عاجزی و انکساری

[۱] لوگوں کی طبیعتوں اور اُن کے مقام و مرتبے کے اعتبار سے ان کے لیے نرمی کا پہلو اختیار کرنا اور اپنے آپ کو حقیر و کمتر اور چھوٹا خیال کرنا عاجزی و انکساری کہلاتا ہے۔ 

[۲]الله عزّ وجل قرآن مجید میں ارشاد فرماتا ہے :"..... اور عاجزی کرنے والے اور عاجزی کرنے والیاں .... ان سب کے لئے اللہ نے بخشش اور بڑا ثواب تیار کر رکھا ہے"۔ 

[۳]نبی کریم ﷺ نے ارشاد فرمایا : " جو شخص الله عز و جل کے لئے عاجزی کرتا ہے اللہ عز وجل اسے بلندی عطا فرماتا ہے" ۔ 

[۴]عاجزی و انکساری کا حکم :اپنے آپ کو تکبر سے بچانا اور عاجزی و انکساری اختیار کرنا ہر مسلمان پر لازم ہے ، البتہ دیگر اخلاق کی طرح عاجزی کے بھی تین درجے ہیں۔ 

'۱'-اگر عاجزی ایسی ہو جس میں زیادتی کی طرف مَیلان ہو تو اسے تکبر کہتے ہیں اور یہ ناجائز و حرام و جہنم میں لے جانے والا مذموم کام ہے۔ 

'۲'- اگر عاجزی ایسی ہو جس میں کمی کی طرف میلان ہو تو اسے کمینگی و ذلت کہتے ہیں مثلا کسی عالم دین کے پاس کوئی موچی آئے اور وہ اس کے لیے اپنی جگہ چھوڑ دےاوراسے اپنی جگہ بٹھائے، پھر آگے بڑھ کر اس کے جوتے سیدھے کرے اور پیچھے پیچھےدروازے تک جائے تو اس عالم نے ذلت و رسوائی کو گلے لگایا ۔ یہ ناپسندیدہ بات ہے ۔

بلکہ اللہ عز و جل کے ہاں اعتدال پسندیدہ ہے یعنی ہر حقدار کو اس کا حق دیا جائے اس طرح کی عاجزی اپنے ساتھیوں اور ہم پلہ لوگوں کے ساتھ بہتر ہے۔ عام آدمی کے لیے عالم کی طرف سے تواضع اسی قدر ہے کہ جب وہ آجائے تو کھڑے ہو کر اس کا استقبال کرے ، خندہ پیشانی سے گفتگو کرے ، اس کے سوال کا جواب دینے میں نرمی کرے ، اس کی دعوت قبول کرے ، اس کی ضرورت پوری کرنے کی کوشش کرے اور خود کو اس  سےبہتر نہ سمجھے، بلکہ دوسروں کی نسبت اپنے بارے میں زیادہ خوف رکھےنیز اسے حقارت کی نظر سے دیکھے نہ ہی چھوٹا سمجھے ، کیونکہ اسے اپنے انجام کی خبر نہیں ۔ 

'۳'- اگر عاجزی ایسی ہو کہ جس میں میانہ روی ہو یعنی اپنے ہم پلہ اور کم مرتبہ لوگوں کے ساتھ برابر کی عاجزی کرے ، نہ تو خود کو ذلت و کمینگی والی جگہ پر پیش کرے ، نہ ہی بلندی کی طرف میلان ہو تو ایسی عاجزی شرعاً محمود یعنی قابل تعریف ، باعث اجر و ثواب اور جنت میں لے جانے والا کام ہے ۔ 

[۵]عاجزی کا ذہن بنانے اور اپنانے کے طریقے 

'۱'- عاجزی کے فضائل کا مطالعہ کیجئے ۔ چند فضائل درج ذیل ہیں 

عاجزی کرنے والے کے لیے فرشتے بلندی کی دعا کرتے ہیں ۔ اللہ عز و جل جسے محبوب رکھتا ہے اسے عاجزی بھی عطا فرماتا ہے۔ عاجزی کرنے والے کو ساتویں آسمان تک بلندی عطا کی جاتی ہے ۔ عاجزی کرنے والے پر اللہ عز وجل رحم فرماتا ہے ۔

'۲'-عاجزی سے متعلق بُزُرگانِ دین کے فرامین کا مطالعہ کیجئے۔

امیر المؤمنین سیدنا فاروق اعظم رضی اللہ عنہ فرماتے ہیں: " بندہ جب اللہ عزوجل کے لیے عاجزی اختیار کرتا ہے تو اللہ عز وجل اس کی لگام بلند کرتا ہے اور اللہ عزوجل کی طرف سے مقرر فرشتہ کہتا ہے : اُٹھ کہ اللہ عز وجل تجھے بلندی عطا فرمائے" ۔ 

ام المومنین سیدتنا عائشہ صدیقہ رضی اللہ عنہا فرماتی ہیں : " تم لوگ افضل عبادت یعنی عاجزی سے غافل ہو"۔ 

'۳'-عاجزی نہ کرنے کے نقصانات پر غور کیجئے ۔ 

حضرت سیدنا قتادہ رحمتہ اللہ علیہ فرماتے ہیں: " جس شخص کو مال ، جمال ، لباس یا علم دیا گیا پھر اس نے اس میں عاجزی اختیار نہ کی تو یہ نعمتیں قیامت کے دن اس کے لیے وبال ہوں گی"۔ 

'۴'- تکبر کے اسباب و علاج کی معرفت حاصل کیجئے۔

 کیونکہ تکبر عاجزی کی ضد ہے  جب تک آپ تکبر کے اسباب کی معلومات حاصل کر کے ان کا علاج نہیں کریں گے تب تک آپ کی ذات میں عاجزی پیدا نہیں ہوگی ۔ 

'۵'- تکبر کی علامات سے خود کو بچائیے : کہ اس طرح خود بخود عاجزی پیدا ہو جائے گی۔ 

'۶'- اپنے صلاحیتوں کے قصیدے پڑھنے سے بچئے ۔ یہ خود پسندی ہے جو باطنی بیماری ہے ، جب بندہ خود پسندی میں مبتلا ہو جاتا ہے تو پھر عاجزی و انکساری اس سے رخصت ہو جاتی ہے۔ 

'۷'-محاسبہ نفس کیجئے ۔

 عموماً بندے کے سامنے جب اس کی خوبیاں ہی بیان ہوں تو وہ تکبر میں مبتلا ہو جاتا ہے اور عاجزی نہیں کرتا۔ لہذا اپنے نفس کا محاسبہ کرے کہ اس طرح اس کی خامیاں سامنے آجائیں گی اور اس کے لیے عاجزی کرنا آسان ہو جائے گا ۔

'۸'-ہر مسلمان کو اپنے سے اعلیٰ و برتر جانیے ۔ 

جب بندہ اپنے آپ کو کسی سے اعلیٰ وبرتر جانتا ہے تو تکبر میں مبتلا ہو جاتا ہے ، عاجزی اختیار نہیں کر سکتا، لہذا ہر مسلمان کو اپنے سے اعلیٰ و برتر جانیے کہ اس طرح دل میں عاجزی و انکساری پیدا ہوگی۔

'۹'- فضول گفتگو سے بچتے ہوئے فقط کام کی گفتگو کیجئے 

کہ جن افراد کے دل عاجزی سے بھر پور ہوتے ہیں وہ یہ  عمل اختیار کرتے ہیں جبکہ عاجزی سے خالی دل رکھنے والا شخص سننے سے زیادہ دوسروں کو سنانے کی کوشش کرتا ہے۔ 

'۱۰'- شکریہ کے ساتھ غلطی قبول کیجیے 

عاجزی و انکساری پیدا کرنے میں یہ بات نہایت ہی مدد گار ہے، بندہ جب اپنی غلطی کو شکریہ کے ساتھ تسلیم کرتا اور اس کی اصلاح کی کوشش کرتا ہے تو اُس کا نفس خود بخود عاجزی کرنے پر مجبور ہو جاتا ہے ، اللہ عز و جل کے نیک بندے کبھی بھی اپنی خامیوں کا دفاع نہیں کرتے بلکہ اپنی غلطی کو قبول کر کے اس کی اصلاح کی کوشش کرتے ہیں۔ 

'۱۱'-دوسروں میں اچھائیاں ڈھونڈ کر عاجزی کیجئے 

کہ یہ عاجزی اختیار کرنے کا آسان طریقہ ہے مثلا کسی عالم کو دیکھ کر دل میں سوچے کہ علم کی وجہ سے میں کبھی بھی اس کی برابری نہیں کر سکتا ہوں،اس سے دل میں عاجزی پیدا ہوگی۔