ذكر الله عز وجل
[۱] ذکر کے معنی یاد کرنا ، یاد رکھنا ، چرچا کرنا ۔
[۲] الله عز و جل کو یاد کرنا ، اسے یاد رکھنا ، اس کا چرچا کرنا اور اس کا نام لینا ذکر اللہ کہلاتا ہے۔
[۳]ذکر کی برکت سے دل میں وہ نورانیت پیدا ہوتی ہے ، جو شیطان کی گرفت کو کمزور کرتے ہوئے تو بہ پر استقامت میں مدد گار ثابت ہوتی ہے۔ حضرت عبد الله ابن عباس رضی اللہ عنہ ارشاد فرماتے ہیں: "شیطان ابن آدم کے قلب پر گھات لگا کر بیٹھا ہوتا ہے جب وہ (اللہ عزوجل کے ذکر کو )بھول جائے اور اس سے غفلت اختیار کرے ، تو وسوسے ڈالنے لگتا ہے اور جب وہ اللہ عزوجل کا ذکر کرے ، تو یہ پیچھے ہٹ جاتا ہے"۔
[۴]رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے ارشاد فرمایا : " جو کسی لیٹنے کی جگہ لیٹا، (پھر) وہاں الله عز وجل کا ذکر نہ کیا ، تو وہ بروز قیامت، ضرور اس کے لئے باعث حسرت ہوگا اور جو کسی بیٹھنے کی جگہ بیٹھا، پھر وہاں اللہ عزوجل کا ذکر نہ کیا، تو وہ بروز قیامت، ضرور اس کے لئے پچھتاوے کا سبب ہوگا"۔ حدیث کا خلاصہ یہ ہے کہ انسان کو چاہیے کہ خلوت و جلوت اور ہر حالت میں اللہ عزوجل کا ذکر کرتا رہے ، ورنہ پچھتانا پڑے گا۔
[۵] ذکر الله کے فضائل
'۱'- رسول الله صلی اللہ علیہ وسلم نے اپنے اصحاب سے ارشادفرمایا: "کیا میں تمہیں اس عمل کی خبر نہ دوں ، جو تمہارے اعمال میں سے سب سے بہتر، تمہارے رب کے نزدیک تمہارے اعمال میں سب سے زیادہ پاکیزہ ، تمہارےاعمال میں سب سے بلند
درجے والا ، جو تمہارے حق میں سونا اور چاندی صدقہ کرنے سے بہتر اور تمہارے لئے اس سے افضل ہے کہ تم دشمنوں کا سامنا کرو، پھر تم ان کی اور وہ تمہاری گردنیں کاٹیں ؟ ... صحابہ نے عرض کی : جی ہاں ، کیوں نہیں ۔ فرمایا :الله عز وجل کا ذکر "۔
[۶] ذکر اللہ سے متعلق چار بے حد مفید نصیحتیں
'۱'-جتنی جلد ممکن ہو کھانے ، پینے، سونے ، جاگنے ، آئینہ دیکھنے اور مجلس سے اُٹھنے وغیرہا کی ، سنت کے مطابق دعائیں یاد کر لینا چاہیے اور ان موقعوں پر پڑھنے کی عادت ڈال لینا چاہیے ، اس سے اوپر ذکر کی گئی قیامت میں ہونے والی حسرت سے بچا جا سکتا ہے ۔
'۲'-جو بھی دعا یاد کی جائے یا جو بھی ذکر اختیار کیا جائے ، سب سے پہلے اس کے اعراب یعنی زیر، زیر، پیش، جزم وغیرہ کسی قاری صاحب سے سمجھنا چاہیے پھر یاد کرنا یا اختیار کرنا چاہیے، کیونکہ بعض اوقات ایسا نہ کرنے پر آدمی ذکر کی برکات سے محروم ہو جاتا ہے اور کبھی قابل گرفت بھی ہو سکتا ہے کیونکہ کبھی ان وجوہات کی بناء پر معنی و مفہوم بہت زیادہ بدل جاتا ہے۔ اس کے علاوہ ان کا ترجمہ ضرور معلوم ہو تاکہ ہمیں معلوم ہو کہ ہم کیا مانگ رہے ہیں یا اللہ عزوجل اور اس کے رسول صلی الله علیہ وسلم کی کس طرح مدح و ثنا کر رہے ہیں۔
'۳'-کوئی بھی دُعا پڑھتے ہوئے صرف رسمی طور پر الفاظ کی ادائیگی نہ ہو بلکہ ترجمہ پیش نظر رکھتے ہوئے اللہ عزوجل سے پورے خلوص سے مخاطب ہونا چاہیے۔ یعنی دُعا میں جو طلب کیا جا رہا ہے، اسے دل سے طلب کرنا چاہیے، جیسے آئینہ دیکھنے کی دعا ہے ۔ ترجمہ : اے اللہ عز و جل ! تو نے میری ظاہری شکل و صورت کو بہتر بنایا ، پس میرے اخلاق بھی اچھے کر دے"۔ تو حُسن اخلاق کی طلب پوری توجہ سے ہونی چاہیے ، یوں نہ ہو کہ الفاظ تو زبان سے ادا ہو رہے ہیں ، لیکن خود بداخلاقی کا مجموعہ بنا ہوا ہے اور دعا پڑھنے کے باوجود کسی قسم کی ندامت و شرمندگی نہیں۔
'۴'- شروع میں سب سے افضل اور بہترذکر انفرادی ، سری اور مخفی ہے ۔
'انفرادی '(یعنی تنہا) سری : یعنی اس طرح کہ تیری آواز فقط تیرے اپنے کان ہی سُن سکیں یا صرف دل ہی دل میں ذکر
مخفی : یعنی پوشیدہ طور پر جیسے کسی بند کمرے میں کیا جائے۔
اس میں صرف اتنا لازم و ضروری ہے کہ اپنی توجہ کو مسلسل ذکر الله کی جانب رکھنے کی کوشش کوشش کیجیے، یہ نہ ہوکہ ہونٹ
ہل رہے ہوں یا دل ہی دل میں ذکر جاری ہو اور آپ ادھر اُدھر کے نظارے کر رہے ہوں یا دنیاوی خیالات تسلسل
سے آرہے ہوں اور آپ ان میں پورے طور پر کھو جائیں۔
[۷] ذکر الله میں توجہ جتنی زیادہ ہوگی ، اس کی برکات اور آپ کے درجات میں ترقی اتنی ہی تیزی سے ہوگی اور اس کے برعکس سالوں کا ذکر بھی آپ کے اندر کوئی مثبت تبدیلی (Positive change) پیدا نہ کر سکے گا ۔ اس بات کا عملی ثبوت دیکھنا ہو تو اُن لوگوں کو دیکھ لیں جو باقاعدہ ذکر کی محافل میں شرکت کے باوجود حرام کمانے اور کھانے میں دلیر اور ظاہری اعتبار سے بے عملی کا عبرت ناک نمونہ بنے ہوئے ہیں ۔
[۸]اگر مخلوق کی نظروں کے سامنے ذکر کرنے کی جانب دل مائل ہے تو اس میں ریا کاری کا خطرہ ہے ، اس میں ذکر کرنے والا ابھی ابتدائی دور میں ہے تو اپنے آپ کو ابھی اس ذکر سے بچائے ۔
[۹]بہت سی کتابوں میں ذکر کے بہت سے طریقے اور اُن کے بہترین نتائج لکھے ہوتے ہیں ، جنہیں پڑھ کر بہت سے لوگ ان میں لگ جاتے ہیں ، مگر کچھ ہی عرصہ میں مایوس ہو کر چھوڑنے پر مجبور بھی ہو جاتے ہیں۔ وجہ اس کی یہ ہے کہ ذکر کے ان نتائج کی کڑی شرطیں ان کتابوں میں درج نہیں ہوتی ہیں۔
[۱۰]ضروری تنبیہ - فرض و واجب و سُنتِ مؤکدہ کے ارتکاب اور حرام و مکروہ تحریمی و اساءت کے ترک میں ہمیں کوئی اختیار نہیں ، لہٰذا انہیں شریعت کے تقاضے کی وجہ سے ہم چاہیں یا نہ چاہیں قبول کرنا ہی ہوگا ۔ لیکن اس سے زائد میں اتنا ہی عمل اختیار کریں جسے خلوت و جلوت ، صحت و بیماری ، فراغت و مصروفیت اور خوشی و غم میں آسانی سے نباہ سکیں اور ان پر استقامت کبھی ختم نہ ہونے پائے ۔ چنانچہ جو بھی ذکر اختیار کیا جائے اس میں اس نصیحت کا خیال ضرور رکھا جائے ، یہ آپ کی روحانی ترقی اور اس میں ہمیشگی کے لئے انتہائی ضروری ہے ۔ یہ بھی خیال رہے کہ اختیار کئے گئے ذکر اذکار میں مشغولیت، علم دین کے حاصل کرنے کی راہ میں ہرگز رکاوٹ نہ بنے۔ اگر ایسا ہو تو سمجھ لینا چاہیے کہ وہ ذکر اذکار اللہ تعالٰی سے قریب نہیں بلکہ دور کرے گا۔
[۱۱] معلوم ہوا کہ سب سے پہلے اپنا وقت علم دین کے حاصل کرنے میں ، فرائض و واجبات و سنت مؤکدہ کے ارتکاب میں ، حرام و مکروہ تحریمی و اساءت سے بچنے میں ،ان پر استقامت اور حقوق العباد ادا کرنے کی مخلصانہ کوششوں میں صرف کیا جائے پھر اس کے بعد بھی کچھ وقت بچے تو ضرور ذکر اذکار و نوافل کی جانب متوجہ ہوں ، وہ بھی اتنی ہی مقدار میں جو اوپر ذکر کئے گئے ضروری کاموں کی راہ میں رکاوٹ نہ بنیں ۔