خُشُوع

[۱]خُشُوع کی تعریف: بارگاہ الہی میں حاضری کے وقت دل کا لگ جانا یا بارگاہ الہی میں دل کو جھکا دینا "خُشُوع " کہلاتا ہے ۔ 

[۲]الله عز و جل قرآن مجید میں ارشاد فرماتا ہے : " کیا ایمان والوں کو ابھی وہ وقت نہ آیا کہ ان کے دل جھک جائیں اللہ کی یاد اور اس حق کے لئے جو اُترا"۔ 

[۳]ایک اور مقام پر ارشاد فرماتا ہے : " بیشک مراد کو پہنچے ایمان والے ، جو اپنی نماز میں خشوع کرنے والے ہیں " 

[۴] مُفسّرین نے فرمایا کہ نماز میں خشوع یہ ہے کہ اس میں دل لگا ہوا ہو اور دنیا سے توجہ ہٹی ہوئی ہو اور نظر جائے نماز سے باہر نہ جائے اور آنکھ کے کنارے سے کسی طرف نہ دیکھے اور کوئی بے کار کام نہ کرے اور کوئی کپڑا شانوں پر نہ لٹکائے اس طرح کہ اس کے دونوں کنارے لٹکتے ہوں اور آپس میں ملے نہ ہوں اور انگلیاں نہ چٹخائے اور اس قسم کے حرکات سے باز رہے ۔

[۵] حضور نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے ارشاد فرمایا : "اے اللہ عز و جل ! میں اس دل سے پناہ مانگتا ہوں کہ جس میں خشوع نہ ہو۔ 

[۶]خشوع کا حکم 

خشوع یعنی دل کا حاضر ہونا الله عز وجل کی بہت بڑی نعمت ہے خشوع رضائے الہی پانے ، نجات دلانے اور جنت میں لے جانے والا عمل ہے ، جسے اپنے اعمال میں خشوع حاصل ہو جائے گویا اسے اخلاص نصیب ہو گیا ۔ 

[۷]حجتہ الاسلام حضرت سيدنا امام محمد غزالی رحمتہ اللہ علیہ فرماتے ہیں : " خشوع یعنی دل کی حاضری نماز کی روح ہے اور کم از کم مقدار جس سے رُوح باقی رہے وہ تکبیر تحریمہ کے وقت  دل کا حاضر ہونا ہے اور اس قدر سے بھی کم ہو تو ہلاکت ہے ، اس سے زیادہ جس قدر حضور قلب ہوگا اسی قدر رُوح نماز کے اجزاء میں پھیلے گی اور کتنے ہی زندہ لوگ ہیں جو حرکت نہیں کر سکتے ، وہ مردوں کے قریب ہیں ، پس تکبیر تحریمہ کے علاوہ غافل اس زندہ کی مثل ہے جس میں حرکت نہیں"۔  

[۸]واضح رہے کہ خشوع کو عموماً نماز کے ساتھ ذکر کیا جاتا ہے لیکن یہ عام ہے ۔ حضرت امام محمد غزالی رحمتہ اللہ علیہ فرماتے ہیں : " جان لیجئے کہ خشوع ایمان کا پھل اور اللہ عز و جل کے جلال سے حاصل ہونے والے یقین کا نتیجہ ہے۔ جسے یہ حاصل ہو جائے وہ نماز سے باہر بلکہ تنہائی میں بھی خشوع اپناتا ہے" ۔ 

[۹] اعمال میں خشوع پیدا کرنے کے طریقے ۔ 

'۱'- خشوع کے فضائل کا مطالعہ کیجئے   - چند فضائل یہ ہیں :

 خشوع سے نماز ادا کرنے والے کے پچھلے گناہ بخش دیے جاتے ہیں۔ خشوع سے نماز ادا کرنے والے کی نماز مقبول ہوتی ہے ۔ خشوع کے ساتھ دو رکعت ادا کرنا بغیر خشوع کے پوری رات قیام کرنے سے افضل ہے ۔ 

'۲'- اعضا میں خشوع پیدا کیجئے: کہ یہ دل کے خشوع پر دلالت کرتا ہے ، سرکار مدینہ صلی اللہ علیہ وسلم نے ایک شخص کو نماز میں اپنی داڑھی سےکھیلتے دیکھا تو ارشاد فرمایا: "اگر اس کے دل میں خشوع ہوتا تو اس کے اعضاء میں بھی خشوع ہوتا "۔ 

'۳'-خشوع سے متعلق بُزرگانِ دین کے واقعات کا مطالعہ کیجئے۔ ایسے واقعات پڑھنے سے اعمال میں خشوع پیدا کرنے کا ذہن بنے گا۔ 

'۴'- دل میں نرمی پیدا کیجئے : موت سے غفلت اور زیادہ کھانے سے پیٹ بھرنے کے سبب دل میں سختی پیدا ہو جاتی ہے اور یہی سختی اعمال میں خشوع کو روکتی ہے لہذا خشوع پیدا کرنے کے لیے ضروری ہے کہ بندہ اپنے دل میں نرمی پیدا کرے ۔ اس کے لیے ضروری ہے کہ بندہ دل کی سختی کے اسباب و علاج کی معلومات حاصل کرے۔

'۵'-نماز میں جنت و جہنم کا تصور قائم کیجئے : جنت و جہنم کا تصور  بھی خشوع پیدا کرنے کا ایک بہترین طریقہ ہے ، چنانچہ منقول ہے کہ حضرت سیدنا حاتم اصم رحمتہ اللہ علیہ سے کسی نے ان کی نماز کی کیفیت کے بارے میں پوچھا تو فرمایا : جب نماز کا وقت آتا ہے تو میں کامل وضو کرتا ہوں ، پھر جس جگہ نماز پڑھنے کا ارادہ ہوتا ہے وہاں آکر بیٹھ جاتا ہوں یہاں تک کہ میرے تمام اعضاء جمع ہو جاتے ہیں، پھر یہ تصور باندھ کر نماز کے لیے کھڑا ہوتا ہوں کہ کعبہ میرے سامنے ، پل صراط پاؤں تلے ، جنت میرے دائیں جانب ، جہنم بائیں طرف اور ملک الموت علیہ السلام میرے پیچھے ہیں اور گمان کرتا ہوں کہ یہ میری آخری نماز ہے۔ پھر امید و خوف کی درمیانی حالت میں ہوتا ہوں ، پھر حقیقتاً تکبیر تحریمہ کہتا، ٹھہر ٹھہر کر قراءت کرتا عاجزی کے ساتھ رکوع اور خشوع کے ساتھ سجدہ کرتا ہوں ، پھر اخلاص سے کام لیتا ہوں، اس کے بعد میں نہیں جانتا کہ میری نماز قبول ہوتی ہے یا نہیں" 

'۶'-اپنی آنکھوں کوہر غیر شرعی منظر دیکھنے سے بچائیے : کہ بندہ جو جو مناظر دیکھتا ہے وہ اس کے دل میں نقش ہو جاتے ہیں ، دل غفلت کا شکار ہو جاتا ہے ، بنده جب بھی کوئی نیک عمل کرنے لگتا ہے تو وہ مناظر سامنے آجاتے ہیں اور عمل میں خشوع پیدا نہیں ہو پاتا  لہذا اعمال میں خشوع پیدا کرنے کے لیے ضروری ہے کہ اپنی آنکھوں کی حفاظت کیجئے ۔ 

'۷'- قلبی خیالات کو دور کرنے کی کوشش کیجئے

بسا اوقات دل میں طرح طرح کے خیالات آتے ہیں جو خشوع پیدا نہیں ہونے دیتے، لہذا بندے کو چاہیے کہ اُن قلبی خیالات کے اسباب پر غور کرے اور انہیں دور کرنے کی کوشش کرے کہ جب اسباب دور ہو جائیں گے تو قلبی خیالات بھی دور ہو جائیں گے  *نماز میں آنکھیں بند کرنا مکروہ ہے مگر جب کھلی رہنے میں خشوع نہ ہوتا ہو تو بند کرنے میں حرج نہیں بلکہ آنکھیں بند کرنا بہتر ہے یا تاریک کمرے میں نماز پڑھے یا اپنے سامنے کوئی ایسی چیز نہ رہنے دے جو اس کے حواس کو مشغول کردے یا دیوار کے قریب نماز پڑھے تاکہ نظر  زیادہ دور تک نہ جائے 

*** راستوں میں نماز پڑھنے سے بچے ، اسی طرح نقش و نگار والی جگہوں اور رنگ دار فرش پر بھی نماز نہ پڑھے ، امید ہے اس طرح قلبی خیالات سے کافی حد تک حفاظت ہوگی  

****دل میں آنے والے خیالات کبھی کسی کام کے سبب بھی ہوتے ہیں کہ دل اس وقت اس کی طرف مشغول ہوتا ہے ۔ اس کی تدبیر یہ ہے کہ اس کام سے پہلے فراغت حاصل کرے پھر نماز پڑھے۔ اس لیے رسول اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا : " یعنی جب نماز اور کھانے کا وقت ساتھ ہی آئے تو پہلے کھانا کھائے"۔ اگر کوئی بات کہنا ہو تو کہہ لے پھر فراغت سے نماز پڑھ لے ۔ 

*****ذکر و قرآن جو نماز میں پڑھا جاتا ہے ان کے معنوں میں غور تفکر کرنے سے بھی نماز میں خشوع حاصل ہوتا ہے۔