تفکر
[۱]تفکر کا معنی ہے غور و فکر گہری سوچ ۔ قرآن مقدس نے جگہ جگہ انسانوں کو اللہ تعالیٰ کی صفات ، کائنات کی پیدائش، چاند و سورج اور ستاروں اور کائنات کی مختلف اشیا کے بارے میں اور خود اپنی ذات کے اندر غور و فکر کرنے کی تلقین کی ہے۔
[۲]تفکر کی فضیلت - تفکر کی فضیلت اسی سے واضح ہے کہ اللہ تعالٰی نے قرآن پاک میں جگہ جگہ مختلف انداز میں انسانوں کو اس کی دعوت دی ہے پھر نبی پاک صلی اللہ علیہ وسلم کا یہ فرمانا کہ ایک گھڑی تفکر کرنا ایک سال کی عبادت سے بہتر ہے۔اس سے بھی تفکر کی فضیلت ظاہر ہوتی ہے۔
[۳] پہلے آیتیں ذکر کی جا رہی ہیں۔ الله تعالی ارشاد فرماتا ہے :
'۱'-" بے شک آسمانوں اور زمین کی پیدائش اور رات اور دن کی باہم بدلیوں میں نشانیاں ہیں عقل مندوں کے لیے "۔ یہ عقل مند لوگ کون ہیں؟ ان کے بارے میں فرمایا : " جو اللہ کی یاد کرتے ہیں کھڑے اور بیٹھے اور کروٹ پر لیٹے اور آسمانوں اور زمین کی پیدائش میں غور کرتے ہیں۔"
'۲'- اللہ تعالیٰ ارشاد فرماتا ہے :" اور وہی ہے جس نے زمین کو پھیلایا اور اس میں لنگر (مضبوط پہاڑ) اور نہریں بنائیں اور زمین میں ہر قسم کے پھل دو دو طرح کے بنائے ، رات سے دن کو چھپا لیتا ہے ، بے شک اس میں نشانیاں ہیں تفکر کرنے والوں کو " ۔
'۳'- " وہی ہے جس نے آسمان سے پانی اتارا ، اس سے تمہارا پینا ہے اور اس سے درخت ہیں جن سے چراتے ہو ، اس پانی سے تمہارے لیے کھیتی اُگاتا ہے اور زیتون اور کھجور اور انگور اور ہر قسم کے پھل ، بے شک اس میں نشانی ہے تفکر کرنے والوں کو" ۔
[۴]حضور سید عالم صلی اللہ علیہ وسلم نے ارشاد فرمایا : " عقل مند کے لیے یہ ضروری ہے کہ اس کا وقت چند کاموں میں بنٹا ہوا ہو ، کچھ گھڑی اس لیے خاص ہو کہ اس میں وہ اپنے رب سے مناجات کرتا ہو ، کچھ گھڑی اس لیے خاص ہو کہ اس میں وہ اپنے نفس کا محاسبہ کرتا ہو، کچھ گھڑی اس لیے خاص ہو کہ اس میں وہ اللہ تعالیٰ کی پیدا کرہ چیزوں میں تفکر کرے اور کچھ گھڑی اس لیے خاص ہو کہ اس میں وہ اپنی ضروریات یعنی کھانے پینے وغیرہ کے لیے فارغ ہو"۔
[۵]کائنات میں تفکر کی ضرورت
'۱'- جس طرح کسی کی عظمت، قدرت ، حکمت ، اور علم کی معرفت حاصل کرنے کا ایک اہم ذریعہ اس کی بنائی ہوئی چیز ہوتی ہے
کہ اس میں غور و فکر کرنے سے یہ سب چیزیں آشکار ہو جاتی ہیں اسی طرح اللہ تعالیٰ کی عظمت ، قدرت ، حکمت، وحدانیت اور اس کے علم کی پہچان حاصل کرنے کا بہت بڑا ذریعہ اس کی پیدا کی ہوئی یہ کائنات ہے ، اس میں موجود تمام چیزیں اپنے خالق کی وحدانیت پر دلالت کرنے والی اور اس کے عظیم قدرت والا ہونے پر دلالت کرتی ہیں اور ان میں تفکر کرنے سے خالق کائنات کی معرفت حاصل ہوتی ہے۔
'۲'- یہی وجہ ہے کہ قرآن مجید میں بکثرت مقامات پر اس کائنات میں موجود مختلف چیزوں جیسے انسانوں کی تخلیق، زمین و آسمان کی بناوٹ ، زمین کی پیداوار ہوا اور بارش ، سمندر میں کشتیوں کی روانی ، زبانوں اور رنگوں کا اختلاف وغیرہ بے شمار اشیاء میں غور و فکر کرنے کی دعوت اور ترغیب دی گئی تاکہ انسان ان میں غور و فکر کے ذریعے اپنے حقیقی رب عزوجل کو پہچانے ، صرف اسی کی عبادت بجا لائے اور اس کے تمام احکام پر عمل کرے ۔
'۳'-اس سے یہ بھی معلوم ہوا کہ نیت اگر نیک ہو تو اوپر ذکر کی گئی چیزوں سے متعلق سائنسی علوم سیکھنا بھی باعث ثواب ہو سکتا ہے۔ امام غزالی رحمتہ اللہ علیہ فرماتے ہیں " اندھا وہ ہی ہے جو اللہ تعالٰی کی تمام صنعتوں کو دیکھے لیکن انہیں پیدا کرنے والے خالق کی عظمت کا قائل نہ ہو اور اس کے جلال و جمال پر عاشق نہ ہو ۔ ایسا بے عقل انسان حیوانوں کی طرح ہے جو فطرت کے عجائبات اور اپنے جسم میں غور و فکر نہ کرے ، اللہ تعالیٰ کی عطا کردہ عقل جو تمام نعمتوں سے بڑھ کر ہے اسے ضائع کر دے اور اس سے زیادہ علم نہ رکھے کہ جب بھوک لگے تو کھانا کھا لیا ، کسی پر غصہ آئے تو جھگڑا کر لیا"۔
'۴'- معلوم ہوا کہ عقلمند لوگ وہی ہیں جو کائنات میں غور و فکر کرتے ہیں ، آسمانوں اور زمین کی پیدائش اور کائنات کے دیگر عجائبات میں غور کرتے ہیں اور ان کا مقصد اللہ تعالیٰ کی عظمت و قدرت کا زیادہ سے زیادہ علم حاصل کرنا ہے ایسا کرنے سے اللہ تعالیٰ کی عظمت ان پر آشکار ہوتی ہے اور ان کے دل الله عز وجل کی عظمت کے سامنے جھک جاتے ہیں اور ان کی زبانیں اللہ عز و جل کی عظمت کے ترانے پڑھتی ہیں۔