قَناعَت

[۱]قناعت کا لغوی معنی قسمت پر پر راضی رہنا ہے۔

[۲] قناعت یہ ہے کہ انسان کی قسمت میں جو رزق لکھا ہے اس پر اس کا نفس راضی رہے ، اگر تنگدستی ہونے اور حاجت سے کم ہونے کے باوجود صبر کیا جائے تو اسے بھی قناعت کہتے ہیں۔

[۳] رسول الله صلی اللہ علیہ وسلم نے ارشاد فرمایا : " الله عز و جل پر ہیز گار ، قناعت پسند اور گمنام بندے کو پسند فرماتا ہے" ۔ 

[۴] قناعت  کی اہمیت - قناعت حضور نبی رحمت صلی اللہ علیہ وسلم کی سنت ، صحابہ کرام اور اولیائے کرام کی مبارک سوغات[ نایاب تحفہ] ہے ، ہر مسلمان کو چاہیے کہ اس سوغات کو حاصل کرے ، قناعت الله عز وجل کا محبوب بننے، اس کی رضا پانے، قبر و حشر میں آسانی فراہم کرنے اور جنت میں لے جانے والا کام ہے۔ 

قناعت کا ذہن بنانے اور اسے اختیار کرنے کے طریقے 

[۱]قناعت کے فضائل کا مطالعہ کیجئے ۔ قناعت کے فضائل پر مشتمل چند روایات یہ ہیں:

'۱'-" اس شخص کے لیے خوشخبری ہے جسے اسلام کی طرف ہدایت حاصل ہوئی اس کی روزی بقدر کفایت ہے اور وہ اس پر قناعت کرتا ہے"۔

'۲'-" کل بروز قیامت الله عز وجل منتخب اور چنے ہوئے لوگوں کو طلب فرمائے گا اور وہ اللہ عزوجل کے عطا کردہ رزق پر قناعت کرنے اور اُس کی تقدیر پر راضی رہنے والے ہوں گے"۔ 

[۲]قناعت سے متعلق اقوال بزرگان دین کا مطالعہ کیجئے ۔ 

'۱'- حضرت سیدنا بشر حافی رحمتہ اللہ علیہ فرماتے ہیں کہ "قناعت ایک فرشتہ ہے جو صرف مؤمن کے دل میں رہتا ہے"۔

'۲'- حضرت سیدنا ذوالنون مصری علیہ  رحمہ نے فرمایا کہ" جو شخص قناعت اختیار کرتا ہے وہ اہل زمانہ سے آرام پاتا ہے اور تمام لوگوں سے سبقت لے جاتا ہے"۔ 

[۳]رب تعالٰی پر کامل یقین رکھیے 

دنیا و آخرت میں کامیابی کا بنیادی اُصول' الله عزوجل پر کامل یقین' ہے، کیوں کہ بے یقینی کا ایک لمحہ کامیابی کے حصول کے لیے سالہا سال کی جانے والی محنت پر پانی پھیر دیتا ہے جبکہ بسا اوقات ساری زندگی ناکام ہونے والے شخص کو لمحہ بھر کا یقین کامیابی سے ہمکنار کروا دیتا ہے لہذا اللہ عزوجل کی رحمت پر یقین رکھیے کیوں کہ آپ کے یقین کی قوت قناعت کا جذبہ بیدار کرنے میں بے حد مددگار ثابت ہوگی۔

[۴]حساب قیامت سے خود کو ڈائیے 

اگرچہ ضرورت و حاجت سے زائد مال کمانا مباح ہے لیکن یاد رکھیے جس کا مال جتنا زیادہ ہوگا بروز قیامت اس کا حساب کتاب بھی اتنا ہی زیاد ہوگا ، جبکہ قلیل مال والے لوگ جلدی جلدی حساب کتاب سے فارغ ہو جائیں گے ، لہذا حساب قیامت سے خود کو ڈرائیے ، اس سے بھی قناعت اختیار کرنے میں بھر پور مدد ملے گی ۔ 

[۵]قناعت پسندوں کی صحبت اختیار کیجیے

کہ صحبت اثر رکھتی ہے ، عموماً دیکھا گیا ہے جب بندہ فضول خرچ اور عیاش لوگوں کی صحبت اختیار کرتا ہے تو وہ فضول خرچی جیسی بیماری میں مبتلا ہو جاتا ہے اور پھر اپنی عیاشیاں پوری کرنے کے لیے حرام و ناجائز طریقے سے مال کمانے لگ جاتا ہے ، جس سے قناعت رخصت ہو جاتی ہے ، لہذا قناعت پسند لوگوں کی صحبت اختیار کیجئےکہ اس سے آپ کو بھی قناعت کی دولت نصیب ہوگی ۔ 

[۶]مال و دولت کی حرص کا خاتمہ کیجیے۔ 

[۷]قناعت کے اجزاء کو حاصل کیجئے 

'۱'- جب اس کے اجزاء حاصل ہو جائیں گے تو قناعت بھی خود بخود حاصل ہو جائے گی ۔

'۲'- قناعت تین چیزوں سے مرکب ہے : عمل ، صبر، علم ۔ پہلی چیز عمل ہے یعنی معیشت میں اعتدال اور خرچ میں کفایت اختیار کرنا ۔ جو شخص قناعت میں بزرگی چاہتا ہے اُسے چاہئے کہ کم خرچ کرے۔ دوسری صبر ہے کہ بندہ اپنے نفس پر صبر کرے اور خواہشات کو کم کرے تاکہ وہ کسی  دوسرے حال میں بھی حاجت کی وجہ سے پریشان نہ ہو۔ تیسری چیز علم ہے کہ وہ اس بات کو جان لے کہ قناعت میں عزّت اور سوال کرنے سے بچت ہے جبکہ طمع میں ذلت ہی ذلت ہے ، پس یوں حرص سے جان چھڑا لے اور قناعت کو پالے ۔