اللہ تعالیٰ کی رضا پر راضی رہنا

[۱]خوشی ،غمی، راحت ، تکلیف ، نعمت ملنے ، نہ ملنے ، الغرض ہر اچھی بُری  حالت یا تقدیر پر اس طرح راضی رہنا ، خوش ہونا یا صبر کرنا کہ اس میں کسی قسم کا کوئی شکوہ یا واویلا وغیرہ نہ ہو' اللہ عزوجل کی رضا پرراضی رہنا' کہلاتا ہے۔

[۲] رضا سے متعلق مختلف صورتیں 

'۱'-دعا مانگنا ، گناہوں سے نفرت کرنا ، گناہوں سے بچنے کی دعا کرنا، مغفرت طلب کرنا ، گناہ کے مرتکب سے ناراض ہونا ، اسباب گناہ کو برا جاننا ،اس پر راضی نہ ہونا ، امر بالمعروف و نہی عن المنکر کے ذریعے اس کو ختم کرنے کی کوشش کرنا ، گناہوں والی سرزمین سے بھاگنا اور اس کی مذمت کرنا ،  دین پر مدد کرنےوالے اسباب کو اختیار کرنا، یہ تمام اُمور رضا کے خلاف نہیں ہیں ۔

'۲'-شکوہ کے طور پر مصیبت کا اظہار کرنا ، دل سے اللہ عز و جل پرناراض ہونا ،کھانے کی اشیاء کو برا کہنا اور ان میں عیب نکالنا ، یہ تمام اموررضا کے خلاف ہیں۔ 

[۳]ہر مسلمان پر لازم ہے کہ ہر حال میں اللہ عز وجل کی رضا پر راضی رہے ، رضائے الہی پر راضی رہنا نجات دلانے اور جنت میں لے جانے والا کام ہے ۔ 

[۴]الله عز وجل کا ارشاد ہے : " الله ان سے راضی اور وہ اللہ سے راضی یہ ہے بڑی کامیابی"۔

[۵] رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے صحابہ کرام علیہم الرضوان کی ایک جماعت سے سوال کیا : " تم لوگ کیا ہو ؟" انہوں نے عرض کی : " ہم مؤمن ہیں"،آپ نے سوال کیا : " تمہارے ایمان کی کیا نشانی ہے"؟، عرض کی: "ہم آزمائشوںپر صبر کرتے ہیں ، آسودگی میں شکر الہی بجالاتے ہیں اور رب تعالیٰ کی تقدیر پر راضی رہتے ہیں"۔ آپ ﷺنے فرمایا: " ربّ کعبہ کی قسم ! تم مؤمن ہو"۔

[۶]امیر المومنین حضرت سیدنا عمر فاروق اعظم رضی اللہ عنہ نے فرمایا تھا کہ : " مجھے کوئی پرواہ نہیں کہ تو نگری (مالداری) کی حالت میں صبح کروں یا فقر کی حالت میں کیونکہ میں نہیں جانتا کہ ان دونوں میں سے میری لیے کون سی حالت بہتر ہے"۔ 

[۷]اللہ تعالیٰ کی رضا پر راضی رہنے کے طریقے 

'۱'- رضائے الہی پر راضی رہنے کے فضائل پر غور کیجئے: بنی پاک صلی اللہ علیہ وسلم کا ارشاد ہے : " جو شخص تھوڑے رزق پر اللہ ﷻسے راضی رہے، الله عز وجل بھی اس کے تھوڑے عمل پر راضی ہو جاتا ہے"۔ آپ ﷺکا فرمان ہے : " جب الله عز وجل کسی بندے سے محبت کرتا ہے تو اس کو آزمائش میں مبتلا کرتا ہے پس اگر بنده صبر کرے تو وہ اُس کو چن لیتا ہے اور اگر راضی رہے تو اس کو بَرگزیدہ بنا لیتا ہے"۔ 

'۲'- رضائے الہی پر راضی رہنے سے متعلق بزرگانِ دین کے اقوال کا مطالعہ کیجئے :  حضرت سیدنا ابن عباس رضی اللہ عنہ فرماتے ہیں: " بروز قیامت سب سے پہلے ان لوگوں کو جنت کی طرف بلایا جائے گا جو ہر حال میں اللہ عزوجل کا شکر کرتے ہیں"۔ 

حضرت سیدنا ابو درداء رضی اللہ عنہ فرماتے ہیں: " ایمان کی سربلندی حکم الٰہی پر صبر کرنا اور تقدیر پر راضی رہنا ہے"۔ 

'۳'-"کیوں" اور "کیسے "کو اپنی زندگی سے نکال دیجئے : "کیوں" اور"کیسے" الفاظ اللہ عزوجل کی رضا پر راضی رہنے کے خلاف ہیں  ایک مشہور حدیث   قدسی میں ہے کہ الله عز وجل ارشاد فرماتا ہے : " میں نے خیر اور شر کو پیدا کیا  تواس شخص کے لیے خوشخبری ہے جس کو میں نے خیر کے لیے پیدا کیا اور اس کے ہاتھوں پر خیر کو جاری کیا اور اس شخص کے لیے خرابی ہے جس کو میں نے شر کے لیے پیدا کیا اور اس کے ہاتھوں پر شر کو جاری کیا اور اس شخص  کےلیے ہلاکت ہی ہلاکت ہے جو کہے: کیوں اور کیسے ؟ -

'۴'-"اگر" اور "کاش " کو بھی اپنی زندگی سے نکال دیجئے: یہ دونوں الفاظ بھی اللہ عزوجل کی رضا پر راضی رہنے میں بہت بڑی رکاوٹ ہیں ۔دیکھا گیا ہے کہ جب کوئی تکلیف یا مصیبت پہنچتی ہے ، کوئی مالی نقصان پہنچتا ہے۔  تو یہ کہتے نظر آتے ہیں کہ" اگر میں یوں کر لیتا تو نقصان نہ ہوتا یا کاش ! میں  یوں کر لیتا " وغیرہ وغیرہ ۔ عقلمندی اسی میں ہے کہ بندہ ہر کام کو سوچ سمجھ کر کرے ، اس کے فوائد اور نقصانات پر پہلے ہی غور و فکر کرلے ، پھر اس کے کرنے پرنفع ہو یا نقصان اسے تقدیر الہی جانتے ہوئے راضی رہے ، اس پر شکوہ شکایت نہ کرے ، واویلا نہ مچائے بلکہ ظاہری اسباب کو اختیار کرتے ہوئے آئندہ کے لیے کوشش کرے۔ 

'۵'-تکلیف پر ملنے والے ثواب پر غور کیجئے : تکلیف پر ملنے والے ثواب پر غور کرنے سے رضائے الہی پر راضی رہنے میں مدد ملے گی، فرمانِ مصطفے صلی اللہ علیہ وسلم ہے۔" مسلمان کو جو بھی مصیبت پہنچتی ہے حتّٰی کہ کانٹا بھی چبھتا ہے تو اس کے بدلے اس کے گناہ مٹا دیے جاتے ہیں "۔ 

'۶'-بڑی مصیبت کو پیش نظر رکھیے: جب بھی کوئی مصیبت یا تکلیف پہنچے تو اس سے بڑی مصیبت یا تکلیف کو پیش نظر رکھیے، مثلا ہاتھ پر زخم ہو جائے تو یوں ذہن بنائیے کہ میرے ہاتھ پر فقط زخم ہوا ہے ، اگر پورا ہاتھ ہی کٹ جاتا تو میری کیفیت کیا ہوتی ؟ اس سے بھی رضائے الہی پر راضی رہنے کا ذہن بنے گا ۔ 

'۷'-نیک لوگوں کی صحبت اختیار کیجئے : صحبت اثر رکھتی ہے، بندہ جب ایسے لوگوں کی صحبت اختیار کرتا ہے جن کی زبان ہر وقت شکوہ شکایت سے تر رہتی ہے۔ تو اس پر بھی اُن کا اثر ہو جاتا ہے اور یہ بھی اُس بیماری میں مبتلا ہو جاتا ہے، جبکہ صبر و شکر کرنے اور رضائے الہی پر راضی رہنے والے لوگوں کی صحبت اسے صابر و شاکر اور راضی رہنے والا بنا دیتی ہے۔