، تو گویا کہ اس نےاپنے رب عزو جل کو عام انسانوں پر قیاس کر لیا، جو یقیناً اس کی زبر دست غلطی ہے ،بلکہ صحیح یہی ہے کہ قلت و کثرت میں سے کوئی بھی چیز اللہ عزوجل پر اثر انداز نہیں ہو سکتی کیونکہ وه اثر قبول کرنے سے پاک وصاف ہے۔ پس یاد رہے کہ جہاں احادیث میں الله عز وجل کے لئے خوش یا ناراض ہونے کا ذکر ہے، اس سے مراد اللہ تعالٰی کا انعام یا سزا دینے کا ازلی ارادہ ہے۔