شرم و حیا

[۱]حیا کی تعریف :

حیا بندے کی ایسی کیفیت (حالت) ہے جو بندے پر چھا جاتی ہے اور اسے عیب والا کوئی کام کرنے سے منع کرتی ہے۔ یعنی جس کام میں ذلت ہو ، رسوائی ہو ، شرمندگی ہو، ایسا کام کرنے سے جو کیفیت بندے کو روک دے ، اس کا نام حیا ہے۔ شرم اور حیا کے ایک ہی معنی ہیں ۔ شرم وحیا کی  دوسری تعریف یہ ہے ۔  " وہ صفت جو انسان کو اس کام یا چیز سے بچائے جسے الله عز وجل   اور اس کی مخلوق نا پسند

 کرتی ہو، اسے شرم و حیا کہتے ہیں۔

[۲] شرم وحیا کی اہمیت 

 نبی پاک صلی اللہ علیہ وسلم نے ارشاد فرمایا: 

'۱'-" بے شک حیا اور ایمان آپس میں ملے ہوئے ہیں، تو جب ایک اُٹھ جاتا ہے تو  دوسرا بھی اُٹھا لیا جاتا ہے"۔ 

'۲'- " بے شک ہر دین کا ایک خُلق ہے اور اسلام کاخُلق حیا ہے"۔

'۳'-"بے حیائی جس چیز میں ہو اسے عیب دار کر دیتی ہے اور حیاجس چیز میں ہو اسے زینت بخشتی ہے"۔

'۴'- "حیا ایمان کا حصہ ہے" یعنی جس میں جتنا ایمان زیادہ ہوگا اتنا ہی وہ شرم و حیا والا ہوگا جبکہ جس کا ایمان جتنا کمزور ہوگا ، شرم و حیا بھی اس میں اتنی ہی کمزور ہوگی ۔

'۵'- چار چیزیں انبیائے کرام کی سنتیں ہیں یعنی وہ تمام انبیائے کرام کے اندر پائی جاتی ہیں اُن میں پہلا خلق یا صفت حیا ہے یعنی تمام انبیائے کرام باحیا تھے۔

'۶'- حضرت عمران بن حصین رضی اللہ عنہ کہتے ہیں : " رسول الله ﷺ کنواری ، پردہ نشیں لڑکی سے بھی زیادہ با حیا تھے"۔ 

جانوروں میں بھی کئی اوصاف پائے جاتے ہیں جبکہ شرم و حیا ایک ایسا وصف ہے جو صرف انسانوں میں پایا جاتا ہے ۔ شرم وحیا کے ذریعے انسانوں اور جانوروں میں فرق ہوتا ہے۔ اب اگر کسی سے شرم و حیا جاتی رہے تو اس میں اور جانور میں کچھ خاص فرق نہیں رہ جاتا ہے۔ یہی وجہ ہے کہ ہمارے دین اسلام نے شرم و حیا اپنانے کی بہت ترغیب دلائی ہے۔

[۳]شرم وحیا اور زمانہ جاہلیت :

 سرکار دو عالم صلی اللہ علیہ وسلم کی دنیا میں جلوہ گری سے پہلے زمانہ جاہلیت میں عربوں میں بے حیائی اور بے شرمی عام تھی ۔ مرد و عورت کا میل جول، عورتوں کے ناچ گانے سے لطف اُٹھانا ، یہ سب اس وقت عام تھا۔ عرب کے بڑے بڑے شعراء عورتوں کی نازیبا حرکتوں اور اداؤں کا ذکر اپنی  شاعری میں فخریہ کرتے تھے ۔ لیکن جب پیکر و حیا ، جناب احمد مصطفے صلی اللہ علیہ وسلم دنیا میں تشریف لائے تو اب وہی معاشرہ جسے حیا چھو کے بھی نہیں گزری تھی ، وہاں شرم وحیا کا سازگار ماحول پیدا ہونے لگا ، اب اسی ماحول میں جناب عثمان غنی رضی اللہ عنہ جیسے لوگ پیدا ہونے لگے کہ جن کے بارے میں خود حبیب خدا صلی اللہ علیہ وسلم نے ارشاد فرمایا: " عثمان سے تو آسمان کے فرشتے بھی حیا کرتے ہیں"۔ اسی حیا پرور ماحول کا نتیجہ تھا کہ حضرت اُمّ خلاد رضی اللہ عنہا کا بیٹا جنگ میں شہید ہوا ،یہ اپنے بیٹے کے بارے میں معلومات حاصل کرنے کے لیے نکلیں ، لیکن اس وقت بھی چہرے پر نقاب ڈالنا نہیں بھولیں ، چہرے پر نقاب ڈال کر بارگاہ رسالت صلی اللہ علیہ میں حاضر ہوئیں تو اس پر کسی نے حیرت سے کہا :" آپ اس وقت بھی با پردہ ہیں ؟ تو اس پر بی بی اُمّ خلاد رضی اللہ عنہا کہنے لگیں : " میں نے اپنا بیٹا ضرور کھویا ہے ، مگر اپنی حیا نہیں کھوئی ، وہ اب بھی باقی ہے"۔

[۴]آج کل ہمارے معاشرے میں پھیلی ہوئی بے حیائیاں :

'۱'- فحش یعنی بے حیائی والی گفتگو کرنا ، گالیاں دینا ، چست یعنی بدن سے چپکا ہوا لباس پہننا اس طرح کہ اس سے بدن کے اعضا جھلکیں، گانے باجے سننا ، فلمیں ڈرامے دیکھنا ، گناہوں کا ارتکاب کرنا، حیا سوز ناول پڑھنا ، نامحرم مردوں اور عورتوں کا شادیوں اور دیگر رسومات کے نام پر ایک دوسرے میں آنا جانا ، بلا تکلف باتیں کرنا ، شرعی پردے کا لحاظ نہ کرنا وغیرہ۔ 

'۲'-تفریح گاہوں میں بے حیائیوں کے مناظر عام ہیں اور مزید بڑھ رہے ہیں۔ آج خواتین کی ایک تعداد ہے جو شرم و حیا کی چادر کو گھر رکھ کر بازاروں میں سر عام بے حیائی کو فروغ دیتی نظر آتی ہے اور وہ لوگ جن کی آنکھوں سے شرم و حیا رخصت ہو چکی ، وہ ایسیوں کو معاذ اللہ آنکھیں پھاڑ پھاڑ کر دیکھتے نظر آتے ہیں۔

'۳'-پہلے تو فلمیں اور ڈراموں کے بے حیائی والے مناظر صرف ٹی وی اور سنیما گھروں کی سکرینوں پر ہوتے تھے ، مگر آج موبائل کی سہولت نے ہر ایک کی ان تک رسائی عام اور آسان کردی ہے ۔ آج اجنبی اجنبیہ کے ساتھ اکیلا ہونے میں کوئی عار محسوس نہیں کرتا حالانکہ یہ سخت حرام ہے ۔ آج اجنبی اور اجیبہ باہم مطلاقات کرتے اور ایک دوسرے سے ہاتھ ملاتے اور بے شرمی سے مسکراتے نظر آتے ہیں ، آج شرعی پردے کو پرانے دور کے رواج میں شمار کیا جا رہا ہے ۔ آج مسلمان عورت بن سنور کر بنا پردے کے باہر نکلنے میں فخر محسوس کرتی ہے۔

'۴'- منگنی کے بعد لڑکے لڑکی کا میل جول : دیکھا گیا ہے کہ منگنی ہو جانے کے بعد لڑکے اور لڑکی کیلئے ایک دوسرے  کو دیکھنے ، ایک دوسرے سے بات چیت چیت کرنے، تحفے تحائف دینے ، اور میل جول رکھنے کے معاملے میں شرعی رکاوٹیں ختم کر دی جاتی ہیں، حالانکہ منگنی کے بعد بھی جب تک نکاح نہیں ہو جاتا ، لڑکا لڑکی ایک دوسرے کیلئے بالکل اسی طرح اجنبی اور نا محرم ہیں جیسے منگنی سے پہلے تھے ۔ نکاح سے پہلے اس طرح کے معاملات ناجائز و حرام اورجہنم میں لے جانے والے کام ہیں ۔

[۵]غیر محرم کے ساتھ تنہائی کی ممانعت: رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: " جو اللہ اور آخرت کے دن پر ایمان رکھتا ہے وہ ہرگز کسی ایسی غیر محرم عورت کے ساتھ خلوت اختیار نہ کرے جس کے ساتھ اُس کا محرم مرد نہ ہو کیونکہ ایسی صورت میں ان کے درمیان تیسرا شیطان ہوتا ہے"۔

[۶]شرم و حیا کے حصول کا طریقہ 

'۱'-ماحول اور تربیت کی اصلاح: حیا کی نشوونما میں ماحول اور تربیت کا بہت عمل دخل ہے۔ حیادار ماحول میسّر آنے کی صورت حیاء کو خوب نکھار ملتا ہے جبکہ بے حیاء لوگوں کی صحبت قلب و نگاہ کی پاکیزگی سلب کر کے بے شرم کر دیتی ہے اور بندہ بے شمار غیر اخلاقی اور ناجائز کاموں میں مبتلا ہو جاتا ہے اس لئے کہ حیاء ہی تو تھی جو برائیوں اور گناہوں سے روکتی تھی۔ جب حیاء ہی نہ رہی تو اب بُرائی سے کون روکے؟ ہمیں اپنے گھروں میں شرم و حیا سے ہم آہنگ ماحول پیدا کرنے کی کوشش کرنی چاہیے۔ گھروں میں شرم و حیا کی فضیلت اور اہمیت کا درس وقتاً فوقتاً دیتے رہنا چاہیے ، گھر والوں کو شرم وحیا پر ابھارنے والے واقعات سنانے چاہیں ۔

'۲'-گھر کے بڑوں کا چھوٹوں کے لیے عملی نمونہ بننا : اگر ہم اپنے گھر میں شرم وحیا کا ماحول بنانا چاہتے ہیں تو پہلے ہمیں خود اپنے اندر شرم و حیا پیدا کرنا ہوگی ۔ اگر ہماری خواہش ہے کہ ہمارے گھر والے بے پردگی سے بچیں تو پہلے ہمیں خودحیا کا پیکر بننا ہوگا۔ اگر ہم یہ چاہتے ہیں کہ ہمارے گھر والے غیر محرم کے پردے کو یقینی بنائیں تو پہلے ہمیں خود اس کی پاسداری کرنی ہوگی۔ اگر ہم یہ چاہتے کہ ہیں کہ ہمارے گھر میں ایسا لباس نہ پہنا جائے جو شرم و حیا کے خلاف ہے تو پہلے ہمیں بھی ایسے لباس کو چھوڑنا ہوگا ۔ غرض کہ اگر ہم یہ  چاہتے ہیں کہ ہمارے گھروں میں شرم و حیا والا ماحول بنے تو اس کی شروعات خود سے کرنی ہوگی ۔ گھر کے سرپرست کو چھوٹوں کے لیے عملی نمونہ بننا ہوگا تبھی گھر کے چھوٹے افراد شرم و حیا کی طرف راغب ہوں گے اور گھر میں ایک شرم وحیا والا ماحول بنے گا۔

'۳'- شیخ جنید بغدادی رحمتہ اللہ علیہ کے فرمان کے مطابق ہم جتنا اللہ تعالٰی کی نعمتوں پر غور کرتے چلے جائیں گے اور جتنا اپنے گناہوں پر نظر کرتے چلے جائیں گے ، اتنا طبیعت میں اللہ تعالیٰ کے سامنے حیاء بڑھتی چلی جائے گی۔