صالحین سے محبت

[۱]صالحین سے محبت کی تعریف - الله عز وجل کی رضا کے لیے اس کے نیک بندوں سے محبت رکھنا ، ان کی صحبت اختیار کرنا ، ان کا ذکر کرنا اور ان کا ادب کرنا "صالحین سے محبت "کہلاتا ہے۔ کیونکہ محبت کا تقاضا یہی ہے جس سے محبت کی جائے اس کی دوستی و محبت کو محبوب رکھا جائے ، اس کا ذکر کیا جائے۔ اس کا ادب و احترام کیا جائے ۔

[۲]الله عز وجل ارشاد فرماتا ہے : " بیشک وہ جو ایمان لائے اور اچھے کام کئے عنقریب ان کے لئے رحمٰن محبت کر دے گا" ۔ اس آیت کی تفسیر میں ہے: "یعنی اپنا محبوب بنائے گا اور اپنے بندوں کے دل میں ان کی محبت ڈال دے گا" ۔ بخاری و مسلم کی حدیث میں ہے کہ جب اللہ تعالیٰ کسی بندے کو محبوب کرتا ہے تو جبریل علیہ السلام سے فرماتا ہے کہ فلانا میرا محبوب ہے جبریل اس سے محبت کرنے لگتے ہیں پھر حضرت  جبریل علیہ السلام آسمانوں میں ندا (اعلان) کرتے ہیں کہ اللہ تعالیٰ فلاں کو محبوب رکھتا ہے سب اس کو محبوب رکھیں تو آسمان والے اس کو محبوب رکھتے ہیں پھر زمین میں اس کی مقبولیت عام کر دی جاتی ہے۔

[۳]اس سے معلوم ہوا کہ مومنینِ صالحین و اولیائے کاملین کی مقبولیتِ عامہ ان کی محبوبیت کی دلیل ہے جیسے کہ حضور غوثِ اعظم رَضِیَ اللّٰہُ تَعَالٰی عَنْہاور حضرت سلطان نظام الدین دہلوی اور حضرت سلطان سید اشرف جہانگیر سمنانی رَضِیَ اللّٰہُ تَعَالٰی عَنْہُم اور دیگر حضرات اولیائے کاملین کی عام مقبولیتیں ان کی محبوبیت کی دلیل ہیں ۔

[۴]نبی پاک صلی اللہ علیہ وسلم کا ارشاد ہے : '۱'- " جب تک تم نیک لوگوں سے محبت رکھو گے بھلائی پر رہوگے "۔

 '۲'- " نیک لوگوں کا ذکر گناہوں کے لئے کفارہ ہے"۔ '۳'-" (آخرت میں) آدمی اُسی کے ساتھ ہوگا جس سے (دنیا میں) محبت کرتا ہے"۔

[۵]الله عز وجل ارشاد فرماتا ہے : "وہی لوگ میری محبت کے حقدار ہیں جو میری وجہ سے ایک دوسرے سے ملاقات کرتے ہیں ، جو میری وجہ سے ایک دوسرے سے محبت کرتے ہیں"۔ 

[۶]صالحین یعنی نیک لوگوں سے محبت کرنا ، ان کا ذکر کرنا ، صحبت اختیار کرنا ، اور ادب و احترام کرنا شرعاً جائز و نیک ، باعث اجر و ثواب و جنت میں لے جانے والا کام ہے۔ حضور نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم کی محبت فرض ، عینِ ایمان بلکہ ایمان کی جان ہے ، اس کے بغیر کوئی مؤمن مؤمن نہیں، کوئی مسلمان مسلمان نہیں ۔ تمام صحابہ کرام ، اَہل بیت اَطہار، اَزواجِ مطہرات رِضْوَانُ اللّٰہِ تَعَالٰی عَلَیْہِمْ اَجْمَعِیْن کی محبت بھی عین سعادت ورحمت الٰہی سے خاتمہ بالخیر کی ضمانت ہے۔

[۷] صالحین سے محبت پیدا کرنے کا طریقہ

'۱'- الله تعالیٰ کے نیک بندوں کی سیرت اور اقوال کا مطالعہ کیجئے: صالحین  سے محبت پیدا کرنے کا یہ ایک بہترین طریقہ ہے۔ - 

'۲'- نیک لوگوں سے محبت کرنے والوں کی صحبت اختیار کیجئے: صحبت اثر رکھتی ہے ، جب بندہ نیک لوگوں سے محبت کرنے والوں کی صحبت میں بیٹھے گا تو رحمت الہی سے اسے بھی نیک لوگوں کی محبت نصیب ہو جائے گی ۔

'۳'- بدمذہبوں کی صحبت سے بچئے : وہ تمام لوگ جو انبیائے کرام ، صحابہ کرام، تابعین، تبع تابعین، ائمہ دین ، اولیائے کرام کے خلاف زبان طعن دراز کرتے ہیں ، ان کی صحبت سے بچئے کہ یہ دین کو ایسے تباہ و برباد کر کے رکھ دیتے ہیں جیسے آگ لکڑی کو جلا کر راکھ کر دیتی ہے ، بد مذہبوں کے ساتھ بیٹھنے والا لعنت میں میں گرفتار ہو جاتا ہے ۔ حضرت سیدنا فضیل بن عیاض رحمتہ اللہ علیہ نے ایک شخص کو نصیحت کرتے ہوئے ارشاد فرمایا : " بد مذہب کے ساتھ مت بیٹھ کیوں کہ مجھے تجھ پر لعنت اُترنے کا خوف ہے "۔ ایک بزرگ فرماتے ہیں:" اگر کسی راستے پر بد مذہب سے سامنا ہو جائے تو وہ راستہ چھوڑ کر دوسرا راستہ اختیار کرو"۔