صحبت اور دوستی کو اچھا رکھنا

[۱]حقیقتا دوست وہ ہوتا ہے ، جس کے ساتھ انسان بہت محبت رکھے ، اکثر اس کے پاس اٹھتا بیٹھتا ہو۔ اسے اپنے رازوں میں بلا جھجک شریک کرتا ہو۔ اپنے مال پر اس کا بھی حق سمجھتا ہو۔ اس کے سامنے اپنی زندگی کے کمزور پہلو ظاہر کرنے میں کوئی شرم و عار و ڈر و خوف محسوس نہ کرتا ہو اور اکثر اس کی پسند و نا پسند کو ، اپنی پسندو نا پسند پر فوقیت دیتا ہو۔ 

[۲]بُری دوستی الله عز و جل سے بہت دور اور گناہ و فضول کاموں سے بے حد نزدیک کر دیتی ہے ، تو بہ پر استقامت کے لیے بُری دوستی کو چھوڑنا نہایت ضروری ہے ۔ کبھی تو بُری دوستی کی وجہ سے انسان اپنے دین و مذہب سے بھی ہاتھ دھو بیٹھتا ہے اور یہ عام طور 

پر اُس وقت ہوتا ہے کہ جب کم علمی و جہالت اور بالکل بے پرواہی کے ساتھ کسی کافر و بد مذہب کی صحبت اختیار کی جائے۔

 چنانچہ مشاہدہ یہی ہے کہ آہستہ آہستہ اس کی نحوست، نور ایمان کو زائل کر دیتی ہے ۔ 

[۳]سید عالم صلی اللہ علیہ وسلم نے دوستی قائم کرنے سے قبل، خوب سوچنے سمجھنے کی تلقین فرمائی ہے ۔ جیسا کہ آپ کا فرمان ہے : 

" ہر مرد اپنے دوست کے دین پر ہوتا ہے ، پس تم میں سے ہر ایک کو غور کرنا چاہیے کہ وہ کس کو دوست بنا رہا ہے"۔ 

[۴]قرآنِ عظیم میں بھی کئی مقامات پر کفار سے دوستی اور ان کی صحبت اختیار کرنے کوسختی سے منع کیا گیا ہے۔ چنانچہ اللہ تعالیٰ کا فرمان ہے : " اے ایمان والو! اپنے دین کو نشانہ مذاق اور سامانِ کھیل بنانے والے (یعنی) سابقہ اہل کتاب اور کفار میں سے کسی کو اپنا دوست نہ بناؤ۔ اور اگر صاحب ایمان ہو، تو (ان سے دوستی کرنے کے سلسلے میں) اللہ سے ڈرتے رہو"۔ 

[۵]رسول الله صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا : " تم صرف مؤمن کو اپنا دوست بناؤ اور تمہارا کھانا صرف پر ہیز گار ہی کھائے (تاکہ حاصل شدہ توانائی ، رضائے الہی میں صرف ہو)۔ 

[۶]آپ بھی اگر سابقہ زندگی میں بُرے دوست بنا چکے ہیں اور کسی کی بری صحبت کو مسلسل اختیار کئے ہوئے ہیں تو فوراً ہمت کریں اور ان سے دور ہو جائیں ، خاص طور پر سوشل میڈیا پر قائم کی گئی دوستیاں پوری ہمت کے ساتھ ختم کر دیں، ورنہ یہ آپ کو کہیں کا نہ چھوڑیں گی۔ 

[۷] مؤمن میں سے صرف صاحب علم و تقوی کو ہی دوست بنائیں ، کیونکہ ہمارے نبی صلی اللہ علیہ وسلم کو بھی یہی محبوب تھا۔ جیسا کہ سیدہ عائشہ رضی اللہ عنہا فرماتی ہیں :" رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم صرف صاحب تقوی کو ہی محبوب رکھا کرتے تھے"۔ اور تقویٰ بغیر علم کے حاصل نہیں ہوتا ہے۔ 

[۸]حضرت عیسیٰ علیہ السلام سے لوگوں نے پوچھا ، یا روح اللہ !ہم کس کی صحبت اختیار کریں؟ فرمایا : " اس کی صحبت اختیار کرو، جس کی زیارت سے تمہیں خدا عز و جل یاد آجائے، جس کی گفتگو، تمہارے عمل میں برکت و زیادتی کا سبب بنے اور جس کا عمل ، تمہیں آخرت کی جانب راغب کر دے" ۔ 

[۹] ہمارے نبی صلی اللہ علیہ وسلم نے اچھی وبُری دونوں قسم کی صحبتوں کے بارے میں بڑے نفیس انداز و بہترین مثال سے سمجھایا ہے چنانچہ آپ کا فرمان ہے : اچھے اور بُرے ہم مجلس کی مثال ایسی ہے ، جیسے مُشک بیچنے والا اور لوہار کی بھٹی ۔ مشک والے سے تجھے دو فائدے کبھی نہ فوت ہوں گے ۔ تو اسے خریدے گایا اس کی خوشبو پائے گا اور لوہار کی بھٹی تیرے بدن یا کپڑوں کو جلائے گی یا تو اس سے ناگوار بو پائے گا " 

[۱۰] مراد رسول صلی اللہ علیہ وسلم ، اچھی اور بُری صحبت کا فرق بیان فرمانا ہے اور اس کا خلاصہ یہ ہے کہ اچھی صحبت سے انسان اپنے عمل میں مثبت تبدیلی (Positive change) کا انعام پاتا ہے اور یہ نہ ہو تو کم از کم جتنی دیر وہاں رہے گا ، گناه و خطا سے محفوظ اور پاکیزہ خیالات کا انعام تو پاتا ہی رہے گا ، جب کہ بری صحبت سے عمل و کردار و سوچ و فکر میں منفی (Negative) و غلیظ تبدیلی پیدا ہوتی ہے اور یہ نہ ہو ، تو کم از کم جتنی دیر وہاں رہے گا، کوئی خطا یا گناہ کرے گا یا گندے اور برے خیالات میں گھرا رہے گا۔ 

[۱۱]آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے ارشاد فرمایا : " (بروز قیامت) ہر شخص اس کے ساتھ ہوگا ، جس سے اس نے محبت کی ہوگی" ۔ اس حدیث میں جہاں فضیلت کا پہلو ہے وہیں ایک ڈر کی بھی خبر ہے کہ اس کا دوسرا پہلو یہ ہے کہ جس نے دنیا میں برے اور بدکردار لوگوں سے محبت رکھی ، وہ بروز قیامت انہیں کے ساتھ ہوگا ۔

[۱۲] بُروں کی صحبت اور دوستی سے ہونے والے نقصانات 

'۱'- جہالت میں مبتلا رہنا : کیونکہ ایسی صحبتیں ، علم دین کے قریب جانے ہی نہیں دیتیں ، بلکہ اکثر ذہن میں اس کا خیال تک نہیں آتا ۔ جس کا لازم نتیجہ جہالت کے باعث ایمان کی بربادی یا صغیرہ و کبیرہ گناہوں کی کثرت ہوگی ۔ 

'۲'-ایمان کا چھن جانا : کیونکہ جہالت اورصحبتِ جہلاء کے سبب ، کلمات کفر کا صدور عام دیکھا گیا ہے۔ نیز غیر مسلمین کے ساتھ دوستی وصحبت کی وجہ سے اپنے مذہب کی پابندیاں ناپسندیدہ اور ان کے باطل مذہب کی رسومات و آزادیاں اچھی محسوس ہونے لگتی ہیں چنانچہ ایسے واقعات بھی سامنے آئے ہیں کہ ان کے ساتھ رہنے کے باعث ایک اچھا خاصا مسلمان کچھ ہی عرصے میں مرتد و بے دین ہو گیا۔ 

'۳'-انتہائی گندی اور اخلاق سے گری حرکتوں میں ملوث ہو جانا : جن میں بدنگاہی، شراب نوشی ، زنا، اپنے محارم کے ساتھ نازیبا حرکات ، چوری ، امانت میں خیانت شامل ہیں ۔

'۴'-نیک اعمال سے دوری : کیونکہ ایسی صحبتیں کبھی تو پاک ہی نہیں رہنے دیتیں ، جس کے باعث نماز میں کوتاہی کی عادت ہو جاتی ہے اور اگر بظاہر پاک بھی ہوں تو نفس و شیطان  سےمقابلے کی ہمت نہیں رہتی ، یوں اللہ عزوجل کی فرض و واجب کردہ عبادات کو انتہائی بے دردی و بے مروتی سے ضائع و ترک کر دیا جاتا ہے ۔ 

'۵'- بوقت موت ، کلمہ یاد نہ آنے کے اسباب پیدا ہو جانا : اس کی ایک صورت یہ بھی ہو سکتی ہے کہ بوقتِ موت ، ہم صحبت افراد کی صورتیں سامنے لائی جاتی ہیں۔ اب اگر وہ ہم صحبت کافر ، فاسق ، فاجر، بدکار ہیں تو ان کی صورتوں کی بے برکتی کے باعث ہو سکتا ہے کہ اس وقت کلمہ نہ یاد آئے ۔ 

'۶'- ان سب کے باعث بری موت اور عذاب قبر کا سامنا کرنا 

'۷'- حشر میں حسرت و پچھتاوا

'۸'- ناراضگی رب ِعزوجل کی صورت میں جہنم میں داخلہ

[۱۳]اگر ایسے مقامات جہاں جانا اور ذکر کردہ لوگوں کی صحبت سے بچنا کسی کی قدرت و اختیار سے باہر ہو، جیسے اسکول ، کالج، یونیورسٹی ، کام کاج کا مقام یا باہر کے ممالک تو وہاں زبان پر ذکر الہی جاری رکھنے یا دل ہی دل میں" اللہ مجھے دیکھ رہا ہے " کا ورد جاری رکھنے سے برے اثرات سے محفوظ رہا جا سکتا ہے۔ 

[۱۴]اچھی صحبت اور دوستی سے متعلق تین اہم نصیحتیں 

'۱'-اگر کسی کو نیک دوست یا اچھی صحبت میسر نہ آسکے تو اُسے چاہیے کہ پوری محنت و ہمت سے خود صاحب تقوٰی بنے 

اور دوسروں کو نیک صحبت فراہم کرے اور ایسا نہ کر سکے تو جہاں تک ممکن ہو تنہا رہنے کا عادی بنے۔ 

'۲'- نیک  دوست و اچھی صحبت اختیار کرنے پر وقتی آزمائشیں تیری طرف ضرور متوجہ ہوں گی ، پس ان سے کبھی نہ گھبرانا ، اللہ عزوجل کی تائید غیبی ہمیشہ تیرے ساتھ ہوگی ۔

'۳'-اللہ عزوجل کی رضا کی خاطر بنائے گئے دوستوں میں سے اس دوست کو سب سے  زیادہ محبوب رکھ ، جو حکمت و دانائی کے ساتھ اور علیحدگی میں تجھے تیرے عیب بتائے۔ اور تجھے پاک وصاف کرنے کی کوشش کرے ، نہ کہ اسے جو مروت میں تیرے عیب چھپا کر غیر ارادی طور پر تجھے قربِ بارگاہ الہی سے دور اور شیطان و جہنم سے نزدیک کرتا رہے ۔