امر بالمعروف و نہی عن المنکر

[۱] اللہ تعالٰی کا فرمان ہے : " اور تم میں ایک ایسا گروہ ہونا چاہئے کہ بھلائی کی طرف بلائے اور اچھی بات کا حکم دے اور بری بات سے منع کرے اور یہی لوگ فلاح پانے والے ہیں"۔ 

[۲]اور فرماتا ہے: " تم بہتر ہو اُن سب اُمتوں میں جو لوگوں میں ظاہر ہوئیں بھلائی کا حکم دیتے ہو اور برائی سے منع کرتے ہو اور اللہ پر ایمان رکھتے ہو"۔ 

[۳]رسول الله صلی اللہ علیہ وسلم نے ارشاد فرمایا : " تم میں جو شخص بری بات دیکھے اُسے اپنے ہاتھ سے بدل دے اور اگر اس کی استطاعت نہ ہو تو زبان سے بدلے اور اس کی بھی استطاعت نہ ہو تو دل سے یعنی اُسے دل سے برا جانے اور یہ کمزور ایمان والا ہے"۔ [۴] رسول الله صلی اللہ علیہ وسلم نے ارشاد فرمایا : " قسم ہے اس کی جس کے ہاتھ میں میری جان ہے یا تو اچھی بات کا حکم کرو گے اور بُری بات سے منع کرو گے یا اللہ تعالیٰ تم پر جلد اپنا عذاب بھیجے گا پھر دعا کرو گے اور تمہاری دعا قبول نہ ہوگی " ۔

[۵]آپﷺ نے فرمایا:" جب زمین میں گناہ کیا جائے تو جو وہاں موجود ہے مگر اُسے برا جانتا ہے وہ اس کی مثل ہے جو وہاں نہیں ہے اور جو وہاں نہیں ہے مگر اس پر راضی ہے وہ اس کی مثل ہے جو وہاں حاضر ہے" ۔

[۶]آپﷺ نے فرمایا:"  چند مخصوص لوگوں کے عمل کی وجہ سے اللہ تعالٰی سب لوگوں کو عذاب نہیں کرے گا مگر جب کہ وہاں بری بات کی جائے اور وہ لوگ منع کرنے پر قادر ہوں اور منع نہ کریں تو اب عام و خاص سب کو عذاب ہوگا"۔

[۷]امر بالمعروف یہ ہے کہ کسی کو اچھی بات کا حکم دنیا مثلاً کسی سے نماز پڑھنے کو کہنا اور نہی عن المنکر کا مطلب یہ ہے کہ بری باتوں سے منع کرنا ۔ یہ دونوں چیزیں فرض ہیں۔ 

[۸]امر بالمعروف کے لئے پانچ چیزوں کی ضرورت ہے۔ 

'۱'- علم - کہ جسے علم نہ ہو اس کام کو اچھی طرح انجام نہیں دے سکتا ہے۔

'۲'- مقصد اللہ تعالیٰ کی رضا و خوشنودی اور حق بات کو بلند کرنا ہونا چاہیے۔

'۳'- جس کو حکم دینا ہے اس کے ساتھ شفقت ، مہربانی اور نرمی کے ساتھ پیش آئے۔

'۴'- حکم کرنے والا صابر اور بردبار ہو ۔ 

'۵'-یہ شخص خود اس بات پر عامل ہو۔ 

[۹]امر بالمعروف کی کئی صورتیں ہیں :

'۱'- اگر غالب گمان یہ ہے کہ یہ ان سے کہے گا تو وہ اس کی بات مان لیں گے اور بری بات سے باز آجائیں گے تو امر بالمعروف واجب ہے اس کام سے باز رہنا جائز نہیں۔

 '۲'-اگر غالب گمان ہے کہ وہ طرح طرح کی تہمت باندھیں گے اور گالیاں دیں گے تو ترک کرنا افضل ہے ۔

'۳'- اگر یہ معلوم ہے کہ وہ اسے ماریں گے اور یہ صبر نہ کر سکے گایا اس کی وجہ سے فتنہ و فساد پیدا ہوگا آپس میں لڑائی ٹھن 

جائے گی جب بھی چھوڑنا افضل ہے ۔

'۴'- اگر معلوم ہو کہ وہ اگر اسے  ماریں گے تو صبر کر لے گا تو ان لوگوں کو برے کام سے منع کرے اور یہ شخص مجاہد ہے۔

'۵'- اور اگر معلوم ہے کہ وہ مانیں گے نہیں مگر نہ ماریں گے اور نہ گالیاں دیں گے تو اسے اختیار ہے اور افضل یہ ہے کہ امر کرے ۔ '۶'- اگر اندیشہ ہے کہ ان لوگوں کو امر بالمعروف کرے گا تو قتل کر ڈالیں گے اور یہ جانتے ہوئے اس نے کیا اور ان لوگوں نے مار ہی ڈالا تو یہ شہید ہوا۔ 

[۱۰]اُمراء کے ذِمہ‎ امر بالمعروف ہاتھ سے ہے کہ اپنی قوت اور پہنچ سے اس کام کو روک دیں۔ اور علماء کے ذمہ زبان سے ہے کہ اچھی بات کرنے کو اور بُری بات سے باز رہنے کو زبان سے کہہ دیں اور عوام الناس کے ذمہ دل سے برا جاننا ہے ۔ یہاں عوام سے مراد وہ لوگ ہیں کہ ان میں نہ ہاتھ سے روکنے کی ہمت ہے اور نہ زبان سے منع کرنے کی جرات -قوم کے چودھری اور زمیندار وغیرہ بہت سے عوام ایسی حیثیت رکھتے ہیں کہ ہاتھ سے روک سکتے ہیں ان پر لازم ہے کہ روکیں ایسوں کے لئے فقط دل سے برا جاننا کافی نہیں ۔عام شخص کو یہ نہ چاہئے کہ قاضی یا مفتی یا مشہور و معروف عالم کو امر بالمعروف کرے کہ یہ بے ادبی ہے۔ کبھی ایسا بھی ہوتا ہے کہ یہ لوگ کسی مصلحت خاص سے ایک فعل کرتے ہیں جس تک عوام کی نظر نہیں پہنچتی اور یہ شخص سمجھتا ہے کہ جیسے ہم نے کیا انہوں نے بھی کیا حالانکہ دونوں میں بہت فرق ہوتا ہے۔ 

[۱۱] جس نے کسی کو برا کام کرتے دیکھا اور خود یہ بھی اس برے کام کو کرتا ہے تو اس برے کام سے منع کردے کیوں کہ اس کے ذمہ دو چیزیں واجب ہیں برے کام کو چھوڑنا اور دوسرے کو بُرے کام سے منع کرنا ۔ اگر ایک واجب کا تارک ہے تو دوسرے کا تارک کیوں بنے۔ 

[۱۲]ایک شخص برا کام کرتا ہے اس کے باپ کے پاس شکایت لکھ کر بھیجی جائے یا نہیں :اگر معلوم ہے کہ اس کا باپ منع کرنے پر قادر ہے اور وہ منع بھی کر دے گا تو لکھ کر بھیج دے اسی طرح شوہر بیوی ، بادشاہ و رعایا اور آقا و ملازمین کا معاملہ ہے کہ اگر لکھنا مفید ہو تو لکھ ۔ 

[۱۳] ایک شخص کو دوسرے کا مال چراتے دیکھا ہے مگر مالک کو خبر دیتا ہے تو چور اس پر ظلم کرے گا تو خاموش ہو جائے اور یہ اندیشہ نہ ہو تو خبر کر دے۔ 

[۱۴] کسی کو گناہ کرتے دیکھے تو نہایت آرام اور نرمی کے ساتھ اسے منع کرے اور اسے اچھی طرح سمجھائے۔ پھر اگر اس طریقہ سے کام نہ چلا وہ شخص باز نہ آیا تو اب سختی سے پیش آئے ۔ اُس کو سخت الفاظ کہے مگر گالی نہ دے نہ فحش لفظ زبان سے نکالے ۔ اور اس سے بھی کام نہ چلے تو جو شخص ہاتھ سے کچھ کر سکتا ہے کرے مثلاً وہ شراب پیتا ہے توشراب بہادے برتن توڑپھوڑ ڈالے ۔گا تا بجاتا ہے تو باجے توڑ ڈالے ۔